تھیٹر، فلم اور ٹی وی سے زیادہ پاور فُل میڈیم ہے، جہاں پر فن کاروں کو ان کی کارکردگی پر فوری رسپانس ملتا ہے، جب تھیٹر کمرشل ہوا تو اعلیٰ درجے کی کردار نگاری اور ڈائیلاگ پر زندگی کی ضرورتیں حاوی ہو گئیں ۔ ایک اسٹیج فن کار جو سب کو ہنسانے کے لیے پرفارمنس دیتا ہے، اس کے اپنے حالات زندگی کیا ہیں، اس کے گھر کے حالات کیا ہیں، وہ اندر سے کتنا پریشان ہے، ان سب کے ساتھ جب کم معاوضے دیے جاتے ہیں، تو اسٹیج کا جغرافیہ ہی تبدیل ہو گیا۔وزارتِ ثقافت سندھ نے تھیٹراور ڈراما کلچر کو فروغ دینے کے لیے اہم کردارادا کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کی، یہی وجہ ہے کہ حیدآباد تھیٹر پھر سے زندہ ہورہا ہے۔

ایک زمانہ وہ بھی تھا، جب سنجيدگی، معیار اور مقصدیت کے اعتبار سے حیدرآباد اسٹیج ڈراما پاکستان بھر میں نمایاں اہمیت کا حامل تھا۔ دنیائے فلم کے ممتاز و قد آور فن کاروں کاتعلق حیدرآباد شہر میں ہونے والے تھیٹر ڈراموں سے رہا ہے۔ شہر کی ثقافتی سرگرميوں کو صحت مند ماحول میسر تھا اوربڑی تعداد میں ڈرامے پیش ہوتے رہے۔ کراچی اور لاہور سے فن کار حیدرآباد آکر ناظرین کو خُوب صورت و موضوعاتی ڈرامے دکھاتے رہے۔ معین اختر اور عمر شریف نے بہت یاد گار تھیٹر پلے پیش کیے۔ 

پھر وہ وقت بھی آیا، جب ڈرامے کے پس منظر میں ایسے سینز ہونے لگے کہ تھیٹر سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا۔ ڈراما تمام شعبوں میں ناکام رہا، غیر معیاری اور دل چسپی سے خالی ڈرامے ہونے لگے۔ شائقین اسٹیج کا سنجيدہ طبقہ اسٹیج ڈراموں سے دور ہونے لگا۔ حیدرآباد کا اوپن ائیر تھیٹر ہو یا مہران آرٹس کونسل، اسٹیج ڈرامے نہ ہونے کے برابر ہوگئے ، ایسے میں رہی سہی کسر کورونا نے پُوری کردی،ملک بھر کی طرح حیدرآباد میں بھی تھیٹر ڈراموں پرپابندی عائد کر دی گئی، ایسے میں اسٹیج سےوابستہ معروف پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر سلیم گڈو میدان میں آئے اورمقامی فن کاروں کو بے شمار مسائل سے بچانے کے لیے سرگر ہوئے۔ وزارت کلچر، فن کاروں میں راشن و مالی امداد تقسیم کرتے نظر آئے۔ 

حیدرآباد میں تھیٹر پھر سے زندہ ہورہا ہے

تاہم ایسا کب تک ممکن تھا، ایسے میں سلیم گڈو نے وزارت ثقافت سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ڈراما کلچر کے فروغ کی بات کی اور یُوں گزشتہ سال 2021 میں وزارت ثقافت سندھ کی جانب سے ڈراما کلچر کے فروغ کے لیے قابلِ ستائش اقدامات کیے گئے۔ جس کے نتیچے میں حیدرآباد کے مہران آرٹس کونسل میں ہر ہفتے ایک اسٹیج ڈراما پیش کیا گیا۔ 20سال قبل کے گم شدہ معیار کی تلاش کرتے سلیم گڈو نظر آئے۔ 

معیاری اسکرپٹ وکہانی، ریہرسل، بلامقصد ڈراموں سینز کی شموليت کے بنا کہانی ربط میں دیتے ھوئے آگے بڑھنا، قبل اس کے ڈرامے کا آغاز کئے جانے سے قبل اسٹیج پر ہوسٹ کا آکر ڈراما کا خلاصہ پیش کرنا اور ڈرامے کے بساط کو 10بجے تک لپٹنا، یہ وہ تمام چیزیں تھیں، جو شائقین اسٹیج کو اختتام تک سنجيدگی کے ساتھ ڈراما دیکھنے پر مجبور کرتی تھی۔ 

ہدایت کار سلیم گڈو نے سلیقے کے ساتھ اداکاری کو برتنے والے فن کاروں کو کراچی سے لا کر حیدرآباد کے سینٸر فن کاروں کے ساتھ ڈرامے پیش گئے،جس سے تھیٹر کی رونق میں اصافہ ہوا، نیز یہ کہ شائقین کی بڑی تعداد فیملی کے ساتھ شرکت کرنے لگے، جسے شہر کی خاموش فضا میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔

اسٹیج ڈراموں میں سب سے حیران کُن بات یہ تھی کہ ڈرامے کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے پر محدود کردیا گیا، ابھی اردو اسٹیج ڈراموں کا مرکز کراچی صابطہ اخلاق کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ حیدرآباد میں پہل کرتے ہوئے انہوں نے ثابت کردیا کہ معیاری اسکرپٹ و کہانی، ریہرسل اور پابندی وقت کو اولین ترجيح دی جائے تو اسٹیج سے نالاں سنجیدہ شائقین کو ایک مرتبہ پھر واپس لایا جاسکتا ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Previous post ٹرمپ اکاؤنٹنٹس کا کہنا ہے کہ مالیاتی رپورٹیں ناقابل اعتبار ہیں۔
Next post ڈاکٹر سٹرینج آف دی ملٹیورس آف جنون میں آئرن مین کے طور پر ٹام کروز؟ شائقین سپر باؤل ٹریلر کا معائنہ کر رہے ہیں۔