یہ 70ء کی دہائی کا ذکر ہے،جب ایک خُوب صورت، خوش لباس متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والا 22سالہ نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے فلمی صنعت میں داخل ہوا۔ 1950ء قلعہ لچھن سنگھ لاہور میں پیدا ہونے والے اس نوجوان دائود بٹ کے والد غلام محمد بٹ کا شمار لاہور کے نامور ٹرانسپورٹر میں ہوتا تھا۔ دائود بٹ نے مسلم ماڈل ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ ان کے ایک کلاس فیلو امجد آشفتہ تھے، جن کے بڑے بھائی سلطان محمود آشفتہ کا شمار اس زمانے میں ایک نامور فلمی مصنف کے طور پر ہوا کرتا تھا۔ امجد آشفتہ سے دوستی کی بناء پر ان کے گھر آنا جانا تھا۔ 

دونوں دوست فلم بینی کے بے حد شوقین تھے۔ اکثر لاہور کے راوی کنارے جہاں فلموں کی آئوٹ ڈور شوٹنگیں ہوا کرتی تھیں۔ بٹ صاحب وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی فلم کی شوٹنگ دیکھ رہے تھے، تو سیٹ پر ہدایت کار کے سامنے بڑے بڑے فلمی اداکاروں کو مودبانہ دیکھ کر سوچنے لگے کہ یہ ہدایت کار میں کیا بندہ ہے، جس کے سامنے ہر کوئی با ادب کھڑا ہے۔ اس سوچ نے انہیں ہدایت کار بننے پر آمادہ کیا۔ 

والد صاحب کو جب پتہ چلا کہ ان کے بیٹے پر آج کل فلم ڈائریکٹر بننے کا بھوت سوار ہے، تو بیٹے سے مخاطب ہوئے کہ اگر تمہاری یہی مرضی ہے، تو پھر کچھ بن کر دکھانا۔ والد صاحب کے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے وہ اپنے دوست امجد آشفتہ کے پاس گئے اور انہیں ساری بات بتائی۔ امجد نے اپنے بڑے بھائی سلطان محمود آشفتہ سے ذکر کیا تو انہوں نے دائود بٹ کو معروف ہدایت کار الطاف حسین کی شاگردی میں دے دیا۔ 

اس طرح وہ الطاف حسین کے یونٹ میں شامل ہوگئے۔ ان دِنوں الطاف حسین پنجابی کلر فلم ’’انسان اک تماشہ‘‘ بنا رہے تھے۔ یہ 1972ء کا ذکر ہے، جب دائود بٹ کو ہدایت کار اسلم ڈار نے دیکھا تو کہا تم تو بنے بنائے ہیرو ہو، فلموں میں ہیرو کے طور پر کام کرو، لیکن وہ صرف اور صرف ہدایت کار بننے کا خواب لے کر فلمی صنعت میں آئے تھے اور جنون کی حد تک محنت کرتے رہے، یہاں تک کہ سیٹوں پر قالین اور صوفے تک لگاتے رہے۔ 

دل نال سجن دے۔ جھلی، آوارہ اور انجانا میں وہ ہدایت کار الطاف حسین کو اسسٹ کرتے رہے۔ آوارہ اور انجانا میں وہ معاون ہدایت کار سے چیف اسسٹنٹ ہوگئے تھے۔ انجانا ریلیز نہ ہو سکی، جن دنوں الطاف حسین، فلم دس نمبری کی ڈائریکشن دے رہے تھے، تو اس فلم کے پروڈیوسر خواجہ حنیف نے دائود بٹ کو بہ طور چیف اسسٹنٹ بڑی ذمے داری اور محنت سے کام کرتے ہوئے دیکھ کر اپنی نئی فلم ’’جیلر تے قیدی‘‘ کی ڈائریکشن دینے کا فیصلہ کر لیا۔ دائود بٹ نے اپنے استاد الطاف حسین کی اجازت سے اس فلم کی ڈائریکشن قبول کرلی۔ محمد کمال پاشا اس فلم کے مصنف تھے۔ 

فلم ساز اس فلم میں جیلر کا کردار لالہ سدھیر سے کروانا چاہتے تھے ، مگر وہ ان دنوں عمر رسیدہ ہوگئے تھے، دائود بٹ نے اس کردار کے لیے مصطفیٰ قریشی کا نام تجویز کیا اور واقعی وہ اس کردار میں سلطان راہی کے مد مقابل بے حد پسند کئے گئے، یہ پہلی فلم تھی، جہاں سے سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی بنی، جو بعد میں اس قدر مقبول ہوئی کہ پنجابی باکس آفس پر اس سے زیادہ کوئی اور جوڑی سیٹ نہ ہو سکی۔ ’’جیلر تے قیدی‘‘ کے ریلیز ہونے سے قبل دائود بٹ کو مزید دو چار فلمیں اور مل گئیں، یہ سب ایک ریکارڈ ہے کہ ایک نئے ہدایت کار کو اپنی پہلی فلم کے ریلیز سے قبل ہی مزید فلمیں ملیں۔ 

نیشنل ایوارڈ یافتہ ہدایتکار ’’داؤد بٹ‘‘

’’جیلر تے قیدی‘‘ لاہور کے مرکزی سنیما نگینہ میں 28نومبر1975 میں ریلیز ہو کر بے حد کام یاب رہی۔ اس فلم کا ایک گانا ؎ یار بادشاہ دلدار بادشاہ۔ بے حد مقبول ہوا۔ اس میں اداکارہ نِیلو اور اقبال حسن نے مرکزی کردار ادا کئے تھے۔ اس فلم کی کام یابی کے بعد دائود بٹ کا نام چلنے لگا، کئی فلم ساز ان سے اپنی فلمیں ڈائریکٹ کروانے کے لیے آئے، مگر انہوں نے زیادہ فلمیں کرنے سے گریز کیا اور ہمیشہ اتنا ہی کام اپنے ذمے لیا، جسے وہ دیانت داری سے انجام دے پاتے۔

ان کی ڈائریکشن میں بننے والی فلموں میں دادا، ڈنکا اورالارم نے بھی باکس آفس پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ فلم ڈنکا میں شامل ایک سپرہٹ گانا، جس کے بول تھے ؎ گڈی مانگوں اج مینوں سجناں اڈائی جا اڈائی جا۔ لاہور میں بسنت کے دنوں میں ہر جگہ سنائی دیتا تھا خالص اردو زبان میں انہوں نے فلم شیخ چلی کی ڈائریکشن دی، جس میں اداکار شاہد نے ٹائٹل رول کیا تھا، جب کہ رانی اس فلم کی ہیروئن تھیں۔

1983 میں ان کی ڈائریکشن میں بننے والی پنجابی فلم ’’کالا سمندر‘‘ ریلیز ہوئی، جس میں ممتاز، یوسف خان، مصطفیٰ قریشی اور عالیہ نے اہم کردار پلے کیے، جب کہ اسی کے ساتھ ہدایت کار یونس ملک کی پنجابی فلم دہشت خان نمائش پذیر ہوئی۔ یہ دونوں فلمیں ایک ہی کہانی پر مبنی تھیں اور مقابلہ بازی میں تیار کی گئی تھیں۔ یہ مقابلہ ہدایت کار دائود بٹ کے حق میں ہوا۔ کالا سمندر میں جو کردار مصطفیٰ قریشی نے کیا تھا، وہی کردار فلم دہشت خان میں اداکار حبیب نے کیا تھا، جب کہ رانی، شاہد اور انجمن نے بھی اہم رولز کیے تھے۔ 

نیشنل ایوارڈ یافتہ ہدایتکار ’’داؤد بٹ‘‘

عالیہ اور انجمن کے کردار دونوں فلموں میں یکساں تھے۔ عالیہ کی کردار نگاری ہر حوالے سے انجمن سے بڑھ کر تھی۔ اس فلم کا ایک سپرہٹ گانا جو اداکارہ ممتاز پر فلمایا گیا تھا ؎ اساں تیرے دل وچ رہنا کرا یہ دس منڈیا۔ اس دور میں لاہور کے پبلک ٹرانسپورٹ میں بے حد سنا جاتا رہا۔ 1985 میں ہدایت کار دائود بٹ کی ایک اور سپرہٹ پنجابی فلم ’’بابر خان‘‘ ریلیز ہوئی، جس میں یوسف خان اور رانی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ 

اس فلم کا ایک مقبول عام گانا ؎ کالا شاہ کالا میرا کالا اے دلدار نے گوریاں توں بڑے کرو۔ پنچابی میوزک کا ایک سپرہٹ اور سدا بہار گانا ہے۔ یہی وہ سال تھا، جب ہدایت کار دائود بٹ کو سپرہٹ پنجابی فلم ’’وڈیرا‘‘ بنانے پر نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ اس فلم کے آرٹ ڈائریکٹر جمال سیفی، اداکار مصطفیٰ قریشی، اداکار غلام محی الدین کو بھی نیشنل ایوارڈ ملے۔ یہ سپرہٹ کلاسیکل پنجابی فلم 20دسمبر 1985 کو لاہور کے شبستان اور کراچی کے گوڈین سنیما میں ریلیز ہوئی تھی۔ فلم ساز فاروق ملا، عکاس، نصیر الدین، اسکرین پلے سید نور، جب کہ خاص اداکاروں میں عارفہ صدیقی، بابر، الطاف خان، آغا طالش، نایاب، جگی ملک، افشاں قریشی، فردوس اور زمرد کے نام شامل تھے۔ اداکارہ انجمن اس فلم کی ہیروئن تھیں۔ 

نیشنل ایوارڈ یافتہ ہدایتکار ’’داؤد بٹ‘‘

اداکار مصطفیٰ قریشی نے ’’وڈیرا‘‘ کا ٹائٹل رول کچھ اس انداز سے کیا کہ ہر منظر میں ان کی نیچرل اور فطری اداکاری نے فلم بینوں کو بے حد متاثر کیا۔ سجاول شاہ کا کردار ان کے فلمی کیریئر کے چند ناقابل فراموش کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ بھارت میں اس فلم کو کاپی کیا گیا۔ 1986ء میں لاہور کے معروف پہلوان شاہیے کی زندگی پر مبنی ایک مکمل کمرشل اور کام یاب فلم ’’پتر شاہیے دا‘‘ ریلیز ہوئی، اس میں ہدایت کار دائود بٹ نے اقبال حسن کو شاہیے پہلوان کا کردار کروایا، جب کہ اس کے بیٹے جچی کا رول یوسف خان نے بھر پور انداز میں کیا۔ 

1988ء میں دائود بٹ نے ایک بہت ہی اعلیٰ گھریلو، معاشرتی اور نغماتی پنجابی فلم تحفہ کی ڈائریکشن دی، جس کے فلم ساز ان کے دیرینہ دوست اور ساتھی حاجی بٹ صاحب تھے، جن کا کچھ عرصے قبل انتقال ہو گیا ہے۔ ’’تحفہ‘‘ ماضی میں بننے والی پنجابی فلم ’’دلاں دے سودے‘‘ اور اردو فلم ’’انجمن‘‘ کی کہانیوں سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کو خواتین نے بے حد پسند کیا۔ فلم میں نادرہ اور اسماعیل شاہ نے مرکزی کردار کیے تھے۔ جب کہ نیلی اور عالیہ کے کردار میں بہت اہم تھے۔ 

فلم کی دیگر کاسٹ میں نمو، الطاف خان، زمرد، خانم، سیما، عابد علی اور سلطان راہی کے نام شامل تھے۔دائود بٹ کی سپرہٹ پنجابی فلم ’’وڈیرا‘‘ کو سندھی زبان میں ’’وڈیرو سائیں‘‘ کے نام سے ریلیز کی گئی۔ شیرنی، جیلر، چوراں دی رانی، آخری شکار، چراغ بالی، دنیا سے کیا ڈرنا، طیفا گجر، ان کی ڈائریکشن میں بننے والی چند قابل ذکر فلموں کے علاوہ ان کی آخری فلم ’’سمی راول‘‘ سرائیکی زبان میں تھی۔ فلموں کی ڈائریکشن کے علاوہ انہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی کے لیے ڈراما سیریل کی بھی ڈائریکشن دی۔

دائود بٹ 16جنوری بروز اتوار 2022 کو مختصر علالت کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ مرحوم ایک بہت ہی اعلیٰ ظرف انسان تھے۔ خودداری، حق گوئی، ان کی ذات کا خاصا تھی۔ عہد حاضر میں وہ واحد فلمی شخصیت تھے ، جنہیں اپنی فلموں کے علاوہ کسی میں ہدایت کار کی فلموں کی مکمل فہرستیں زبانی یاد تھیں، وہ ایک چلتے پھرتے فلمی انسائیکلو پیڈیا تھے۔ کراچی، لاہور پاکستان بھر کے بڑے بڑے فلمی صحافی اور محقق ان سے فلمی معلومات میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ 

وہ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، عجب ملنگ طبیعت پائی تھی، جب کبھی ان کو انٹرویو کے لیے کہاجاتا تو کہتے کہ میں نے ایسا کیا کام کیا ہے کہ میں انٹرویو دوں، اس قدر سادگی شاید کسی اور ہدایت کار میں نظر نہیں آتی۔ اپنی کام یاب فلموں کا ذکر سننے سے زیادہ اپنی ناکام فلموں کا تذکرہ کرنے اور ان کی ناکامی کی تمام تر ذمے داری خود قبول کرتے تا کہ کسی کو قصوروار ٹھہرتے، جب کہ اپنی کام یاب فلموں کا کریڈٹ پوری ٹیم اور فلم ساز کو دیتے۔ 

خود نمائی، سستی شہرت سے ہمیشہ دور رہتے تھے۔ 1977ء میں اپنے گھر والوں کی پسند سے شادی کی اور بیوی کے انتقال کے بعد اپنی اولاد کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اور نہ ہی ان پر سوتیلی ماں کا سایہ پڑنے دیا۔ ایک عرصے تک ایورنیو اسٹڈیو میں ڈائریکشن ایسوسی ایٹس میں بناکسی شہرت اور عہدے کے اپنی ذمے داریاں خوش اسلوبی سے نبھاتے رہے۔ پاکستان کی فلمی صنعت ایک صاف گو اور فلمی تاریخ کے ایک عظیم راز دان سے محروم ہو گئی ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Previous post پاکستانی فلموں کے تین مایہ ناز ہیروز محمد علی، وحید مراد اور ندیم
Next post ٹیسکو 1,400 ملازمتوں کو خطرے میں ڈالتا ہے کیونکہ یہ راتوں رات دوبارہ ذخیرہ کرنا ختم کرتا ہے۔