پاکستانی فلموں کے تین سپر ہیروزمحمد علی، ندیم اور وحید مراد نے فلم بینوں کے دِلوں پر راج کیا۔ پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ میں جو اہمیت اور مقام ان تین ہیروز کو ملا، اس کی دُوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں ہیروز صرف تین فلموں میں یکجا ہوئے اور تینوں ہی فلموں نے شان دار کام یابیاں حاصل کرتے ہوئے گولڈن جوبلی کے سنگ ہائے میل عبور کئے۔ 

بالکل اسی طرح پاکستان کی تین صفِ اوّل کی ہیروئنز شبنم، ممتاز اور بابرہ شریف کا اشتراک بھی فقط تین ہی فلموں میں ہوا اور تینوں فلموں نے شان دار کام یابی حاصل کی۔ پاکستانی سینما کی ان نامور اداکاراؤں کو سب سے پہلے ہدایت ایس سلیمان نے فلم ’’انتظار‘‘ میں یکجا کیا، گو کہ فلم کی مرکزی ہیروئن اس فلم میں شبنم تھیں، لیکن سب سے طاقت ور اور جان دار کردار ’’ممتاز‘‘ کے حصے میں آیا تھا۔ 

یہ ایک ماڈرن، خودسر، مغرور اور ضدّی لڑکی کا کردار تھا کہ جو دُنیا کی ہر وہ چیز، جو اُسے پسند آ جائے۔ اُسے ہر قیمت پر پا لینے یا چھین لینے پر یقین رکھتی ہے۔ گوکہ شبنم اور ندیم اس فلم کے مرکزی ہیروئن اور ہیرو تھے۔ اپنی اپنی جگہ ان کے کردار بھی مضبوط تھے، لیکن ممتاز کی اعتماد سے بھرپور کردار نگاری کے مقابل فلم کے ہیرو ہیروئن ہی کیا، بلکہ ہر کردار بے بس اور دبا ہوا نظر آیا۔ دراصل یہی وہ فلم تھی، جس میں ’’ممتاز‘‘ ایک بہت ہی میچور اداکارہ کے طور پر بھرپور انداز سے سامنے آئیں۔ 

پاکستان کی تین سُپر ہیروئنز شبنم، ممتاز اور بابرہ شریف

انتظار کے بیش تر نغمات بھی ان ہی پر پکچرائزڈ تھے اور ڈانسنگ پرفارمنس میں وہ ویسے ہی اپنی مثال آپ تھیں، لہٰذا یُوں ان کی پرفارمنس دو آتشہ ہوگئی۔ اگر بے لاگ رائے دی جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شعبہ اداکاری میں انتظار 1974ء صرف اور صرف ’’ممتاز‘‘ کی فلم تھی۔ عظیم اداکارہ شبنم نے اس فلم میں ایک ٹیچر کا رول پلے کیا تھا اور اپنے تئیں اس میں معیاری پرفارمنس بھی دی۔ 

تاہم یہ اور بات ہے کہ ممتاز کی کارکردگی کا گراف بہت بلند تھا، جب کہ بابرہ شریف کا رول زیادہ جان دار نہ تھا۔ یہ ندیم کی بہن کا کردار تھا، جسے بابرہ شریف نے مناسب انداز میں نبھایا۔ فلم انتظار ایک خُوب صورت سوشل فلم تھی، جس کے لیے ممتاز موسیقار نثار بزمی نے عمدہ اور میعاری میوزک مرتب کیا تھا۔ باکس آفس پر یہ فلم نمایاں ہٹ ثابت ہوئی۔ تاہم محض ایک ہفتے کی کمی سے ’’انتظار‘‘ گولڈن جوبلی منانے سے محروم رہ گئی۔ 

ہدایت کار ایس سلیمان نے ہی اسی سال یعنی 1974ء میں اپنی اگلی فلم ’’بُھول‘‘ میں ایک بار پھر نامور ہیروئنز کی اس مثلث کو یکجا کیا، جس میں مرکزی رول تو اداکارہ شبنم اور ندیم ہی کر رہے تھے، لیکن اداکارہ ممتاز کا کردار کہانی میں خاص اہمیت کا حامل تھا۔ تاہم اس فلم میں ایک خاتون وکیل کے رُوپ میں ’’شبنم‘‘ کی پرفارمنس سرفہرست تھی۔ ایک ایسی انصاف پسند خاتون جوایک مظلوم لڑکی کو انصاف دلوانے کے لیے اپنی ہنستی بستی اَزدواجی زندگی کو دائو پر لگا دیتی ہے۔ 

دوسرے نمبر پر ممتاز کی کارکردگی بھی متاثرکُن اور معیاری تھی، جب کہ بابرہ شریف کارکردگی کے ضمن میں تیسرے نمبر پر تھیں اور اس کی اہم وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا کردار شبنم یا ممتاز کے مقابلے میں خاصا مختصر اور کمزور تھا۔ فلم ’’بھول‘‘ کو گریٹ فن کارہ شمیم آراء نے پروڈیوس کیا تھا۔ فلم کا میوزک ممتاز موسیقار روبن گھوش نے مرتب کیا تھا۔ باکس آفس پر ’’بُھول‘‘ ایک گولڈن جوبلی ہٹ فلم کے طور پر رجسٹرڈ ہوئی۔

پاکستانی سینما کے حوالے سے باکس آفس کی تاریخ کے کام یاب ترین فلم ڈائریکٹر پرویز ملک نے 1976ء میں جب ’’تلاش‘‘ بنائی تو تیسری اور آخری بار یہ تینوں فن کارائیں شبنم، بابرہ شریف اور ممتاز یکجا ہوئیں۔ فلم کے مصنف مسرور انور نے تینوں ہی فن کارائوں کے لیے نہایت متوازن کرادر تحریر کیے اور ہر کردار میں پرفارمنس کا مارجن یکساں اور بھرپور رکھا۔ فلم تلاش، تین بہنوں کی کہانی تھی، جو بچپن ہی میں ایک دوسرے سے بچھڑ جاتی ہیں۔ 

بڑی بہن ’’شبنم‘‘ جوان ہو کر ایک سڑک چھاپ لڑکا نما لڑکی بن کر زندگی گزارتی ہے، جب کہ منجھلی بہن ’’ممتاز‘‘ ایک رقاصہ بن کر کوٹھے پر ناچ گانا کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے، تو تیسری اور سب سے چھوٹی بہن ’’بابرہ شریف‘‘ نامور قوالن بن جاتی ہے۔ کہانی اور واقعات کے تناظر میں شبنم کے کرادر میں بے باکی، جرأت اور دلیری تھی، تو بابرہ شریف کے کردار میں خاص نوعیت کی سنجیدگی تھی، جب کہ ممتاز کے کردار نے رنج و اَلم اور اُداسی کی کیفیات وابستہ تھیں۔ 

تینوں ہی فن کارائوں نے اپنے اپنے کردار میں اس قدر ڈُوب کرکام کیا کہ فیصلہ کرنا مشکل نظر آتا ہے کہ کسے زیادہ نمبرز دیے جائیں۔ ممتاز موسیقار نثار بزمی کا میوزک، عمدہ کہانی، جان دار کردار نگاری اور پرویز ملک کے مضبوط ٹریٹمنٹ کے سبب ’’تلاش‘‘ نے باکس آفس پر بھرپور بزنس کرتے ہوئے کام یابی کا بلندترین سنگ میل عبور کیا، یعنی ڈائمنڈ جوبلی سے ہم کنار ہوئی۔

ہماری رائے میں ان تینوں فن کارائوں کا الگ الگ مقام ہے۔ ان میں سے کوئی نمبر ون ہے، تو کوئی نمبر ٹو، یقیناً کوئی نمبر3 بھی ہے، لیکن ان کے نمبرز اور پوزیشنز کی بحث میں پڑ کر وقت ضائع کرنا کوئی دانش مندی نہیں ،بلکہ ایک طفلانہ عمل ہے، جس سے گریز ہی بہتر ہے۔ یہ تینوں فن کارائیں شبنم، بابرہ شریف اور ممتاز نے طویل عرصے تک پاکستان فلم انڈسٹری پر راج کیا۔آج بھی فلم بین ان کی لازوال پرفارمنس کو نہیں بھولے۔

پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، مورخ ان باصلاحیت اور فن کی دولت سے مالا مال اداکاراؤں کو فراموش نہیں کر سکے گا۔ شبنم نے جن فلموں میں کام کیا،ان میں کئی فلموں نے غیر معمولی کام یابی حاصل کی،اس طرح ممتاز اور بابرہ شریف نے جو کردار سلور اسکرین پر ادا کیا، اسے یاد گار بنادیا۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Previous post شہزادہ ہیری کی سیکیورٹی کے معاملے میں ملکہ کے پاس کارڈز ہیں۔
Next post وزیراعظم عمران خان نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی تعریف کی۔