تحریر: فوزیہ ایوب
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!شعبہ اردو
فاطمہ ویمن یونیورسٹی
میں ایشیائی چیتا ہوں: ایک بھولی بسری داستان (آپ بیتی)
“میرا نام ایشیائی چیتا ہے، اور میں کبھی اس زمین کا سب سے تیز رفتار شہزادہ ہوا کرتا تھا۔ میری کہانی کی شروعات برصغیر کے ان وسیع میدانوں اور بلوچستان کے ان خشک پہاڑوں سے ہوتی ہے جہاں میں ہوا کی رفتار سے دوڑتا تھا۔ میرے جسم پر کالے دھبے اور میری آنکھوں سے نکلتی کالی لکیریں (آنسوؤں کے نشان) میری پہچان تھیں۔”
میرے سنہرے دن (شروعات)
“ایک وقت تھا جب مغل بادشاہوں کے درباروں میں میری بڑی قدر تھی۔ مجھے پالنا اور میرے ساتھ شکار کرنا ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ میں آزاد تھا، میرے پاس کھانے کے لیے ہرنوں کے غول تھے اور رہنے کے لیے کھلے میدان۔ میں انسانوں کا دشمن نہیں تھا، بس اپنی دنیا میں مگن ایک شکاری تھا۔”
مجھ پر کیا گزری؟ (تباہی کی وجوہات)
“پھر وقت بدلا اور انسانوں کی لالچ بڑھ گئی۔ میری زندگی میں اندھیرا تب شروع ہوا جب:
میرا شکار: انسانوں نے محض اپنی تفریح کے لیے میرا پیچھا کرنا شروع کیا۔ بندوقوں کی گولیوں نے میرے خاندان کو مجھ سے چھین لیا۔
میرا گھر چھن گیا: جن جنگلوں اور میدانوں میں میں چھپتا تھا، وہاں بڑی بڑی بستیاں بس گئیں اور درخت کاٹ دیے گئے۔ میرا گھر اب میرا نہیں رہا تھا۔
بھوک کا ڈر: انسانوں نے ان ہرنوں اور خرگوشوں کو مار دیا جنہیں کھا کر میں زندہ رہتا تھا۔ جب میرے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا، تو میں کمزور ہوتا گیا اور میری نسل دم توڑنے لگی۔”
میرا آخری انجام (اب میں کہاں ہوں؟)
“آج میں اپنے اس پیارے وطن پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ ستر کی دہائی کے بعد سے کسی نے میری آواز نہیں سنی۔ میں یہاں سے ‘معدوم’ (Extinct) ہو چکا ہوں۔ اب میں صرف ایران کے چند دور دراز علاقوں میں روپوش ہوں، جہاں میرے
صرف چند ساتھی باقی رہ گئے ہیں۔”
میرا پیغام
“میری کہانی آپ کے لیے ایک سبق ہے۔ میں تو جا چکا ہوں، لیکن اب بھی بہت سے جانور (جیسے مارخور یا برفانی چیتا) خطرے میں ہیں۔ اگر آپ نے ان کا خیال نہ رکھا، تو کل وہ بھی میری طرح صرف کتابوں کی کہانیوں میں رہ جائیں گے۔”

