Site icon URDU ABC NEWS

وادی سندھ کی تہذیب کے زوال کا سراغ: طویل خشک سالیاں بنی اصل وجہ

Downfall of indus civilization

صدیوں پرانی پُراسرار گتھی سلجھ گئی؛ نئے مطالعے نے موسمیاتی تبدیلی کو شہری مرکز ‘ہڑپہ’ کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا

نئی دہلی/واشنگٹن – (سائنس رپورٹس) محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بالآخر وادی سندھ کی تہذیب کے زوال کے صدیوں پرانے پُراسرار معمے کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک نئی اور اہم تحقیق کے مطابق، تہذیب کی تباہی کی بنیادی وجہ کوئی واحد تباہ کن واقعہ (Catastrophic Event) نہیں، بلکہ مسلسل اور طویل خشک سالیوں (Prolonged Droughts) کا ایک سلسلہ تھا جس نے زمین اور دریاؤں کو خشک کر دیا اور پورے قدیم معاشرے کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔

یہ تہذیب، جو موجودہ پاکستان اور شمال مغربی بھارت کے وسیع علاقوں پر پھیلی ہوئی تھی، اپنے عروج پر جدید شہری منصوبہ بندی، گرڈڈ سڑکوں، کثیر منزلہ اینٹوں کے گھروں اور نفیس صفائی کے نظام (بشمول فلش ٹوائلٹ) کے لیے جانی جاتی تھی۔

آب و ہوا کا بدلتا رجحان

جرنل ‘کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرمنٹ’ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں، بین الاقوامی ٹیم نے 3000 قبل مسیح سے 1000 قبل مسیح تک کے موسمیاتی ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلنگ کا استعمال کیا۔

خشک سالی کے چار بڑے واقعات

تحقیقی ٹیم نے 2425 قبل مسیح اور 1400 قبل مسیح کے درمیان خشک سالی کے چار بڑے واقعات کی نشاندہی کی، جن میں سے ہر ایک 85 سال سے زائد عرصے پر محیط تھا۔ سب سے نمایاں اور شدید خشک سالی تقریباً 1733 قبل مسیح میں عروج پر پہنچی، جو تقریباً 164 سال تک جاری رہی اور تقریباً پورے خطے کو متاثر کیا۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس دوران مجموعی درجہ حرارت میں 0.5 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا، جب کہ بارش میں 10 سے 20 فیصد تک کمی آئی۔

زوال کے مضمرات اور نقل مکانی

ڈاکٹر ہیرن سولنکی، جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، گاندھی نگر سے اس مطالعے کے مرکزی مصنف ہیں، نے وضاحت کی کہ خشک سالی کے بار بار آنے والے ان واقعات نے ہڑپہ کے لوگوں کو زندگی کے مزید قابل عمل حالات کی تلاش میں تواتر سے نقل مکانی پر مجبور کیا۔

<h3>تہذیب کا لچکدار ردعمل</h3>

محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ تقریباً دو ہزار سال کے دوران، وادی سندھ کی تہذیب نے زبردست لچک (Resilience) کا مظاہرہ کیا۔ ہڑپہ کے لوگوں نے موسمیاتی چیلنجوں کے باوجود زرعی طریقوں کو تبدیل کر کے، تجارت کو متنوع بنا کر، اور اپنی بستیوں کو حکمت عملی کے تحت قابل اعتماد آبی وسائل کے قریب منتقل کر کے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔

یہ مطالعہ قدیم تہذیبوں کے ارتقاء اور پانی کے نظام کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے بصیرتیں آج کی ان سوسائٹیوں کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔

Exit mobile version