ڈھاکہ (نیوز ڈیسک) – بنگلہ دیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے تاریخی عام انتخابات کے نتائج مکمل ہو گئے ہیں، جس کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے بھاری اکثریت کے ساتھ میدان مار لیا ہے۔ یہ انتخابات 2024 کے ‘جولائی انقلاب’ اور شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات تھے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!کون جیتا؟ (فاتحین کی تفصیلات)
انتخابی نتائج کے مطابق، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ (جاتیہ سنگشاد) کی 300 میں سے 212 نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
- بی این پی (BNP): انفرادی طور پر 209 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن گئی۔
- طارق رحمان: 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آنے والے طارق رحمان اب ملک کے نئے وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بوگرا اور ڈھاکہ کے حلقوں سے بڑی کامیابی حاصل کی۔
- جماعت اسلامی بنگلہ دیش: جماعت اسلامی نے اپنی تاریخ کی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 68 نشستیں حاصل کیں اور ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت اور اہم ترین اپوزیشن پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔
کون ہارا؟ (سیاسی منظرنامہ)
- عوامی لیگ (Awami League): شیخ حسینہ واجد کی جماعت، جو گزشتہ چار انتخابات میں فاتح رہی تھی، اس بار پابندی کے باعث انتخابی عمل سے باہر رہی۔
- نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP): جولائی انقلاب کے طلبہ رہنماؤں کی بنائی ہوئی یہ نئی جماعت توقعات کے برعکس صرف 6 نشستیں حاصل کر سکی، جس کی وجہ ان کی عبوری حکومت میں کارکردگی پر عوامی تحفظات بتائے جا رہے ہیں۔
آئینی ریفرنڈم: ‘جولائی چارٹر’ کی منظوری
انتخابات کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک اہم آئینی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جسے ‘جولائی چارٹر’ کا نام دیا گیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق 68 فیصد سے زائد ووٹرز نے ان اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ ان اصلاحات میں شامل ہیں:
- وزیر اعظم کے لیے صرف دو مدت (Terms) کی حد۔
- عدلیہ کی مکمل آزادی کا تحفظ۔
- مستقبل میں آمرانہ طرزِ حکومت کو روکنے کے لیے قانونی ڈھانچہ۔
عالمی ردعمل
بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی کا عالمی سطح پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔
- بھارت: وزیر اعظم نریندر مودی نے طارق رحمان کو فون کر کے مبارکباد دی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
- پاکستان: وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے ‘جمہوریت کی فتح’ قرار دیتے ہوئے نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
- امریکہ: امریکی محکمہ خارجہ نے پرامن انتخابی عمل اور بلند ٹرن آؤٹ (تقریباً 60 فیصد) کو سراہا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟ (چیلنجز اور مستقبل)
اگرچہ بی این پی کو واضح مینڈیٹ مل چکا ہے، لیکن نئی حکومت کو فوری طور پر سخت چیلنجز کا سامنا ہوگا:
- معاشی استحکام: مہنگائی پر قابو پانا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانا پہلی ترجیح ہوگی۔
- سیاسی انتقام سے گریز: طارق رحمان نے اپنے خطاب میں کارکنوں کو صبر و تحمل کی تلقین کی ہے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام برقرار رہے۔
- اصلاحات کا نفاذ: ریفرنڈم میں منظور ہونے والی آئینی تبدیلیوں کو قانون کا حصہ بنانا ایک بڑا امتحان ہوگا۔

