– جرمنی نے افغانستان سے نقل مکانی کرنے والے ان سینکڑوں افراد کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے وعدے سے انحراف کر لیا ہے جو فی الحال پاکستان میں مقیم ہیں۔ قدامت پسند چانسلر فریڈرش میرز کی زیر قیادت نئی جرمن حکومت نے اپنے پیشروؤں کے شروع کردہ دو اہم پناہ گزین پروگرامز کو ختم کر دیا ہے، جس سے انسانی حقوق کے کارکنان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کی وجوہاتجرمنی کی موجودہ حکومت نے ہجرت کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ یہ سخت رویہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور ملک میں ہجرت کی شرح کو کم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق، ان سینکڑوں افراد کو مطلع کیا جائے گا کہ اب ان کو جرمنی میں داخلے کی کوئی سیاسی دلچسپی باقی نہیں رہی۔متاثرین کون ہیں؟اس فیصلے سے تقریباً ۶۴۰ ایسے افغان شہری براہ راست متاثر ہوئے ہیں جو اس وقت پاکستان میں پناہ گزین ہیں۔ ان میں اکثریت ان افراد کی ہے جنہوں نے افغانستان میں امریکی حملے اور قبضے کے دوران جرمن فوج یا حکومتی وزارتوں کے لیے بطور مقامی عملہ کام کیا تھا۔ ان میں حقوق کے لیے سرگرم کارکنان اور صحافی بھی شامل ہیں۔پہلی کی وسط بائیں بازو کی حکومت نے طالبان کی واپسی کے بعد ان “خاص طور پر خطرے سے دوچار افراد” کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا، اور اپریل ۲۰۲۵ء تک تقریباً ۴۰۰۰ مقامی عملے اور ان کے ۱۵۰۰۰ اہل خانہ کو جرمنی منتقل بھی کیا جا چکا تھا۔ لیکن نئی حکومت نے اس پالیسی کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔پاکستان میں صورتحال اور انسانی حقوق کے خدشاتانسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو سنگین وعدہ شکنی قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ افغان شہری اگر واپس بھیجے گئے تو انہیں طالبان حکومت کے تحت ایذا رسانی، تشدد اور موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔تنظیموں کی تنقید: جرمن غیر سرکاری تنظیم پرو ایسائل کے سربراہ نے اس فیصلے کو “برف کی طرح ٹھنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت نے انہیں انسانی حقوق اور آزادی کے لیے لڑنے کی وجہ سے پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اب یہ لوگ طالبان کے اسلامی نظام کے ہاتھوں شدید خطرے میں ہیں۔جلاوطنی کی تلوار: پاکستان کی حکومت کی جانب سے ۲۰۲۵ء کے آخر تک پناہ گزینوں کو ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے۔ ایسے میں، جرمنی کا پروگرام روکنا ان افغان خاندانوں کے لیے “زندگی یا موت” کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس پروگرام کے لیے منظور شدہ ۱۸۰۰ افغان پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔مالی پیشکش: جرمنی کی وزارت داخلہ نے ان افغان شہریوں کو رضاکارانہ واپسی یا کسی تیسرے ملک جانے کے بدلے نقد رقم کی پیشکش بھی کی ہے، لیکن حقوق کی تنظیموں نے اسے مایوسی کا فائدہ اٹھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔فوری اپیل اور مستقبل کے نتائجتقریباً ۲۵۰ غیر سرکاری تنظیموں نے ایک کھلا خط جاری کیا ہے جس میں جرمن حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان تمام ۱۸۰۰ افراد کو سال کے آخر تک نکالنے کا وعدہ پورا کرے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جرمنی کا یہ یوٹرن مستقبل میں کسی بھی بیرونی مشن کے لیے مقامی مدد حاصل کرنے کے حوالے سے طویل مدتی منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اب کوئی بھی جرمنی کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرے گا۔🔑 کلیدی الفاظ (SEO Optimization):جرمنی پناہ گزین پالیسیجرمنی افغانستان ہجرتپاکستان افغان پناہ گزینجرمن چانسلر فریڈرش میرزانسانی حقوق اور طالبانAbout The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Post navigationموٹر وے پولیس نے بڑی شاہراہوں پر دھند اور موسمی تبدیلیوں کے پیش نظر خصوصی سفری ایڈوائزری جاری کر دی حکومت نے لائسنسنگ فریم ورک وفاقی کابینہ کو پیش کر دیا؛ لائسنس فیس میں 97 فیصد کی ریکارڈ کمی