Site icon URDU ABC NEWS

یمن کے حوثی باغیوں کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ: تل ابیب میں خطرے کے سائرن، علاقائی کشیدگی میں سنگین اضافہ

Hothies attack Israel

صنعا/یروشلم (نیوز ڈیسک): یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب اور گردونواح کے علاقوں پر ایک طاقتور بیلسٹک میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس حملے نے ایک ایسے وقت میں خطے میں کھلبلی مچا دی ہے جب بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں اپنے نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حملے کی تفصیلات اور حوثی ترجمان کا بیان

حوثی گروپ کے فوجی ترجمان، یحییٰ سریع نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں تصدیق کی کہ ان کی فورسز نے اسرائیل کے “اہم فوجی اہداف” کو نشانہ بنانے کے لیے جدید بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

اسرائیل کا ردِعمل اور دفاعی نظام

اسرائیلی فوج (IDF) کے مطابق، یمن سے داغے گئے میزائل کے باعث وسطی اسرائیل بشمول تل ابیب کے وسیع علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے، جس کے بعد ہزاروں شہریوں نے بنکروں اور محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کیا۔

ٹرمپ کے ‘امن منصوبے’ پر اثرات

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایک 15 نکاتی امن معاہدے پر بات چیت کر رہی ہے۔

  1. سفارتی رکاوٹ: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے اس تازہ کارروائی کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنا یا اپنی تزویراتی اہمیت منوانا ہو سکتا ہے۔
  2. 6 اپریل کی ڈیڈ لائن: جہاں امریکہ نے 6 اپریل تک حملوں میں وقفے کا اعلان کر رکھا ہے، وہیں حوثیوں کے اس اقدام سے اسرائیل پر جوابی حملے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے، جو امن عمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

عالمی منڈی اور بحری گزرگاہوں کی صورتحال

حوثیوں کے اس حملے کے بعد بحیرہ احمر (Red Sea) اور خلیجِ عدن میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے حوالے سے دوبارہ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔


خلاصہ: حوثیوں کا یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران محض غزہ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں دور دراز کے محاذ بھی اب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

Exit mobile version