نئی دہلی: 19 فروری 2026 — بھارتی حکومت نے بحر ہند میں اپنی نگرانی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکہ سے 6 اضافی P-8I پوسیڈن (Poseidon) بحری گشتی اور اینٹی سب میرین طیاروں کی خریداری کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وزارتِ دفاع کی جانب سے اسٹریٹجک دفاعی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!بحری طاقت میں اضافہ اور ‘سب میرین ہنٹر’ کا کردار
رپورٹس کے مطابق، 12 فروری 2026 کو ڈیفنس ایکوزیشن کونسل (DAC) کے اجلاس میں ان طیاروں کی خریداری کے لیے ‘ضرورت کی منظوری’ (Acceptance of Necessity – AoN) دے دی گئی ہے۔ بوئنگ کے تیار کردہ یہ طیارے اپنی غیر معمولی جاسوسی صلاحیتوں کی بنا پر “سب میرین ہنٹر” (آبدوزوں کا شکاری) کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شمولیت سے بھارتی بحریہ کی طویل فاصلے تک بحری نگرانی، آبدوز شکن جنگ (ASW) اور بحری حملے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
بیڑے کی توسیع اور اسٹریٹجک اہمیت
بھارت اس وقت 12 پی-8 آئی طیاروں کا بیڑا استعمال کر رہا ہے، جنہیں “نیپچون” (Neptune) کا نام دیا گیا ہے۔ 6 نئے طیاروں کی شمولیت کے بعد بھارتی بحریہ کے پاس ان جدید طیاروں کی کل تعداد 18 ہو جائے گی۔
- علاقائی نگرانی: یہ طیارے خلیج بنگال، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی بحری موجودگی اور پاکستان کی آبدوزوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
- جدید سینسرز: یہ طیارے جدید ترین ریڈار، آواز کی لہروں سے کھوج لگانے والے آلات (Sonobuoys) اور الیکٹرو آپٹیکل سسٹم سے لیس ہیں جو وسیع سمندری علاقے کی براہِ راست نگرانی (Real-time surveillance) میں مدد دیتے ہیں۔
اربوں ڈالر کا معاہدہ اور پاک بھارت تناظر
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیل کی مالیت تقریباً 3 سے 4 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جو کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان ‘بین الحکومتی معاہدے’ (Inter-Governmental Agreement) کے تحت طے پائے گی۔
- چینی خطرات کا تدارک: بحر ہند میں چین کی ‘موتیوں کی مالا’ (String of Pearls) حکمتِ عملی کے مقابلے میں بھارت ان طیاروں کو اپنے دفاعی حصار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
- تجارتی مذاکرات: بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی مذاکرات میں بریک تھرو حاصل کرنے میں اس بڑے دفاعی معاہدے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اگلا مرحلہ
ڈیفنس ایکوزیشن کونسل سے منظوری کے بعد اب یہ تجویز وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کابینہ کی دفاعی کمیٹی (CCS) کو حتمی منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔ توقع ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ان طیاروں کی فراہمی شروع ہو جائے گی، جس سے بھارت دنیا میں امریکہ کے بعد ان طیاروں کو استعمال کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن جائے گا۔

