اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): وفاقی دارالحکومت کے انتہائی محفوظ ‘ریڈ زون’ میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، میزبان پاکستان کی موجودگی میں ہونے والی یہ گفتگو “انتہائی سنجیدہ، تلخ مگر تعمیری” رہی، جس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے تزویراتی مطالبات میز پر رکھ دیے ہیں۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!مذاکرات کا ماحول: براہِ راست مکالمہ یا بالواسطہ؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے آغاز میں دونوں وفود الگ الگ کمروں میں موجود تھے جہاں پاکستانی حکام (بشمول آرمی چیف اور وزیرِ خارجہ) ‘شٹل ڈپلومیسی’ کے ذریعے پیغامات پہنچا رہے تھے۔ تاہم، دوپہر کے سیشن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کے درمیان ایک مختصر مگر براہِ راست ملاقات بھی ہوئی، جسے ایک بڑی بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات کے 3 اہم نکات اور شرکاء کی گفتگو
- آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا خاتمہ:
- امریکہ کا مطالبہ: امریکی وفد نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی تجارت کی بحالی کے لیے آبنائے ہرمز کا فوری کھلنا ناگزیر ہے۔ امریکی کمانڈر بریڈ کوپر نے تہران کو بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی پر “تحریری یقین دہانی” پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
- ایران کا جواب: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ تہران ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اسے اس کی قیمت پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں چاہیے، نہ کہ محض زبانی وعدوں پر۔
- پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے:
- اسلام آباد معاہدہ (پہلا مرحلہ): پاکستان نے تجویز دی ہے کہ امریکہ ابتدائی طور پر ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر کی رقم کسی تیسرے ملک (ممکنہ طور پر عمان یا قطر) کے ذریعے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری کرے، تاکہ ایران کے اندرونی معاشی حالات بہتر ہو سکیں۔
- امریکہ کا ردِعمل: امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس پر مشروط رضامندی ظاہر کی ہے، بشرطیکہ ایران 24 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز سے اپنی بحری افواج پیچھے ہٹا لے۔
- عسکری کشیدگی اور ‘غضبِ حق’ کا اثر:
- سرحدی سلامتی: پاکستان نے دونوں ممالک پر واضح کیا کہ سرحدوں پر ہونے والی کوئی بھی نئی فوجی مہم جوئی ان مذاکرات کو سبوتاژ کر دے گی۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے فریقین کو علاقائی خود مختاری کے احترام کا مشورہ دیا ہے۔
اگلا مرحلہ: آخری مشترکہ اعلامیہ
سفارتی ذرائع کے مطابق، آج شام یا کل صبح تک ایک ‘مشترکہ اعلامیہ’ جاری ہونے کا قوی امکان ہے:
- توقع: ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک “عارضی جنگ بندی” (Limited Truce) پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے تحت ایران 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو سست رفتاری سے بحال کرے گا اور امریکہ ‘شپنگ سیکیورٹی لیوی’ (Hormuz Transit Levy) کے معاملے پر لچک دکھائے گا۔
- فیس سیونگ (Face-saving): دونوں حکومتیں اپنی اپنی عوام کے سامنے اس معاہدے کو اپنی ‘فتح’ کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہیں، جس کے لیے پاکستان کے ماہرینِ قانون تحریری مسودے پر کام کر رہے ہیں۔
خلاصہ: اسلام آباد کی فضا میں ‘تبدیلی’ کی خوشبو
اگرچہ مذاکرات اب بھی ‘نازک’ مرحلے میں ہیں، تاہم فریقین کی میز پر موجودگی اور بالواسطہ سے براہِ راست مکالمے کی طرف منتقلی یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب اتوار کی صبح پر لگی ہوئی ہیں، جب اس تاریخی مذاکرات کا حتمی نتیجہ سامنے آئے گا۔

