Site icon URDU ABC NEWS

امریکی فوجی اڈے پر بڑا ڈرون حملہ: متعدد اہلکار زخمی، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے

Iran drone attack on US base

واشنگٹن / بغداد (نیوز ڈیسک): نیویارک ٹائمز کی ایک ہنگامی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں قائم ایک اہم امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی اہلکار اور کنٹریکٹرز زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں پہلے سے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور سفارتی کوششیں تعطل کا شکار نظر آ رہی ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حملے کی تفصیلات: ایک منظم کارروائی

پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ “خودکش ڈرونز” (One-way Attack Drones) کے ذریعے کیا گیا جو ریڈار کی نظروں سے بچتے ہوئے فوجی اڈے کے رہائشی حصے سے ٹکرائے۔

ذمہ داری اور محرکات

اگرچہ تاحال کسی گروپ نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم امریکی انٹیلیجنس حکام کا شبہ ہے کہ یہ کارروائی ایران نواز مزاحمتی گروہوں کی جانب سے کی گئی ہے۔

  1. جوابی کارروائی: ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ حملہ حالیہ دنوں میں شام اور عراق میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کا ردِعمل ہو سکتا ہے۔
  2. سفارتی دباؤ: یہ حملہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کے دوران ہوا ہے، جسے واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا سخت ردِعمل

نیویارک ٹائمز کے مطابق، صدر ٹرمپ کو اس واقعے پر فوری بریفنگ دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ:

“امریکہ اپنے اہلکاروں پر ہونے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ہم اپنی پسند کے وقت اور مقام پر اس کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔”

علاقائی امن عمل کو خطرہ

اس حملے نے جاری امن مذاکرات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے:


خلاصہ: نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، جس سے خطے میں قیامِ امن کی امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کہ آیا امریکہ اس کا جواب سفارتی سطح پر دیتا ہے یا عسکری طاقت کے ذریعے۔

Exit mobile version