“اسلام و علیکم دوستو! آج ہم بات کریں گے ایک ایسے ملک کی جو اپنی قدیم تہذیب، خوبصورت پہاڑوں اور تیل کے وسیع ذخائر کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے، یعنی ایران۔ لیکن آج کل ایران صرف اپنی تاریخ کی وجہ سے نہیں، بلکہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے بادلوں کی وجہ سے عالمی خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
کیا ہم ایک ایسی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں جو پوری دنیا کا نقشہ بدل دے گی؟
کیا امریکہ واقعی ایران کو مٹانے کی تیاری کر رہا ہے؟
آج ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں گے اور دیکھیں گے
کہ ‘پرشیا’ سے ‘اسلامی جمہوریہ’ تک کا سفر کتنا ہولناک تھا۔”
آئیے آج کے ویلاگ میں ایران کی مکمل کہانی سمجھتے ہیں۔”
“ایک ایسی سرزمین… جس نے ہزاروں سال سے سلطنتوں کو بنتے اور بگڑتے دیکھا۔ ایک ایسی قوم… جس نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا۔ لیکن آج، فضاؤں میں بارود کی بو ہے اور سمندروں میں جنگی جہازوں کا پہرہ۔”
“دوستو،
ایران مغربی ایشیا کا ایک بہت اہم ملک ہے
جسے تاریخی طور پر پرشیا (Persia) بھی کہا جاتا رہا ہے۔
ایران! یہ محض ایک ملک نہیں،بلکہ ایک قلعہ ہے
وہ قلعہ جس کی دیواروں سے دوست اور دشمن دونوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 17واں بڑا ملک ہے
غور سے دیکھیے اس کے نقشے کو۔
ایک طرف خلیج فارس، دوسری طرف بحیرہ کیسپین۔
یہ وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر کی رگوں کا خون یعنی ‘تیل’ گزرتا ہے۔
اس کی سرحدیں پاکستان، افغانستان، عراق، ترکی، آرمینیا، آذربائیجان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں۔ ۔—ایران ان سب کے درمیان ایک ایسی کڑی ہے جسے توڑنا ناممکن لگتا ہے۔
ایران کی ٹوپوگرافی بہت مختلف ہے؛
جس کے ایک طرف سنگلاخ پہاڑ ‘زاگروس’ ہیں اور دوسری طرف دشتِ کویر یعنی تپتے ہوئے نمکین صحرا۔
“ایران کی آبادی تقریباً 86 ملین ہے، یہاں کا موسم کافی رنگ برنگی ہے؛ شمال مغرب میں شدید سردی اور برف باری ہوتی ہے جبکہ جنوب میں گرمیاں انتہائی گرم ہوتی ہیں۔
“بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ پرشیا، ایران کیسے بنا؟ ایران کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جہاں 4000 قبل مسیح (BC) کے قریب شہری بستیوں کے آثار ملتے ہیں۔ سائرس دی گریٹ نے 550 قبل مسیح میں ایکیمنیڈ سلطنت (پہلی فارسی سلطنت) کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں سکندرِ اعظم، پارتھیئن اور ساسانی سلطنتوں نے یہاں حکومت کی۔ ساتویں صدی میں عربوں کے حملے کے بعد ایران میں اسلام پھیلا اور 10ویں سے 11ویں صدی کے دوران یہ اسلامی سنہری دور کا مرکز رہا۔ 13ویں صدی میں چنگیز خان کی منگول فوج نے ایران میں تباہی مچا دی۔ 1501 میں صفوی خاندان نے اقتدار سنبھالا اور شیعہ اسلام کو سرکاری مذہب قرار دیا۔ 1908 میں ایران میں پہلی بار تیل دریافت ہوا، جس کے بعد اس خطے میں برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت بڑھ گئی۔
1925 میں رضا شاہ پہلوی نے پہلوی خاندان کی بنیاد رکھی اور 1935 میں ملک کا نام پرشیا سے بدل کر باقاعدہ ایران رکھ دیا۔ 1951 میں وزیراعظم محمد مصدق نے تیل کی صنعت کو نیشنلائز کردیا، لیکن ایک امریکی و برطانوی خفیہ آپریشن کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ شاہ ایران نے وائٹ ریولیوشن کے نام سے اصلاحات متعارف کرائیں، لیکن ان کی مغرب نواز پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی حلقوں میں بے چینی بڑھنے لگی۔
“1979! ایک ایسا سال تھا جس نے امریکہ کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ شاہ کا تخت الٹ دیا گیا اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایک ایسا انقلاب آیا جس نے مغرب کے ہر غرور کو خاک میں ملا دیا۔ تب سے آج تک، تہران اور واشنگٹن کے درمیان لکیریں صرف گہری ہی ہوئی ہیں۔”
“آج ایران کا نظام ایک ‘سپریم لیڈر’ کے ہاتھ میں ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای—وہ نام جو فوج سے لے کر میڈیا تک، ہر فیصلے پر حتمی مہر لگاتا ہے۔ لیکن دشمن کی نظریں ایران کے نظریات پر نہیں، اس کے تیل پر ہیں۔”
“ایران دنیا کا تیسرا بڑا تیل اور دوسرا بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ رکھنے والا ملک ہے۔امریکہ جانتا ہے کہ اگر یہاں جنگ چھیڑی، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی۔ حالیہ فوجی نقل و حرکت، دھمکیاں اور امریکی بیانات—کیا یہ صرف نفسیاتی جنگ ہے یا کسی بڑے طوفان سے پہلے کا سناٹا؟”
“دہائیوں سے لگی پابندیاں، معاشی بائیکاٹ… ایران کو توڑنے کی ہر کوشش کی گئی۔ ایران لڑکھڑا ضرور رہا ہے، مگر گرا نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے… کیا ایک عام ایرانی اس جنگ کا بوجھ اٹھا پائے گا؟”
“تاریخ گواہ ہے، ایران نے ہمیشہ اپنی بقا کی جنگ لڑی ہے۔ ایک طرف قدیم تہذیب کا غرور ہے، تو دوسری طرف جدید ترین ٹیکنالوجی کا خوف۔ کیا میزائل بولیں گے یا سفارت کاری جیتے گی؟
کیونکہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے اور جنگ کے سائے پاکستان کی سرحدوں تک پہنچ چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جس بحری بیڑے کو ‘بگ بیوٹی فل آرماڈا’ کہہ کر پکار رہے ہیں، تاریخ کے جھروکوں میں اس کا انجام بہت بھیانک رہا ہے۔ 16ویں صدی میں جب اسپین نے برطانیہ کے خلاف اپنا ‘آرماڈا’ بھیجا تھا، تو اس کی شکست نے اسپین کی عالمی بالادستی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ آج امریکہ اسی اصطلاح کو فخر سے استعمال کر رہا ہے، مگر ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ نادانستگی میں اپنی ہی تباہی کا نام لے رہے ہیں۔
اور دوسری جانب ہمیں اس تلخ حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ اور یورپی یونین مشرقِ وسطیٰ کو صرف اسرائیل کی عینک سے دیکھتے ہیں۔
*مغرب جن عالمی اقدار اور انسانی حقوق کا راگ الاپتا ہے، وہ صرف ان کے اپنے مفادات تک محدود ہیں۔
- جرمنی اور دیگر مغربی ممالک اب بھی ‘ہولوکاسٹ’ کے احساسِ جرم تلے دبے ہوئے ہیں، اسی لیے وہ اسرائیل کے ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔
- عراق اور شام کی تباہی کے بعد، اب ایران وہ واحد طاقت ہے جو اسرائیل کے سامنے کھڑی ہے، اس لیے اسے مٹانا ان کا اولین مقصد بن چکا ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ ایران کو مختلف حصوں (کرد، بلوچ، آذری اور مرکز) میں بانٹ دیا جائے تاکہ کوئی مرکزی طاقت باقی نہ رہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر امریکہ ایران میں ‘ریجیم چینج’ اور ملک کی تقسیم میں کامیاب ہو گیا، تو وہ یہی خونی ماڈل پاکستان پر بھی اپلائی کرے گا۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایران سے کہیں زیادہ نفیس دفاعی نظام رکھتا ہے، مگر بدلتی صورتحال میں خطرہ پاکستان کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔
اور اسی قسم کا خطرہ روس اور چین بھی محسوس کرہے ہیں۔ کیونکہ یہ کہانی اب صرف ایک دارالحکومت سے نہیں اٹھی بلکہ تین بڑی طاقتوں کے سائے ایک ہی سمندر پر اکٹھے ہونے والے ہیں، جہاں ایک طرف واشنگٹن کا دباؤ ہے اور دوسری طرف ایران، روس اور چین کے ساتھ قدم ملا کر کھڑا ہے۔ یہ لمحہ اس لیے مختلف ہے کیونکہ یہاں طاقت اب انفرادی نہیں بلکہ ایک عالمی اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں سمندر کے سینے پر عالمی طاقتیں اپنے مہرے نہایت خاموشی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں نہ تو امریکہ اور نہ ہی ایران مکمل جنگ چاہتے ہیں، مگر دونوں ہی دباؤ بڑھانے کی دوڑ میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس نفسیاتی کھیل میں کون زیادہ دیر تک اپنا توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔
تو دوستو، یہ تھی ایران کی وہ کہانی جو اسے آج کے دور میں ایک اہم عالمی کھلاڑی بناتی ہے۔ ایک طرف اس کی شاندار تاریخ اور ثقافت ہے، تو دوسری طرف جنگ کا خطرہ۔ آپ کے خیال میں کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے مسئلہ حل ہو جائے گا یا بات جنگ تک پہنچے گی؟

