اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک انتہائی اہم اور سنگین معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے اپنے ہی ایک جج، جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ موصوف کی قانون (ایل ایل بی) کی ڈگری آغاز ہی سے کالعدم اور جعلی تھی، جس کی بنا پر ان کا بطور جج تقرر غیر قانونی ثابت ہوا۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک بینچ نے پیر کے روز 116 صفحات پر مشتمل مفصل فیصلہ جاری کیا، جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعلیمی اسناد کی مکمل تحقیقات اور شواہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان کی ڈگری ‘Void ab initio’ (آغاز ہی سے کالعدم) ہے، یعنی وہ کبھی قانونی طور پر جج بننے کے اہل ہی نہیں تھے۔
کراچی یونیورسٹی کے ریکارڈ سے ہوشربا انکشافات
عدالتی کارروائی کے دوران کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے فراہم کردہ اصل ریکارڈ نے تمام حقائق بے نقاب کر دیے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ:
- امتحان میں نقل اور پابندی: طارق محمود جہانگیری نے 1988 میں ایک جعلی اینرولمنٹ نمبر کے ذریعے امتحان دینے کی کوشش کی تھی، جہاں وہ نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ 1989 میں یونیورسٹی نے ان پر تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔
- شناخت کی تبدیلی اور جعل سازی: سزا کا سامنا کرنے کے بجائے انہوں نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کا سہارا لیا۔ اگلے ہی سال انہوں نے “امتیاز احمد” نامی ایک دوسرے طالب علم کے اینرولمنٹ نمبر کو استعمال کرتے ہوئے “طارق جہانگیری” کے نام سے دوبارہ امتحان دیا۔
- کالج کا انکار: گورنمنٹ اسلامیہ لاء کالج کے پرنسپل نے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ طارق محمود جہانگیری کبھی بھی اس ادارے کے باقاعدہ طالب علم کے طور پر داخل نہیں ہوئے تھے۔
عدالتی کارروائی اور ‘تاخیری حربے’
عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ طارق محمود جہانگیری کو اپنی صفائی پیش کرنے اور اصل دستاویزات دکھانے کے متعدد مواقع فراہم کیے گئے، لیکن وہ کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بجائے، انہوں نے فل بینچ کی تشکیل، چیف جسٹس کی علیحدگی اور سماعت ملتوی کرنے کی درخواستیں دیں، جنہیں عدالت نے “تاخیری حربے” قرار دیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ جب درخواست گزار نے ٹھوس شواہد پیش کر دیے تھے، تو اپنی ڈگری کو درست ثابت کرنے کی ذمہ داری طارق محمود جہانگیری پر تھی، جسے پورا کرنے میں وہ ناکام رہے۔
تقرری کا پس منظر
جسٹس طارق محمود جہانگیری کو دسمبر 2020 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی ڈگری پر سوالات اٹھنے کے بعد ستمبر 2025 میں انہیں عدالتی فرائض انجام دینے سے روک دیا گیا تھا، اور اب تفصیلی تحقیقات کے بعد انہیں باقاعدہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اپنی نوعیت کے انوکھے کیسز میں سے ایک ہے جہاں ہائی کورٹ کے جج کو پانچ سال تک کام کرنے کے بعد تعلیمی جعل سازی پر فارغ کیا گیا۔

