Site icon URDU ABC NEWS

پاک فوج کا ‘لائٹ آرمرڈ وہیکل پروگرام تک کا سفر اور خود انحصاری کی جانب پیش قدمی

Light armour vehicle program

راولپنڈی (دفاعی تجزیہ): معروف دفاعی جریدے ‘Quwa’ نے پاک فوج کے پہیہ دار بکتر بند گاڑیوں (Wheeled Armoured Vehicles) کے پروگرام کا ایک جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو دہائیوں (2007-2026) کے دوران پاک فوج کا نقطہِ نظر محض درآمدی گاڑیوں پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور بین الاقوامی شراکت داریوں کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

1. آغاز اور ہنگامی ضروریات (2007-2015)

رپورٹ کے مطابق، اس پروگرام کا آغاز دہشت گردی کے خلاف جنگ (War on Terror) کے دوران ہوا۔ اس وقت پاک فوج کو بارودی سرنگوں اور آئی ای ڈیز (IEDs) سے بچاؤ کے لیے فوری طور پر MRAPs (Mine-Resistant Ambush Protected) گاڑیوں کی ضرورت تھی:

2. جدید دور اور عالمی شراکت داریاں (2016-2023)

2016 کے بعد، پاک فوج نے لائٹ آرمرڈ گاڑیوں کے لیے ایک منظم پروگرام ‘LAV’ کے تحت کام شروع کیا، جس کا مقصد محض گاڑی خریدنا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کا حصول (Transfer of Technology) تھا:

3. خود انحصاری اور 2026 کا وژن

موجودہ دور (2024-2026) میں پاک فوج کا LAV پروگرام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے:


تزویراتی اہمیت

تجزیہ کاروں کے مطابق، پاک فوج کا LAV پروگرام اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب دفاعی ساز و سامان کے لیے کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ مقامی سطح پر ان گاڑیوں کی تیاری سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو رہی ہے بلکہ پاک فوج کی آپریشنل صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

خلاصہ: مستقبل کی سمت

2007 کی ہنگامی خریداریوں سے شروع ہونے والا یہ سفر 2026 تک ایک مکمل انڈسٹریل پروگرام بن چکا ہے۔ آج پاکستان نہ صرف اپنی ضرورت کی لائٹ آرمرڈ گاڑیاں خود تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں ان گاڑیوں کو برآمد کرنے کے مواقع بھی تلاش کر رہا ہے۔


کیا آپ ان گاڑیوں کی مخصوص تکنیکی تفصیلات (جیسے انجن پاور یا پروٹیکشن لیول) یا HIT کے حالیہ منصوبوں کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟

Exit mobile version