اسلام آباد / تہران (نیوز ڈیسک): الجزیرہ اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری باقاعدہ جنگ کو روکنے کے لیے ایک جامع “دو مرحلہ وار” (Two-tier) امن فارمولا پیش کیا ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ محض ایک “عارضی جنگ بندی” کے بدلے عالمی معیشت کی شہ رگ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پاکستان کا ‘دو مرحلہ وار’ منصوبہ کیا ہے؟
ذرائع کے مطابق، پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو بھیجے گئے اس منصوبے (جسے ممکنہ طور پر ‘اسلام آباد معاہدہ’ کا نام دیا جا رہا ہے) کے دو اہم مراحل ہیں:
- پہلا مرحلہ (فوری جنگ بندی): اس مرحلے کے تحت دونوں ممالک فوری طور پر حملے روک دیں گے اور ایران خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے کھول دے گا۔
- دوسرا مرحلہ (جامع تصفیہ): اگلے 15 سے 20 دنوں کے اندر اسلام آباد میں آمنے سامنے مذاکرات ہوں گے، جہاں پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور ایران کے جوہری پروگرام پر مستقل معاہدہ طے کیا جائے گا۔
ایران کا موقف: ‘عارضی حل منظور نہیں’
ایرانی حکام نے پاکستان کے اس امن منصوبے کی وصولی کی تصدیق کی ہے، لیکن ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز اور الجزیرہ کو بتایا کہ:
- مستقل حل کا مطالبہ: ایران کا ماننا ہے کہ امریکہ ایک مستقل اور پائیدار امن کے بجائے محض وقت حاصل کرنے کے لیے عارضی جنگ بندی چاہتا ہے۔
- آبنائے ہرمز بطور کارڈ: تہران نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک واشنگٹن کی جانب سے مستقل جنگ بندی اور پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت نہیں ملتی، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
- الٹی میٹم کی مخالفت: ایرانی دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی دھمکی یا ڈیڈ لائن (جیسے کہ صدر ٹرمپ کی 6 اپریل کی ڈیڈ لائن) کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں اور ‘فیلڈ مارشل’ کا کردار
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی عسکری اور سویلین قیادت اس وقت اس بحران کو ٹالنے کے لیے انتہائی متحرک ہے:
- رابطے: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات گئے امریکی اور ایرانی قیادت سے رابطے کیے ہیں تاکہ انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
- دفترِ خارجہ کا بیان: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندراپی نے انفرادی رپورٹوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ “امن عمل جاری ہے” اور پاکستان ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
عالمی منڈیوں پر دباؤ
آبنائے ہرمز کے بند رہنے اور ایران کی جانب سے عارضی جنگ بندی مسترد کیے جانے کے بعد:
- تیل کی قیمتیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
- سپلائی چین: خلیجِ فارس میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت رکنے سے اشیاءِ خورونوش کی عالمی رسد متاثر ہو رہی ہے۔
خلاصہ: 6 اپریل کی ڈیڈ لائن اور مستقبل
پاکستان کا “اسلام آباد معاہدہ” اس وقت میز پر موجود واحد سفارتی راستہ ہے، لیکن ایران کا عدم اعتماد اور امریکہ کا سخت گیر موقف اس کی کامیابی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اگر آج رات تک کسی ‘درمیانی راستے’ پر اتفاق نہ ہوا، تو خطہ ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اس 15 نکاتی امن منصوبے کی مزید تکنیکی تفصیلات فراہم کروں؟

