Site icon URDU ABC NEWS

سومیلیہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ فوجی معاہدہ کے اثرات

Saudi Arabia and Somalia deals

سومیلیہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ فوجی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاہدے کے پیچھے چھپے اہم عوامل اور اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

۱۔ معاہدے کا پس منظر اور بنیادی مقصد

فروری ۲۰۲۶ میں سومیلیہ کے وزیر دفاع احمد معلم فقی اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان ریاض میں ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے۔ اس کا بنیادی مقصد سومیلیہ کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور بحیرہ احمر (Red Sea) کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

۲۔ صومالی لینڈ اور اسرائیل کا عنصر

اس معاہدے کی ایک بڑی وجہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات ہیں۔ حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے سومیلیہ سے الگ ہونے والے علاقے ‘صومالی لینڈ’ کو تسلیم کیے جانے کی خبروں نے موغادیشو (سومیلیہ کا دارالحکومت) میں تشویش پیدا کر دی تھی۔ سومیلیہ اسے اپنی خودمختاری پر حملہ تصور کرتا ہے، اس لیے وہ سعودی عرب جیسے طاقتور اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

۳۔ سعودی عرب کے تزویراتی (Strategic) مفادات

۴۔ دفاعی تعاون کے اہم نکات

اس معاہدے کے تحت درج ذیل شعبوں میں تعاون کیا جائے گا:

۵۔ متحدہ عرب امارات سے دوری

اس معاہدے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سومیلیہ نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات (UAE) کے ساتھ اپنے کئی معاہدے ختم کر دیے ہیں کیونکہ اسے شبہ ہے کہ یو اے ای صومالی لینڈ کی علیحدگی پسند تحریک کی حمایت کر رہا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے سومیلیہ اب سعودی عرب اور ترکیہ کی طرف دیکھ رہا ہے۔

خلاصہ:

یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان فوجی تعاون نہیں ہے، بلکہ یہ بحیرہ احمر اور افریقہ کے ساحلوں پر اپنی طاقت برقرار رکھنے کی ایک بڑی عالمی بساط کا حصہ ہے۔ سومیلیہ کے لیے یہ اپنی بقا اور سالمیت کا معاملہ ہے، جبکہ سعودی عرب کے لیے یہ خطے میں اپنی قیادت کو منوانے کا ایک ذریعہ ہے۔

Exit mobile version