Site icon URDU ABC NEWS

حکومتِ پاکستان کا سخت پالیسی برقرار رکھنے کا عزم

Second phase of refugees returns

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، اس مرحلے میں ان افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جو بغیر کسی قانونی دستاویز یا میعاد ختم ہونے کے باوجود پاکستان میں مقیم ہیں، تاکہ ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوسرے مرحلے کی منصوبہ بندی

پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد، جس میں لاکھوں غیر قانونی مقیم افراد رضاکارانہ طور پر یا حکومتی تعاون سے اپنے وطن واپس گئے تھے، اب دوسرے مرحلے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:

پالیسی کے پیچھے بنیادی وجوہات

حکومتی حکام اور وزارتِ داخلہ نے اس فیصلے کی کئی اہم وجوہات بیان کی ہیں:

  1. قومی سلامتی: حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ ہر اس فرد کا ریکارڈ موجود ہو جو پاکستانی سرزمین پر قدم رکھتا ہے۔
  2. معاشی بوجھ: غیر قانونی مقیم افراد کی وجہ سے قومی وسائل اور بنیادی سہولیات پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس سے مقامی آبادی متاثر ہو رہی ہے۔
  3. قانونی تقاضے: حکومت کا موقف ہے کہ کسی بھی ملک میں غیر قانونی قیام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے گا۔

انسانی ہمدردی اور عالمی ردِ عمل

اگرچہ حکومت اپنی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بے دخلی کے عمل کے دوران انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔

مستقبل کے اقدامات

حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اب کسی بھی غیر قانونی مقیم فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ جو افراد رضاکارانہ طور پر واپس نہیں جائیں گے، انہیں قانون کے مطابق گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔

اختتامی کلمات

غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا یہ عمل پاکستان کی داخلی سلامتی اور خود مختاری کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ حکومت پرامید ہے کہ اس پالیسی کے مکمل نفاذ سے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور معاشی وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا۔

Exit mobile version