آج کل آبنائے ہرمز اور خام تیل کے جہازوں کی بحث زوروں پر ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ خام تیل کیا ہوتا ہے، اس کا ہماری زندگی میں کیا کردار ہے اور قدرت کی اس بے مثال نعمت سے ہم کیا کچھ حاصل کرتے ہیں۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!خام تیل (Crude Oil) ایک قدرتی طور پر پایا جانے والا سیاہ یا بھورا مائع ہے جو زمین کے اندر پایا جاتا ہے اور مختلف ہائیڈروکاربن مرکبات کا مجموعہ ہوتا ہے۔
یہ تیل لاکھوں سال پرانے مردہ پودوں اور جانوروں کی باقیات سے بنتا ہے جو زمین کے اندر دباؤ اور حرارت کی وجہ سے تبدیل ہو کر تیل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
خام تیل اپنی اصلی حالت میں استعمال کے قابل نہیں ہوتا، لہذا اس کو ریفائنریوں میں ایک عمل سے گزارا جاتا ہے جسے Fractional Distillation کہتے ہیں۔
اس عمل میں اس تیل کو بہت بڑے بڑے distillation towers میں تقریباً 400 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے اور اس دوران درجہ حرارت کے مختلف پوائنٹس پر اس سے کئی مفید اشیاء حاصل کی جاتی ہیں۔
جب distillation towers میں خام تیل کا درجہ حرارت تقریباً 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو اس میں سے میتھین اور ایتھین جیسی ہلکی گیسیں الگ ہو جاتی ہیں۔ یہ گیسیں مختلف پلانٹس اکیمیکل انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہیں۔
اس کے بعد جب درجہ حرارت 20 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو اس دوران LPG گیس الگ ہوتی ہے جو گھریلو چولہوں اور صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے۔
جب درجہ حرارت 40 سے بڑھ کر 150 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو اس دوران پٹرول حاصل ہوتا ہے جسے گیسولین بھی کہتے ہیں۔ یہ کاروں، موٹر سائیکلوں اور چھوٹے انجنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
150 سے 200 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان نیپتھا (Naphtha) الگ کیا جاتا ہے جس سے پلاسٹک اور دیگر کیمیکل مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
اس کے بعد جب درجہ حرارت 200 سے 300 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو مٹی کا تیل (Kerosene) حاصل ہوتا ہے جو جہازوں کے ایندھن اور روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
جب درجہ حرارت 300 سے 350 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو ڈیزل حاصل ہوتا ہے جو بسوں، ٹرکوں اور بھاری گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اس کے بعد 350 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر بھاری تیل اور لبریکنٹنگ آئل (Lubricating Oil) جنہیں آپ موبل آئل بھی کہتے ہیں، حاصل ہوتے ہیں جو گاڑیوں کے انجنز میں اور مشینوں میں چکنائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
آخر میں distillation tower میں سب سے نیچے تارکول (Bitumen) بچ جاتا ہے، جسے آپ لک بھی کہتے ہیں، یہ سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہوتا ہے۔
تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بیرل خام تیل میں سے کیا چیز کتنے فیصد حاصل ہوتی ہے۔

