Site icon URDU ABC NEWS

خیبرپختونخوا کابینہ کا بڑا فیصلہ: سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی، 50 فیصد عملے کے لیے ‘ورک فرام ہوم’ پالیسی منظور

Work from home policy

پشاور (نیوز ڈیسک): وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس 9 مارچ 2026 کو منعقد ہوا، جس میں بین الاقوامی صورتحال اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے پیشِ نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے حوالے سے انقلابی اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان فیصلوں کی تفصیلات بتائیں۔

ایندھن کی بچت اور سرکاری گاڑیوں پر پابندیاں

شفیع جان کے مطابق، وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر صوبے میں فوری طور پر دو ماہ کے لیے “فیول کنزرویشن” اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا اہم ترین نکتہ سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں 25 فیصد کی مزید کٹوتی ہے۔

سرکاری امور میں ڈیجیٹلائزیشن اور ‘ورک فرام ہوم’

حکومت نے سرکاری دفاتر کے کام کرنے کے طریقے میں بھی بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں:

پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات پر پابندی

کابینہ نے وی آئی پی کلچر کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے درج ذیل فیصلے کیے ہیں:

تعلیمی اداروں کے لیے نئی تجویز

ایندھن کی بچت کے لیے تعلیمی شعبے میں بھی اہم تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے:

ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن اور کسانوں کے لیے سہولت

صوبائی حکومت نے ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کو الرٹ کر دیا ہے:

حکومتی موقف

شفیع جان نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد عوام پر براہِ راست بوجھ ڈالے بغیر صوبائی معیشت کا تحفظ اور ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی (Responsible Governance) کو فروغ دینا ہے۔ ان اقدامات کا دو ماہ بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد توسیع کا فیصلہ ہوگا۔

Exit mobile version