اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی جس میں صوبے کے امن و امان، معاشی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان انتظامی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!ملاقات کے اہم نکات:
- دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی: ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر بات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی ایک قومی چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
- صوبائی فنڈز اور معاشی مسائل: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کے واجب الادا فنڈز، این ایف سی (NFC) ایوارڈ اور بجلی کے خالص منافع (NHP) کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت اب تک ضم شدہ اضلاع پر خطیر رقم خرچ کر چکی ہے اور وفاق کی جانب سے بقایاجات کی ادائیگی صوبے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
- وزیراعظم کی ہدایات: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو ہدایت جاری کی کہ وہ وزیراعلیٰ کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ساتھ بیٹھ کر ان مالی مسائل کا قابل عمل حل نکالیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور یہاں کے عوام کی خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت اپنی تمام آئینی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
- غیر سیاسی بات چیت: ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ یہ ملاقات خالصتاً انتظامی اور عوامی مفاد کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا، “اس ملاقات میں بانی پی ٹی آئی یا کسی بھی قسم کی سیاسی صورتحال پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ میرا یہاں آنا بطور وزیراعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا تاکہ میں اپنے صوبے کے حقوق کی بات کر سکوں۔”
شرکت کرنے والے حکام:
ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر امیر مقام اور خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم بھی موجود تھے۔
مستقبل کا لائحہ عمل:
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اور امن و امان کے حوالے سے جلد ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی جس میں وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے متاثرہ عوام کی بحالی اور امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

