Site icon URDU ABC NEWS

وسائل کی تقسیم پر قبضہ

Control of the resources

دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی تقسیم پر قبضہ برقرار رکھنے کا ہے۔
باقی مسائل اسکے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں یا کئے جاتے ہیں۔ بڑا مسلہ حل ہوا تو چھوٹے خودبخود ختم ہو جائیں گے۔
دنیا کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پروپیگنڈے سے نکل کر حقائق کو دیکھئے:

  1. یوکرین کی جنگ:
    یہ جنگ یوکرین اور روس کے درمیان نہیں بلکہ نیٹو افواج اور روس کے درمیان ہے جبکہ امریکہ اب یہاں سے نکل کر شمالی امریکہ کے خلاف وینزویلا اور کولمبیا کے محاذ پر مصروف ہے ۔ وینزویلا اور یوکرین صرف میدان جنگ ہے۔
  2. پاکستان میں (دہشت گردی) جنگ:
    پاکستان کے ساتھ جنگ افغانستان نہیں کر رہا، بلکہ یہ جنگ امریکہ اور انڈیا کر رہے ہیں۔ افغانستان کی زمین استعمال ہو رہی ہے۔

3۔ شام کی تباہی:
شام پر اسرائیل نے قبضہ نہیں کیا، بلکہ شام کی ریاست کو امریکہ نے ختم کیا ہے۔

4۔ عراق کی جنگ:
عراق کو تباہ کرنے کی جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مل کر لڑی۔

5۔ لیبیا کی بربادی:
لیبیا کے رہنما معمر قذافی کو باغیوں نے نہیں بلکہ نیٹو اور عرب اتحادیوں نے قتل کیا اور ملک کو انتشار میں دھکیل دیا۔

6۔ یمن اور شمالی افریقہ:
یمن اور شمالی افریقہ کی جنگیں بھی نیٹو اور عرب اتحادیوں نے مسلط کیں ، جس میں سے یو اے ای اب الگ ہو گیا۔
اسی طرح سوڈان لبنان برازیل آئرلینڈ بوسنیا صومالیہ مقبوضہ کشمیر و فلسطین کے علاقے ہیں۔

اور سب سے اہم سوال وہ یہ ہے کہ اصل طاقت کہاں ہے؟

یہ تمام قرضے، قبضے، جنگیں اور تباہی صرف حکومتوں(بادشاہت جمہوریت آمریت کمیونسٹ) کے فیصلے نہیں ہیں۔ اصل میں یہ بینکرز پر مبنی گلوبل اسٹیبلشمنٹ ہے، جس کے پاس حقیقی طاقت ہے۔ یہی بینکرز حکومتیں بناتے گراتے ہیں، انہیں چلاتے ہیں، اور دنیا میں واقعات کرواتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان حقائق کو سمجھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔

Exit mobile version