کاٹھمنڈو (نیوز ڈیسک): نیپال کی سیاسی تاریخ میں ایک انوکھا اور دلچسپ باب اس وقت رقم ہوا جب ملک کے مشہور سابق ریپر اور نوجوانوں میں مقبول شخصیت، انیش تھاپا مگر (جو موسیقی کی دنیا میں ‘بلین’ کے نام سے مشہور ہیں)، نے نیپال کے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ صدرِ مملکت نے ایک پروقار تقریب میں ان سے عہدے کا حلف لیا۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!موسیقی کے اسٹیج سے اقتدار کی کرسی تک
انیش تھاپا المعروف ’بلین‘ کا وزیراعظم بننا کوئی عام واقعہ نہیں ہے۔ وہ نیپال کے پہلے ایسے سربراہِ مملکت ہیں جن کا تعلق روایتی سیاست کے بجائے فنِ موسیقی اور پاپ کلچر سے ہے۔
- سیاسی سفر: انہوں نے چند سال قبل اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی تھی، جس کا ایجنڈا بدعنوانی کا خاتمہ، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور ملک میں ڈیجیٹل انقلاب لانا تھا۔
- انتخابی معجزہ: حالیہ انتخابات میں ان کی جماعت نے روایتی سیاسی جماعتوں اور دہائیوں سے اقتدار پر قابض تجربہ کار سیاستدانوں کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔
نوجوانوں کی امیدوں کا محور
نیپال کی کل آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملک میں طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران سے تنگ تھے۔ ‘بلین’ نے اپنی انتخابی مہم میں “تبدیلی” اور “جدت” کا نعرہ لگایا، جسے نیپالی نوجوانوں نے بھرپور پذیرائی دی۔
- ان کے گانے اکثر معاشرتی ناانصافیوں اور نظام کی تبدیلی کے بارے میں ہوتے تھے، جس نے انہیں عوامی سطح پر ایک “انقلابی” لیڈر کے طور پر ابھارا۔
حلف برداری کی تقریب اور پہلا خطاب
حلف اٹھانے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں نئے وزیراعظم نے روایتی سوٹ کے بجائے سادہ نیپالی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:
“آج سے نیپال میں پرانی سیاست کا دور ختم اور ایک نئے، جدید اور خوشحال نیپال کا آغاز ہو رہا ہے۔ ہم گولی یا گالی سے نہیں، بلکہ نوجوانوں کی سوچ اور محنت سے ملک بدلیں گے۔”
چیلنجز اور عالمی ردِعمل
اگرچہ ‘بلین’ کی جیت ایک خواب جیسی لگتی ہے، مگر ان کے سامنے چیلنجز کا پہاڑ کھڑا ہے۔
- معیشت کی بحالی: نیپال کی گرتی ہوئی معیشت اور سیاحت کے شعبے کو دوبارہ کھڑا کرنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔
- خارجہ پالیسی: چین اور بھارت جیسے بڑے پڑوسیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ان کے لیے ایک بڑا سفارتی امتحان ہوگا۔
- تجربے کی کمی: ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ریپر کے لیے ملک چلانا اسٹیج پر پرفارم کرنے سے بہت مختلف اور مشکل کام ہے۔
خلاصہ
نیپال میں ایک سابق ریپر کا وزیراعظم بننا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا بھر میں ووٹرز اب روایتی سیاستدانوں سے اکتا چکے ہیں اور نئے، غیر روایتی چہروں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ‘بلین’ اپنی موسیقی کی طرح سیاست کے میدان میں بھی ہٹ ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔

