Site icon URDU ABC NEWS

این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے حقوق کا معاملہ اٹھائیں گے

Fata rights in NFC

سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 4 دسمبر کو این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے حقوق کا معاملہ اٹھائیں گے، وفاقی حکومت کرپشن کے پیسے سے جزیرے خریدنے لگی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ 4 دسمبر کو ہونے والے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ علاقوں یعنی فاٹا کے حقوق کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر وفاقی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 5 ہزار 300 ارب روپے کی کرپشن کر چکی ہے اور یہ رقم عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے حاصل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس کرپشن کی رقم سے بیرون ملک جزیرے خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں جاب فیئر 2025 کے انعقاد کے موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے دو ہزار سے زائد اسٹوڈنٹس باضابطہ طور پر ایمپلائز کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اور انٹرنشپ پالیسی بھی متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

سہیل آفریدی نے انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کہا کہ اپنی توانائی بچا کر رکھیں کیونکہ آئندہ کئی اہم اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام پروگراموں میں اردو زبان استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ خیبر پختونخوا میں نوجوانوں اور تعلیم کے لیے حقیقی کام ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خاص طور پر خواتین انجینئرز کو حوصلہ دیا اور کہا’’میری بہنیں گھبرائیں نہیں، میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘‘

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ فاٹا کے ضم شدہ علاقوں کے لیے 14.6 فیصد شیئر بنتا ہے جو سالانہ 19 فیصد ہونا چاہیے، تاہم صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا۔ ضم علاقوں کا مجموعی شیئر ساڑھے تین سو ارب بنتا ہے، اور جو 400 ارب سالانہ بنتے ہیں وہ بھی خیبر پختونخوا کو نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں میں پیر کے روز سیمینار منعقد کرنے کی ہدایت کی تاکہ طلبہ و نوجوان اس حق سے آگاہ ہو سکیں۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ناحق جیل میں رکھا گیا ہے اور القادر یونیورسٹی کے خلاف کیسز بنائے گئے ہیں، جبکہ میڈیا اور دیگر ادارے خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آخری خون تک عوام اور صوبے کے حقوق کے لیے کھڑے رہیں گے۔

یہ بیان خیبر پختونخوا میں عوامی حقوق، ضم شدہ علاقوں کے حصے، اور نوجوانوں کے لیے ترقیاتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ وفاقی حکومت پر کرپشن اور غیر شفاف سرمایہ کاری کے الزامات بھی سامنے لاتا ہے۔

Exit mobile version