زیورخ / نیویارک (اسپورٹس ڈیسک): فٹ بال کی عالمی تنظیم ‘فیفا’ نے سال 2026 میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کے گروپوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد بڑھنے کے باعث اسے 12 گروپس (A سے L) میں تقسیم کیا گیا ہے، جس نے ابھی سے شائقینِ فٹ بال کے لیے سنسنی خیز مقابلوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!اہم گروپس اور ٹیموں کی ترتیب
اعلان کردہ گروپس میں کئی ایسی ٹیمیں یکجا ہوئی ہیں جن کے درمیان تاریخی رقابت رہی ہے:
- گروپ A اور B: میکسیکو (میزبان) گروپ A میں جنوبی افریقہ اور جنوبی کوریا کا سامنا کرے گا، جبکہ کینیڈا کو گروپ B میں سوئٹزرلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کا چیلنج درپیش ہوگا۔
- گروپ D (میزبان امریکہ): امریکی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا، ترکیہ اور پیراگوئے کے خلاف میدان میں اترے گی۔
- گروپ G (ایران کا گروپ): ایران کو ایک مشکل گروپ میں رکھا گیا ہے جہاں اسے بیلجیم، مصر اور نیوزی لینڈ سے مقابلہ کرنا ہوگا۔
- گروپ J (دفاعی چیمپئن): لیونل میسی کی ارجنٹائن کی ٹیم اپنے اعزاز کے دفاع کا آغاز گروپ J میں الجزائر، آسٹریا اور اردن کے خلاف کرے گی۔
- گروپ K اور L: پرتگال کو گروپ K میں کولمبیا اور ازبکستان کا سامنا ہوگا، جبکہ انگلینڈ گروپ L میں کروشیا اور گھانا جیسی خطرناک ٹیموں کے ساتھ موجود ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ
2026 کا ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہوگا جس میں:
- ٹیموں کی تعداد: پہلی بار 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے لڑیں گی۔
- میزبان ممالک: یہ پہلا موقع ہے کہ تین ممالک (امریکہ، کینیڈا، میکسیکو) مل کر میزبانی کر رہے ہیں۔
- میچوں کی تعداد: گروپ اسٹیج کے بعد ٹاپ ٹیمیں ‘راؤنڈ آف 32’ میں جگہ بنائیں گی، جس سے ٹورنامنٹ کی طوالت اور سنسنی میں اضافہ ہوگا۔
شائقین کا ردِعمل اور عالمی جوش و خروش
گروپس کے اعلان کے ساتھ ہی دنیا بھر میں ٹکٹوں کی فروخت اور ہوٹلوں کی بکنگ میں تیزی آ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گروپ ‘H’ (اسپین، یوراگوئے، سعودی عرب) اور گروپ ‘L’ (انگلینڈ، کروشیا) اس ٹورنامنٹ کے ‘گروپس آف ڈیتھ’ ثابت ہو سکتے ہیں جہاں سے اگلے مرحلے میں رسائی انتہائی مشکل ہوگی۔
خلاصہ: فٹ بال کا نیا عالمی میلہ
فیفا ورلڈ کپ 2026 نہ صرف کھیل کے معیار بلکہ معاشی اور سیاحتی لحاظ سے بھی نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔ برازیل، فرانس، جرمنی اور ارجنٹائن جیسی روایتی بڑی ٹیموں کے ساتھ ساتھ اس بار کئی نئی ٹیمیں بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے تیار ہیں۔

