ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے واشنگٹن میں ہونے والی تقریب سے غیر حاضری کا اعلان کر دیا، فیصلے کو ’غیر ورزشی‘ قرار دیا
تہران/واشنگٹن – (اسپورٹس/سیاسی رپورٹس) ایران نے اگلے سال ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے ڈرا کی تقریب کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ امریکہ نے ایرانی وفد کے لیے محدود تعداد میں ویزے جاری کیے ہیں۔ ایران کی فٹ بال فیڈریشن نے امریکہ کے اس اقدام کو ‘غیر ورزشی’ (Unsportsmanlike) اور کھیلوں کے اصولوں سے ہٹ کر قرار دیا ہے۔
بائیکاٹ کی وجوہات
ورلڈ کپ کا ڈرا واشنگٹن میں ہونا تھا، لیکن امریکہ کی جانب سے سیاسی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایرانی شہریوں پر ویزا کی سخت پابندیاں ہیں۔ ایرانی حکام کو امید تھی کہ یہ پالیسی بین الاقوامی کھیلوں کے ایسے بڑے ایونٹ کے لیے نرم کی جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
- محدود ویزے: ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان امیر مہدی علوی نے ایرانی اسپورٹس نیوز ویب سائٹ ‘طرفداری’ کو بتایا کہ امریکی حکام نے ڈرا کی تقریب میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کو صرف چار ویزے جاری کیے ہیں۔
- فیڈریشن صدر کا انکار: سب سے بڑا تنازع یہ ہے کہ فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کو بھی ویزا نہیں دیا گیا۔ وفد کے سربراہ کے بغیر تقریب میں شرکت کو فیڈریشن نے نامناسب سمجھا۔
- فیصلے پر ردعمل: علوی کے مطابق، “یہ فیصلہ غیر ورزشی ہے اور اس سے یہ راستہ ورزشی عمل سے ہٹ گیا ہے، اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایرانی وفد ڈرا کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔”
فیفا کو اطلاع
ایرانی فیڈریشن نے اپنے اس فیصلے سے عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی فیفا (FIFA) اور اس کے صدر جیانی انفنٹینو کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ فیفا نے اس معاملے کا “سنجیدگی سے جائزہ لینے” کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ورلڈ کپ میں ایران کی پوزیشن
ایران نے رواں سال مارچ میں تہران میں ازبکستان کے خلاف 2-2 سے ڈرا کھیل کر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ یہ ٹورنامنٹ میں ان کی ساتویں بار شرکت اور مسلسل چوتھی بار رسائی ہے۔
یہ بائیکاٹ ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کو کھیلوں کے میدان میں لے آیا ہے، اور اس سے آئندہ ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کے حوالے سے دیگر سفارتی چیلنجز بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

