پشاور (نیوز ڈیسک): پاکستان ہندکووان تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سقاف یاسر خان ایڈووکیٹ نے صوبہ خیبر پختونخوا کے موجودہ نام کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس خطے کا نام تاریخی اعتبار سے ’گندھارا‘ یا پھر پرانا نام ’صوبہ سرحد‘ رکھا جائے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پشاور میں میڈیا نمائندوں سے اہم گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان ہندکووان تحریک نے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے شک جتنے مرضی نئے صوبے بنائے جائیں، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن ہمارا بنیادی مسئلہ موجودہ صوبے کے نام کے ساتھ ہے۔
ڈاکٹر سقاف یاسر خان نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی اعتبار سے یہ پورا خطہ عظیم ’گندھارا‘ تہذیب کا امین رہا ہے، لہذا اس کا اصل اور تاریخی نام ’گندھارا‘ ہی بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گندھارا نام نہیں رکھا جاتا تو پھر اس کا پرانا نام ’صوبہ سرحد‘ بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نام ’پختونخوا‘ کسی بھی صورت اس پورے خطے کی ثقافتی اور تاریخی نمائندگی نہیں کرتا اور نہ ہی یہ نام یہاں کے تمام باشندوں کو قبول ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر سقاف یاسر خان نے ’پختونخوا‘ نام کی حامی بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا نام لیتے ہوئے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں یہاں ’پختونخوا‘ بنانے کی خواہشمند ہیں، وہ اپنے ’دیس‘ افغانستان جا کر یہ شوق پورا کرلیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ جماعتیں افغانستان جا کر وہاں پختونخوا بناتی ہیں تو ہم ان کی اس کوشش کی نہ صرف بھرپور حمایت کریں گے بلکہ مدد بھی فراہم کریں گے، لیکن پاکستان کے اس حصے پر یہ نام مسلط کرنا قابل قبول نہیں۔

