اسلام آباد، 4 مارچ 2026: وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی اور نگرانی کے ذمہ دار ادارے ‘سیف سٹی اسلام آباد’ کے حکام نے ان تمام قیاس آرائیوں اور رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہر کے نگرانی کے نظام میں اب بھی اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر استعمال ہو رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اب مکمل طور پر متنازعہ غیر ملکی سافٹ ویئر سے پاک ہو چکا ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پس منظر: تنازعہ کیا تھا؟
گزشتہ چند سالوں کے دوران مختلف پارلیمانی کمیٹیوں اور میڈیا رپورٹس میں یہ سوالات اٹھائے گئے تھے کہ اسلام آباد سیف سٹی پروجیکٹ کے لیے نصب کیے گئے کیمروں میں ‘فیشل ری کگنیشن’ (چہروں کی شناخت) کے لیے جو ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے، اس کے ڈانڈے ایک اسرائیلی کمپنی سے ملتے ہیں۔ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے اور قومی سلامتی کے پیشِ نظر، اس معاملے نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔
حکام کا حالیہ موقف اور وضاحت
بدھ کے روز جاری کردہ ایک تفصیلی بیان میں متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ:
- سافٹ ویئر کی تبدیلی: سیف سٹی کے پورے نظام کو جدید ترین تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں اگر کوئی ایسا جزو (Component) موجود بھی تھا، تو اسے اب مکمل طور پر نکال کر اس کی جگہ مقامی طور پر تیار کردہ یا دیگر دوست ممالک کے منظور شدہ متبادلات شامل کر لیے گئے ہیں۔
- ڈیٹا کی سکیورٹی: حکام نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد کے شہریوں کا ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور شناخت کا عمل ایک انتہائی محفوظ اور خود مختار (Independent) سرور پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس تک کسی بھی بیرونی یا غیر متعلقہ کمپنی کی رسائی تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔
ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی جانب قدم
سیف سٹی کے ترجمان کے مطابق، اب اسلام آباد کے 2,500 سے زائد کیمرے جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے اس نظام پر چل رہے ہیں جو پاکستان کے اپنے ماہرین اور شراکت داروں نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس نظام کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
- گاڑیوں کی شناخت: مشکوک گاڑیوں اور نمبر پلیٹس کی فوری پہچان۔
- ای چالان سسٹم: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر خودکار طریقے سے جرمانوں کا اجرا۔
- مشکوک نقل و حرکت: اے آئی (AI) کے ذریعے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل الرٹ جاری کرنے کی صلاحیت۔
قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان حساس انفراسٹرکچر میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ‘زیرو ٹالرینس’ (عدم برداشت) کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ تمام سکیورٹی سافٹ ویئرز کا باقاعدگی سے ‘تھرڈ پارٹی آڈٹ’ کرایا جاتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی خفیہ راستہ (Backdoor) یا جاسوسی کا عنصر موجود نہ ہو۔
تجزیہ:
اسرائیلی سافٹ ویئر کے حوالے سے حکام کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کے لیے سائبر سکیورٹی پالیسی کو مزید سخت کر رہا ہے۔ اس وضاحت سے نہ صرف عوامی خدشات دور ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان اپنی سٹریٹجک نگرانی کے لیے مکمل طور پر خود مختار حل استعمال کر رہا ہے۔

