Site icon URDU ABC NEWS

جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشاد حسین شاہ کا وفاقی عدالت کے ججز کے طور پر حلف

Justice Rozi Khan and Justice Arshad Hussain take Oath

اسلام آباد – 17 نومبر 2025۔ ملک کے عدالتی نظام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، معزز جج صاحبان جسٹس (ر) روزی خان اور جسٹس (ر) ارشاد حسین شاہ نے وفاقی عدالت (Federal Court of Cassation – FCC) کے نئے ججز کے طور پر اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ تقرری اعلیٰ عدالتی ڈھانچے کو تقویت دینے اور زیر التواء مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حلف برداری کی پروقار تقریب وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہوئی، جس میں FCC کے چیف جسٹس اور دیگر معزز ججز کے علاوہ اٹارنی جنرل، سینئر وکلاء اور اہم حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔ چیف جسٹس نے دونوں نئے ججز کو حلف دلایا اور عدالتی نظام میں ان کی طویل اور قابل ستائش خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

پہلا حصہ: وفاقی عدالت کی اہمیت اور تقرری کا پس منظر

وفاقی عدالت (FCC) پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر آئینی اور وفاقی قوانین کی تشریح، اور ملک بھر کی ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سننے میں اس کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

1. تقرری کا طریقہ کار اور ضرورت

یہ تقرریاں ججز کی کمی کو دور کرنے اور عدالتی بوجھ کو کم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ایک عرصے سے FCC میں بعض نشستیں خالی تھیں، جس کی وجہ سے اہم مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہو رہی تھی۔ دونوں ججز کی تقرری سے عدلیہ کو نئے عزم اور توانائی سے کام کرنے کا موقع ملے گا۔

2. عدالتی نظام پر فوری اثرات

ان تجربہ کار جج صاحبان کی شمولیت سے FCC کی کارکردگی پر فوری اور مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ توقع ہے کہ نئے بنچز تشکیل دیے جائیں گے تاکہ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔ FCC ججز کی نئی تعداد بنچوں کی تشکیل میں لچک پیدا کرے گی، خاص طور پر سیکیورٹی، معیشت اور انسانی حقوق سے متعلق اہم معاملات کی سماعت کے لیے۔

دوسرا حصہ: نئے جج صاحبان کا پروفائل اور سابقہ خدمات

دونوں نئے ججز کا عدالتی پس منظر شاندار ہے اور ان کے سابقہ فیصلوں نے قانون کے میدان میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

1. جسٹس روزی خان: تجربے کا ایک انمول اثاثہ

جسٹس (ر) روزی خان کا شمار ملک کے ان قانون دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تقریباً چار دہائیوں تک قانون کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کے عہدوں پر بھی خدمات سرانجام دیں اور آئینی قوانین، انتظامی انصاف، اور کارپوریٹ قانون پر ان کی گہری گرفت ہے۔

2. جسٹس ارشاد حسین شاہ: قانون اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج

جسٹس (ر) ارشاد حسین شاہ کا پس منظر نہ صرف قانون پر مبنی ہے بلکہ وہ سائبر قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی تشریح میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی خدمات کے دوران عدالتی فیصلوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا اور سزاؤں کے تعین میں اصلاحات پر زور دیا۔

تیسرا حصہ: عدلیہ اور حکومت کے تعلقات پر اثرات

نئے ججز کی تقرری نے وفاقی حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دی ہے۔ ماضی میں تقرریوں پر ہونے والی سیاسی رسہ کشی کے بعد، ان تقرریوں کو عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

1. انصاف کی فراہمی میں تیزی

وزارت قانون و انصاف نے اس تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت زیر التواء مقدمات کو صفر کرنے (Zero Pendency) کے لیے پرعزم ہے۔ FCC میں نئی تعیناتیوں سے اس مقصد کے حصول میں کلیدی مدد ملے گی اور شہریوں کو عدالتی تقرری پاکستان کا براہ راست فائدہ ہوگا۔

2. وکلاء برادری کا ردعمل

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلاء تنظیموں نے بھی نئے جج صاحبان کی تقرری پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سینئر وکلاء نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ججز اپنی دیانت، ایمانداری اور عدالتی علم کو بروئے کار لاتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کریں گے۔

نتیجہ: جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشاد حسین شاہ کی FCC میں شمولیت عدالتی نظام کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ ان کے تجربے اور تخصص سے توقع ہے کہ وفاقی عدالت کا وقار مزید بلند ہوگا اور شہریوں کو جلد اور سستا انصاف میسر آئے گا۔

ایک سطری SEO کلیدی الفاظ

رابطہ اور مزید تفصیلات کے لیے

نوٹ: مزید تفصیلات اور جج صاحبان کے مکمل پروفائل کے لیے آفیشل گزٹ نوٹیفکیشن یا سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

تفصیلرابطہ ذریعہ
رجسٹری FCCوفاقی عدالت کی انتظامیہ، اسلام آباد
ای میل(سرکاری ذرائع سے رابطہ کی تفصیلات حاصل کریں)
تاریخ حلف17 نومبر 2025
Exit mobile version