Site icon URDU ABC NEWS

ا 250 مقامات تک پھیلاؤ، 35 ہلاک اور وسیع پیمانے پر گرفتاریاں

Urdu-News-1767712119901

تہران / دبئی: ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ملکی کرنسی ‘ریال’ کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، احتجاج کا دائرہ ملک کے 27 صوبوں کے کم از کم 250 مقامات تک پھیل چکا ہے، جس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ہلاکتیں اور گرفتاریاں

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اب تک ان جھڑپوں میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ‘ہرانا’ (HRANA) نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین کے علاوہ 4 بچے اور 2 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

سیکورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 1200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد تہران، اصفہان، قزوین اور کردستان کے علاقوں سے زیرِ حراست لی گئی ہے، جن میں طلبہ اور سماجی کارکنان بھی شامل ہیں۔

احتجاج کی وجہ: معاشی بحران

ان مظاہروں کا آغاز دسمبر 2025 کے آخری ہفتے میں تہران کے ‘گرانڈ بازار’ سے ہوا تھا۔ ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 14 لاکھ تک گرنے اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ احتجاج کا آغاز معاشی مطالبات سے ہوا تھا، لیکن اب مظاہرین سیاسی قیادت کے خلاف بھی نعرے بازی کر رہے ہیں۔

اہم جھڑپیں اور متاثرہ علاقے

حکومت اور عالمی ردعمل

ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو “غیر ملکی سازش” قرار دیا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف نے تسلیم کیا ہے کہ عوام کے جائز معاشی مطالبات کو سنا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال بند کرے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کرے۔

ایران میں انٹرنیٹ کی فراہمی میں بھی خلل کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں تاکہ مظاہرین کو ایک دوسرے سے رابطے اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے سے روکا جا سکے۔

Exit mobile version