Site icon URDU ABC NEWS

سعودی عرب اور یوکرین: دفاعی و تزویراتی تعاون

Saudi Arabia and Ukraine understanding

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!


​1. ​جدہ: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اہم ملاقات۔
​ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے بحران پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
​دونوں رہنماؤں نے عالمی سلامتی، فضائی دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
​2. عالمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی بڑی وارننگ
​ویانا: آئی اے ای اے (IAEA) نے ایران میں حالیہ حملوں کے بعد جوہری حادثات کے خطرے سے خبردار کر دیا۔
​ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ کسی بھی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانا تابکاری کے اخراج کا سبب بن سکتا ہے، جو پورے خطے کو متاثر کرے گا۔
​ایجنسی نے تمام فریقین سے جوہری تحفظ کے اصولوں پر عملدرآمد اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔
​3. قطر اور امریکہ: دفاعی بات چیت
​واشنگٹن: قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن کی امریکی وزیرِ جنگ (Secretary of War) پیٹ ہیگستھ سے ملاقات۔
​ملاقات میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
​4. پاک-امریکہ تعلقات اور انسدادِ دہشت گردی
​امریکی کانگریس: پاک-امریکہ شراکت داری کے 80 سال مکمل ہونے پر تاریخی سمپوزیم کا انعقاد۔
​امریکی اراکینِ کانگریس کا اعتراف: “پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا ملک ہے اور اس کی قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔”
​مقررین نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی بھاری قیمت چکا رہا ہے، امریکہ پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاں ہے۔
​5. عالمی بینک (World Bank) کی رپورٹ: معاشی اثرات
​عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی ہے۔
​مارچ میں خام تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کھادوں اور گیس کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
​رپورٹ کے مطابق نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ملازمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
​6. امریکی خارجہ پالیسی اور نیٹو (NATO) پر تنقید
​امریکی وزیرِ خارجہ کی جانب سے یورپی اتحادیوں اور نیٹو پر تنقید: “جب ہمیں ضرورت پڑی تو نیٹو سے ویسا ردِعمل نہیں ملا جیسا ہونا چاہیے تھا۔”
​بعض یورپی رہنماؤں کا موقف: “یوکرین کا تنازع یورپ یا امریکہ کی جنگ نہیں، لیکن ہم نے پھر بھی بھرپور مدد فراہم کی۔”

Exit mobile version