امریکہ کی یوکرین کے لیے عسکری امداد میں ممکنہ کٹوتی سے یورپی ممالک میں تشویش کی لہر
امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد اور صدر ٹرمپ کی حکومت سنبھالنے کے بعد، یوکرین کی جنگ اور یورپ کی سیکیورٹی کے حوالے سے یورپ میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ یورپی ممالک خوفزدہ ہیں کہ واشنگٹن کی پالیسیوں میں آنے والی تبدیلی، بالخصوص یوکرین کے لیے عسکری اور مالی امداد کی سطح میں ممکنہ کمی، براعظم کی سیکیورٹی اور جیوپولیٹیکل استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
یوکرین کا مستقبل غیر یقینی
یوکرین، جو کہ روسی جارحیت کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر مغربی حمایت پر انحصار کرتا ہے، اب ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ یورپی حکام اور سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ یوکرین میں جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس سے کیف کو روس کے سامنے مشکل شرائط پر مذاکرات پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
- امداد میں کمی: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کو بھیجی جانے والی عسکری اور مالی امداد میں بڑی کٹوتی کا خدشہ ہے، جس سے یوکرین کی دفاعی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
- یورپی بوجھ میں اضافہ: امریکہ کی پسپائی کی صورت میں، یوکرین کو امداد فراہم کرنے کا تمام تر بوجھ یورپی یونین اور نیٹو (NATO) کے رکن ممالک پر آجائے گا، جس کے لیے یورپ کو اپنے دفاعی بجٹ اور پیداواری صلاحیتوں میں فوری اور بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ہوگا۔
یورپ کی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی
یورپی یونین کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے پیش نظر خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ یہ کوششیں دو اہم نکات پر مرکوز ہیں:
- خود انحصاری: یورپی ممالک اب امریکہ پر انحصار کم کرنے اور اپنی دفاعی خود مختاری (Strategic Autonomy) بڑھانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ اس میں مقامی طور پر اسلحہ اور گولہ بارود کی پیداوار میں اضافہ کرنا شامل ہے۔
- نیٹو کا کردار: اگرچہ یورپی ممالک نیٹو کی اہمیت پر متفق ہیں، لیکن امریکی حمایت کے کم ہونے کی صورت میں یورپی ممالک کو نیٹو کے اندر زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کے لیے ‘یورپی ستون’ (European Pillar) کو مضبوط کرنا پڑے گا۔
نیٹو پر ٹرمپ کا دباؤ
صدر ٹرمپ نے طویل عرصے سے نیٹو کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی (GDP) کے 2 فیصد تک بڑھائیں، اور وہ ایسا نہ کرنے والے ممالک کو امریکہ کی طرف سے تحفظ فراہم کرنے کی گارنٹی سے دستبردار ہونے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔
یورپی رہنما اب اس دباؤ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اور دفاعی اخراجات میں اضافہ ایک پالیسی ترجیح بن چکا ہے تاکہ واشنگٹن کے ممکنہ سخت ردعمل سے بچا جا سکے۔ اگرچہ بہت سے ممالک نے اخراجات میں اضافہ کیا ہے، لیکن بعض چھوٹے ممالک اور اقتصادی طور پر کمزور ریاستوں کے لیے یہ ہدف اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
مختصر یہ کہ صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت کے تحت یورپ ایک نئے سیکیورٹی تناظر کا سامنا کر رہا ہے جہاں اسے اپنے دفاع کے لیے تیزی سے بڑے، مہنگے اور زیادہ خودمختار فیصلے لینے پڑ رہے ہیں۔

