Preloader
2 girls recovered by ministry's intervention

اہم نکات:

  • بروقت ریسکیو: جامشورو کے علاقے مریم گارڈن کوٹری سے لاپتہ ہونے والی دو کمسن طالبات، نور ارباب اور کلثوم آفریدی، کو صوبائی وزیر برائے ترقیِ نسواں شاہینہ شیر علی اور پولیس کے اشتراک سے بحفاظت تحویل میں لے لیا گیا۔
  • واقعے کا پس منظر: گھریلو پابندیوں، تنہائی اور شدید ذہنی دباؤ کے باعث دونوں طالبات 28 ستمبر 2026 کو پشاور روانہ ہو گئی تھیں اور واپسی پر کراچی پہنچتے ہی انہیں ریسکیو کیا گیا۔
  • نفساتی کونسلنگ: تحویل میں لینے کے بعد بچیوں کو سیف ہاؤس جامشورو منتقل کیا گیا، جہاں معلوم ہوا کہ نور ارباب والدہ کی وفات کے بعد سے شدید تنہائی کا شکار تھی۔
  • عدالتی فیصلہ: معزز عدالت کے حکم پر تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد دونوں طالبات کو ان کے والدین اور سرپرستوں کے حوالے کر دیا گیا۔

گھریلو دباؤ اور غیر متوقع سفر: حادثاتی قدم سے بحفاظت برآمدگی تک

جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر): ضلع جامشورو کے علاقے کوٹری مریم گارڈن کی رہنے والی دو کمسن طالبات کے پراسرار طور پر غائب ہونے کا ڈرامائی ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ صوبائی وزیر برائے ترقیِ نسواں سندھ، محترمہ شاہینہ شیر علی کی ذاتی دلچسپی، ہنگامی حکمتِ عملی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ کاوشوں کے نتیجے میں دونوں نادان بچیوں، نور ارباب اور کلثوم آفریدی، کو کراچی سے بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقاتی تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں طالبات گھریلو سخت پابندیوں، نجی مسائل اور شدید ذہنی دباؤ سے تنگ آ کر مورخہ 28 ستمبر 2026 بروز پیر اپنے گھروں سے ناخوش ہو کر نکل گئی تھیں۔ دونوں بچیوں نے بغیر کسی سرپرست کے تقریباً 24 گھنٹے کا خطرناک اور طویل سفر طے کر کے پشاور کا رخ کیا۔ پشاور میں چند گھنٹے قیام کے بعد جب انہیں اپنی نادانی کا احساس ہوا تو وہ اسی روز دوبارہ کراچی کے لیے واپس روانہ ہو گئیں، جہاں پہنچتے ہی انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

پولیس اور وومن ڈولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ اور حکمتِ عملی پر مبنی کارروائی

واقعے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتے ہی صوبائی وزیر برائے ترقیِ نسواں محترمہ شاہینہ شیر علی نے ذاتی طور پر تمام صورتحال کی نگرانی کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام بالخصوص ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیق چھانگا اور ڈی ایس پی شاہنواز جوکھیو سے فوری رابطہ قائم کیا اور ایک تکنیکی و ریسکیو ٹیم تشکیل دی۔

جدید تکنیکی سائبر ٹریسنگ اور پولیس کی متحرک معاونت کی بدولت کراچی پہنچتے ہی دونوں طالبات کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔ ابتدائی قانونی مراحل کے بعد بچیوں کو فوری طور پر سیف ہاؤس جامشورو کی انچارج سیدہ قرۃ شاہ کی سپردگی میں دیا گیا۔ صوبائی وزیر نے انچارج سیف ہاؤس کو سخت ہدایات جاری کیں کہ دونوں کمسن بچیوں کو فوری طور پر محفوظ ماحول، طبی دیکھ بھال، تحفظ اور ماہر نفسیات کے ذریعے پیشہ ورانہ کونسلنگ فراہم کی جائے۔

نفسیاتی کونسلنگ اور دردناک پس منظر: تنہائی کے کرب نے بچی کو مجبور کیا

سیف ہاؤس جامشورو میں ماہرین کی جانب سے فراہم کی جانے والی کونسلنگ کے دوران ایک انتہائی دردناک اور جذباتی کہانی سامنے آئی۔ معلوم ہوا کہ طالبہ نور ارباب کسی معاندانہ ارادے کے بجائے شدید نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ، تنہائی اور محرومیوں کا شکار تھی:

  • والدہ کی رحلت: نور ارباب کی والدہ کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب وہ محض دو ماہ کی شیر خوار بچی تھی۔
  • سرپرستی کا پس منظر: نور کے حقیقی والد کا نام لیاقت جوکھیو ہے۔ تاہم والدہ کی ناگہانی وفات کے بعد بچی کی پرورش اور قانونی کسٹڈی اس کے چچا الطاف حسین کے سپرد کر دی گئی، جن کا نام کاغذات میں بطورِ والد درج ہوا اور تمام تعلیمی و معاشی اخراجات بھی وہی برداشت کرتے رہے۔
  • مزيد صدمہ: چچا کی اہلیہ ارشاد بی بی نے نور کی ماں کی طرح پرورش کی، لیکن بدقسمتی سے دو سال قبل ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس دوسرے بڑے صدمے نے نور ارباب کو جذباتی طور پر توڑ کر رکھ دیا اور وہ خود کو بے حد تنہا محسوس کرنے لگی۔
  • موجودہ رہائش: فی الوقت بچی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کی پھوپھی بی بی بے نظیر کے پاس ہے اور وہ انہی کے ساتھ مقیم تھی۔
  • دوست کا ساتھ: اس تمام تر غمگین ماحول اور جذباتی بحران میں دوسری طالبہ کلثوم آفریدی ہی نور کی واحد سچی دوست اور غمگسار بن کر سامنے آئی، جس نے نادانی میں اپنی سہیلی کی جذباتی حالت کا ساتھ دیتے ہوئے یہ سفر کیا۔

عدالتی کارروائی اور خاندان کے حوالے کرنا

تمام طبی معائنے اور سیف ہاؤس میں تحویل کے عمل کے بعد، ہفتے کے روز دونوں طالبات کو مقامی معزز عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالت نے پولیس اور وومن ڈولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ، بچیوں کے بیانات اور ان کے نفسیاتی جائزے کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

تمام قانونی تقاضے اور کاغذی کارروائی مکمل ہونے پر محترم جج کے حکم کے مطابق دونوں کمسن بچیوں کو ان کے والدین اور سرپرستوں کے حوالے کر دیا گیا، جس پر لواحقین نے حکومتِ سندھ اور پولیس کا شکرانہ ادا کیا۔

صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کا پیغام اور سوشل میڈیا پر تنقید

کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد اپنے خصوصی بیان میں صوبائی وزیر برائے ترقیِ نسواں شاہینہ شیر علی نے معاشرتی رویوں اور نادان بچوں کے تحفظ کے حوالے سے گہرے جذبات کا اظہار کیا۔

“ہماری بچیاں ہمارا اور اس قوم کا مستقبل ہیں۔ اگر نادانی یا ذہنی دباؤ کے باعث ان سے کوئی غلطی یا بھول ہو بھی جائے تو ایک با شعور ریاست اور ذمہ دار معاشرے کا فرض ہے کہ ہم ان کی کردار کشی کرنے کے بجائے محبت، شفقت اور صحیح رہنمائی سے ان کا مستقبل سنواریں۔” — محترمہ شاہینہ شیر علی (صوبائی وزیر ترقیِ نسواں سندھ)

صوبائی وزیر نے ان شرپسند اور غیر ذمہ دار عناصر کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جنہوں نے بچیوں کے گھر سے غائب ہونے کے دوران ان کی تصاویر اور نجی معلومات کو سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ان کی کردار کشی کی کوشش کی اور ان کی زندگیوں کو مزید سیکیورٹی خطرات میں ڈالا۔

آخرمیں صوبائی وزیر نے کامیابی سے آپریشن مکمل کرنے پر انچارج سیف ہاؤس سیدہ قرۃ شاہ، ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیق چھانگا، ڈی ایس پی شاہنواز جوکھیو اور ان کی پوری ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔

اعداد و شمار: کمسن بچوں کے لاپتہ ہونے اور نفسیاتی مسائل کا ڈیٹا

سماجی ماہرین اور چائلڈ پروٹیکشن کے عالمی و قومی اداروں کے ڈیٹا کے مطابق نو عمر بچوں کے گھروں سے ناخوش ہو کر نکلنے میں نفسیاتی عوامل کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے:

  1. گھریلو تشدد و تنہائی: پاکستان میں 12 سے 17 سال کے بچوں کے گھر سے ناخوش ہو کر نکلنے کی 45 فیصد وجوہات میں گھروں کا سخت ماحول، پیار کی کمی اور والدین کا بچھڑنا شامل ہے۔
  2. سوشل میڈیا اور راز داری کی خلاف ورزی: 80 فیصد سے زائد کیسز میں سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر وائرل ہونے سے ان کا تعلیمی و سماجی کیریئر تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
  3. وقت پر کونسلنگ کے نتائج: بروقت نفسیاتی اور سماجی کونسلنگ فراہم کرنے سے 90 فیصد سے زیادہ بچے دوبارہ اپنے خاندانوں کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: بچوں کے جذباتی بحران اور معاشرتی ذمہ داری

جامشورو کا یہ واقعہ صرف دو بچیوں کی گمشدگی اور برآمدگی کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے پورے خاندانی اور معاشرتی نظام کے لیے ایک اہم لمحہ فکریہ ہے۔

اکثر اوقات والدین اور سرپرست بچوں کی جسمانی اور مالی ضروریات تو پوری کر دیتے ہیں، لیکن ان کی جذباتی، نفسیاتی اور ذہنی تسکین کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ماں باپ یا سرپرست کی وفات کے بعد بچوں کو جس شدید صدمے اور خالی پن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا تدارک صرف اور صرف محبت، وقت اور توجہ سے ہی ممکن ہے۔

علاوہ ازیں، سوشل میڈیا صارفین کو بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں بغیر تصدیق کے کمسن بچیوں کی تصاویر یا خبریں وائرل کرنا ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔ اس پورے واقعے میں وومن ڈولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور جامشورو پولیس نے جس سنجیدگی اور ہمدردی سے کام لیا، وہ دیگر انتظامی اداروں کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے۔