خیبرپختونخوا کا قرض ایک سال میں 149 ارب روپے بڑھ کر 680 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو کہ صوبے کی معاشی صورتحال کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ یہ اضافہ 28 فیصد کے قریب ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں گزشتہ حکومت کی مالی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرض لینے کی ضرورت شامل ہیں۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!Table of Contentsقرضوں کا پس منظرمالی سال 2024-25 کا بجٹمعاشی اثراتسیاسی منظرنامہمستقبل کی حکمت عملینتیجہقرضوں کا پس منظرخیبرپختونخوا کے قرضوں کا حجم 530.723 ارب روپے سے بڑھ کر 680 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو کہ ایک سال کی مدت میں h-giar-sob-ki-trki-ki-slahit-ko-shdid-nksan-ka-samnarpor اضافہ ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اضافہ سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے دور میں ہوا، جب صوبائی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر قرض لیا۔ دستاویزات کے مطابق، اس دور میں 405 ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا گیا، جس نے صوبے کے مالی حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔مالی سال 2024-25 کا بجٹمالی سال 2024-25 کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 67 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، جس میں 40 ارب روپے اصل ادائیگیوں اور 27 ارب روپے سود کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں۔ یہ بجٹ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنے مالیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔معاشی اثراتقرضوں میں اضافہ نہ صرف صوبے کی معیشت پر منفی اثر ڈال رہا ہے بلکہ اس سے عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے مالی معاملات کو بہتر بنانے اور نئے قرض لینے کی بجائے موجودہ وسائل کو موثر طریقے سے استعمال کرنے پر توجہ دے۔سیاسی منظرنامہاس صورتحال میں سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما سابق وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ ان کے دور میں کیے گئے ترقیاتی منصوبے دراصل عوام کی بہتری کے لیے تھے، جبکہ موجودہ حکومت ان منصوبوں کو ناکام قرار دے رہی ہے۔ دوسری جانب، موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے بلا سوچے سمجھے قرضے لے کر صوبے کو مالی مشکلات میں مبتلا کیا۔مستقبل کی حکمت عملیخیبرپختونخوا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرے اور نئے قرض لینے کی بجائے اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرے۔ اس کے علاوہ، حکومت کو عوامی خدمات کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے نئے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ صوبے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔نتیجہخیبرپختونخوا کا بڑھتا ہوا قرض ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کا حل فوری طور پر تلاش کرنا ضروری ہے۔ اگر صوبائی حکومت اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکام رہی تو یہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ عوامی زندگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں اور صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Post navigationمختلف حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو پیغام باکستان بار کونسل نے وکلاء کے سوشل میڈیا شارٹ وڈیو بنانے پر پابندی عاٸد کردی