google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Housing

پشاور (خصوصی رپورٹ) – 28 اگست 2025: خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے ایک تاریخی اور قابلِ تحسین قدم اٹھاتے ہوئے “گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن بل 2025” کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ یہ بل، جو صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کو سستی اور منظم رہائشی سہولیات فراہم کرنے کا ایک revolutionary اقدام ہے، اسمبلی کے 9ویں اجلاس میں پیش کیا گیا اور اس کی منظوری سے صوبے میں ہاؤسنگ سیکٹر میں نئی جہت کا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف سرکاری ملازمین کے دیرینہ مطالبات کو پورا کرتا ہے بلکہ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے وژن کو عملی شکل دیتا ہے۔ 0

اجلاس کی کارروائی کے دوران، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد نے یہ بل پیش کیا، جس کا بنیادی مقصد ایک مستقل ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا قیام ہے جو صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کو کم لاگت پر معیاری رہائش فراہم کرے گا۔ ڈاکٹر امجد نے اسمبلی فلور پر بل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سرکاری ملازمین کی مالی مشکلات کو کم کرنے اور انہیں محفوظ اور آرام دہ رہائش مہیا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد، اسمبلی میں تالیوں کی گونج سنائی دی اور اراکین نے اسے صوبے کی ترقی کی سمت میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

بل کی تفصیلات اور مقاصد

“خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایکٹ 2025” کے تحت ایک خودمختار ہاؤسنگ فاؤنڈیشن قائم کی جائے گی جو حکومت کی سرپرستی میں کام کرے گی اور اسے مکمل قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔ اس فاؤنڈیشن کا بنیادی ہدف صوبے بھر کے سرکاری ملازمین کو سستی ہاؤسنگ سکیموں کے ذریعے فائدہ پہنچانا ہے۔ بل کے مطابق، یہ فاؤنڈیشن مختلف ہاؤسنگ پراجیکٹس شروع کرے گی جن میں رہائشی پلاٹس، فلیٹس اور ہاؤسز شامل ہوں گے، اور یہ تمام منصوبے شفافیت اور معیار کے اعلیٰ معیار پر مبنی ہوں گے۔ 2

اس ایکٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تمام صوبائی سرکاری ملازمین، بشمول کلاس ون سے کلاس فور تک کے افسران اور عملہ، اس سہولت کے اہل ہوں گے۔ ملازمین کو محکمہ ہاؤسنگ کے زیر اہتمام چلنے والے رہائشی منصوبوں سے براہ راست فائدہ ملے گا۔ بل میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ خواہشمند ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ کٹوتی کی جائے گی، جو ایک منظم اور شفاف فنڈ میں جمع ہو گی۔ اس فنڈ کے بدلے، ملازمین کو مناسب لاگت پر رہائشی پلاٹس الاٹ کیے جائیں گے۔ یہ کٹوتی اختیاری ہو گی، اور ملازمین کو اس سکیم میں شمولیت کی آزادی ہو گی تاکہ وہ اپنی مالی صلاحیت کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔

بل کی منظوری سے پہلے، اسمبلی میں بحث کے دوران اراکین نے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ایک رکن اسمبلی نے کہا کہ “سرکاری ملازمین ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان کی رہائشی مشکلات کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ بل ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گا۔” بل میں یہ بھی شامل ہے کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو صوبے بھر میں نئی ہاؤسنگ کالونیز قائم کرنے کا اختیار حاصل ہو گا، جو جدید سہولیات جیسے پارکس، سکولز، ہسپتالز اور سیکورٹی سسٹم سے آراستہ ہوں گی۔

تاریخی پس منظر اور دیرینہ مطالبہ

یہ بل سرکاری ملازمین کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جو اب پورا ہو گیا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے، ملازمین کی یونینز اور ایسوسی ایشنز نے ہاؤسنگ سکیموں کی ضرورت پر زور دیا تھا، خاص طور پر پشاور، مردان، سوات اور دیگر اضلاع میں جہاں رہائشی اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں۔ حکومت خیبر پختونخوا نے اس مطالبے کو اپنے فلیگ شپ ایجنڈا میں شامل کیا تھا، اور اب اس کی منظوری سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے بل کی منظوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ہماری حکومت کا عوام دوست اقدام ہے جو سرکاری ملازمین کو بااختیار بنائے گا۔ اب ہر ملازم اپنی تنخواہ سے چھوٹی چھوٹی کٹوتیوں کے ذریعے اپنے خوابوں کا گھر حاصل کر سکے گا۔” معاون خصوصی ڈاکٹر امجد نے بھی اس موقع پر کہا کہ محکمہ ہاؤسنگ اور ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے عملے کی انتھک کاوشوں سے یہ ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فاؤنڈیشن نہ صرف رہائش فراہم کرے گی بلکہ صوبے میں ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کو بھی فروغ دے گی، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ 4

معاشی اور سماجی اثرات

یہ اقدام صوبے میں معاشی استحکام کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ سرکاری ملازمین، جو اکثر کم تنخواہوں اور مہنگائی کی وجہ سے رہائشی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، اب اس سکیم کے ذریعے مالی بوجھ کم کر سکیں گے۔ بل کے تحت، ہاؤسنگ پراجیکٹس کو صوبے کے مختلف اضلاع میں پھیلایا جائے گا تاکہ دور دراز علاقوں کے ملازمین بھی استفادہ کر سکیں۔ یہ نہ صرف ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ ان کی کام کی کارکردگی میں بھی اضافہ لائے گا۔

مزید برآں، یہ قانون ہاؤسنگ اور ترقیاتی شعبے کو فروغ دے گا۔ نئی ہاؤسنگ کالونیز کی تعمیر سے کنسٹرکشن انڈسٹری میں بوم آئے گا، جس سے ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بل صوبے کی مجموعی جی ڈی پی میں اضافے کا باعث بنے گا اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو منظم کرے گا۔ حکومت کا وژن “بہترین رہائش سب کے لیے” اب عملی جامہ پہن رہا ہے، اور یہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا۔

شفافیت اور نفاذ کے اقدامات

بل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات شامل ہیں۔ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت کام کرے گی جو الاٹمنٹ، فنڈز کی تقسیم اور پراجیکٹس کی نگرانی کرے گی۔ ملازمین کو آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کی سہولت ملے گی، اور تمام عمل ڈیجیٹلائزڈ ہو گا تاکہ بدعنوانی کا کوئی امکان نہ رہے۔ بل کی منظوری کے بعد، حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پہلے فیز میں پشاور اور مردان میں ہاؤسنگ سکیمیں شروع کی جائیں گی، جن میں ہزاروں پلاٹس الاٹ کیے جائیں گے۔

اسمبلی کے اراکین نے بل کی منظوری پر حکومت کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام جلد ہی زمینی سطح پر نظر آئے گا۔ ایک اپوزیشن رکن نے کہا کہ “یہ بل پارٹی لائنز سے بالاتر ہے اور تمام ملازمین کے لیے یکساں فائدہ مند ہے۔”

نتیجہ: ایک نئی صبح کا آغاز

خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن بل 2025 کی منظوری ایک تاریخی سنگ میل ہے جو سرکاری ملازمین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ یہ نہ صرف ان کی رہائشی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ حکومت کی اس کوشش سے یہ واضح ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور یہ اقدام آنے والے دنوں میں مزید مثبت نتائج لائے گا۔ سرکاری ملازمین اب اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پر امید ہیں، اور یہ بل ان کی محنت کا حقیقی اعتراف ہے۔ 1

صفراوادی‘: انڈونیشیا کا وہ ’مقدس غار جہاں مکہ تک پہنچانے والی خفیہ سرنگ‘ موجود ہے جعفر ایکسپریس کے مسافروں نے کیا دیکھا؟ سی ڈی اے ہسپتال میں لفٹ خراب ٹریفک پولیس جدید طریقہ واردات