اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں بیک وقت خطرناک کشیدگیاں جنم لے رہی ہیں اور حالات اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ عام آدمی سمجھ نہیں پا رہا کہ انجام کس طرف جا رہا ہے۔ آئیے، جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، اسے سادہ، عام فہم اور مربوط انداز میں ایک تصویر کی صورت دیکھتے ہیں:
1️⃣ ایران احتجاج کا دائرہ وسیع
بی بی سی اور ایرانی مقامی ذرائع کے مطابق، ایران کے شہر اصفہان میں واقع سرکاری ریڈیو اور ٹیلی وژن کی عمارت کو آگ لگا دی گئی ہے۔ مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کا مرکزی علاقہ اس وقت مکمل طور پر مظاہرین کے کنٹرول میں ہے، جہاں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔
ریڈیو کی عمارت پر دھاوے کے بعد بعض مظاہرین نے ایرانی کا پرچم اتار کر شاہِ ایران کے دور کا پرانا شاہی پرچم لہرا دیا، جو اس احتجاج کی نوعیت کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
2️⃣ رضا پہلوی کی بغاوت کی اپیل
اسی تناظر میں سابق شاہِ ایران کے بیٹے اور ولی عہد رضا پہلوی کھل کر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایرانی عوام کو کھلے الفاظ میں حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ وہ مظاہرین کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ “امریکہ اور پوری دنیا تمہیں دیکھ رہی ہے”
رضا پہلوی کا خواب ایران میں دوبارہ بادشاہت کا نظام بحال کرنا ہے۔ وہ امریکہ میں مقیم ہیں اور ان پر یہ الزام عام ہے کہ وہ امریکہ اور صہیونی طاقتوں کے مکمل وفادار ہیں اور پسِ پردہ انہی کی سرپرستی میں متحرک ہیں۔
3️⃣ ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو ایک سخت اور غیر معمولی انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی تو امریکہ کی جانب سے شدید اور سخت ردعمل آئے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ: “ایرانی جانتے ہیں کہ وہ مکمل نگرانی میں ہیں”
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر دیواروں پر نعرے لکھے گئے ہیں:
“Trump… We are waiting for you”
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ نعرے واقعی ایرانی شہریوں نے لکھے ہیں یا موساد سے منسلک خفیہ نیٹ ورکس اس کے پیچھے ہیں۔
4️⃣ انٹرنیٹ بند، مگر اسٹارلنک فعال
ایران میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کیا جا چکا ہے۔ اس بندش کے بعد ایلون مسک میدان میں آ گئے اور اعلان کیا کہ ایران کے لیے Starlink سیٹلائٹ انٹرنیٹ مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسٹارلنک استعمال کرنے کے لیے خصوصی آلات درکار ہوتے ہیں۔ یہ آلات عام شہریوں کے پاس نہیں ہوتے، اسی لیے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں، خصوصاً موساد، پہلے ہی یہ سہولت اپنے نیٹ ورکس کو فراہم کر چکی ہیں تاکہ مظاہروں کو مزید بھڑکایا جا سکے۔
5️⃣ دنیا کا دوسرا محاذ:
اب ذرا منظر کو وسیع کرتے ہیں۔ روس نے یوکرین کے شہر لویو (Lviv) پر اپنا انتہائی خطرناک ہائپرسونک میزائل “اوریشنک (Oreshnik)” داغا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق لگ بھگ 10 زور دار دھماکے سنے گئے۔ میزائل متعدد وارہیڈز پر مشتمل تھا۔ کم از کم 8 دھماکہ خیز حصے لے کر آیا تھا۔ یہ میزائل ان ہتھیاروں میں شامل ہے جنہیں یورپ اور امریکہ ریڈ لائن تصور کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ کوئی دفاعی نظام اسے روک نہیں سکتا۔ یہ حملہ پولینڈ کی سرحد سے صرف 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا، جو براہِ راست نیٹو کے لیے ایک کھلا پیغام ہے۔
اطلاعات کے مطابق یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض رپورٹس کہتی ہیں کہ اس حملے کے بعد یوکرین اپنے گیس ذخائر کا نصف کھو چکا ہے۔ تاہم یہ معلومات ابھی حتمی طور پر تصدیق شدہ نہیں۔
6️⃣ ٹرمپ کا چین اور تائیوان پر حیران کن بیان
آخر میں ایک اور خطرناک اشارہ… ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں کہا: “چین تائیوان کے ساتھ کیا کرے گا، یہ مکمل طور پر چینی صدر کا فیصلہ ہے۔”
یہ بیان بظاہر غیر جانبدار لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ اس کے دو ممکنہ مطلب نکالے جا رہے ہیں۔ پہلا کمزور امکان کہ امریکہ اور چین کے درمیان کوئی خفیہ مفاہمت ہو، جس کے تحت تائیوان کے بدلے چین کو دیگر خطوں سے دور رکھا جائے، مگر تائیوان کی اسٹرٹیجک اہمیت دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور ہے۔ دوسرا زیادہ مضبوط امکان یہ کہ ٹرمپ جان بوجھ کر چین کو تائیوان پر حملے کے لیے اکسا رہے ہیں، تاکہ چین جنگ میں پھنسے، جاپان، آسٹریلیا اور شاید کوریا میدان میں اتریں اور چین بھی روس کی طرح ایک طویل جنگی دلدل میں دھنس جائے۔
یہ تمام واقعات مل کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دنیا ایک نئے، غیر معمولی اور خطرناک عالمگیر مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں آگ صرف ایک ملک میں نہیں، بلکہ بیک وقت کئی براعظموں میں سلگ رہی ہے۔ یہ محض خبریں نہیں، بلکہ آنے والے بڑے طوفان کے ابتدائی جھونکے ہیں۔
