Israel captured Beaufort Castle

بیروت / تل ابیب (خصوصی عسکری رپورٹ): مشرقِ وسطیٰ کے محاذ پر جاری شدید ترین زمینی اور فضائی جنگ کے دوران ایک انتہائی اہم اور تزویراتی عسکری پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے جنوبی لبنان کے پہاڑی سلسلے پر واقع تاریخی اور تزویراتی طور پر انتہائی اہمیت کے حامل بوفورٹ قلعے (Beaufort Castle) پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تاریخی قلعے پر اسرائیلی پیش قدمی خطے میں جاری زمینی جنگ کا ایک بڑا اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ مقام پورے خطے کی عسکری نگرانی کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

بوفورٹ قلعے کی تزویراتی اہمیت اور جغرافیائی موقع

بوفورٹ قلعہ، جسے مقامی طور پر ‘قلعہ الشقیف’ بھی کہا جاتا ہے، جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے قریب ایک اونچی پہاڑی چٹان پر واقع ہے۔ یہ قلعہ کئی صدیوں پرانا ہے اور صلیبی جنگوں کے دور سے ہی اپنی دفاعی پوزیشن کی وجہ سے مشہور ہے۔ عسکری نقطہِ نگاہ سے اس کی اہمیت درج ذیل ہے:

  • بلند ترین پوزیشن: یہ قلعہ سطح سمندر سے سینکڑوں میٹر بلندی پر واقع ہے، جہاں سے پورے جنوبی لبنان، شمالی اسرائیل (گلیل کے علاقے) اور شامی سرحد کے حصوں پر براہِ راست نظر رکھی جا سکتی ہے۔
  • آرٹلری اور میزائل پوزیشن: اس بلندی پر قابض ہونے والی عسکری قوت آسانی سے ارد گرد کے دوجنوں دیہاتوں اور شہروں کو اپنی توپوں اور میزائلوں کے نشانے پر رکھ سکتی ہے، جس سے نیچے موجود زمینی افواج کی نقل و حرکت مکمل طور پر مفلوج ہو جاتی ہے۔

خونریز زمینی لڑائی اور حزب اللہ کی مزاحمت

رپورٹس کے مطابق، اس قلعے پر قبضہ کرنا اسرائیل کے لیے آسان ثابت نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج کو اس پہاڑی چٹان پر اگے بڑھنے کے لیے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب سے شدید اور سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

  1. گلی کوچوں کی جنگ: اسرائیلی کمانڈوز اور بکتر بند دستوں کو قلعے کے اطراف بنے زیرِ زمین بنکروں اور سرنگوں کے نیٹ ورک سے شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جہاں حزب اللہ نے ٹینک شکن میزائلوں (ATGMs) کا بھرپور استعمال کیا۔
  2. فضائی بمباری کا سہارا: زمینی پیش قدمی کو ممکن بنانے کے لیے اسرائیلی فضائیہ نے قلعے کے ارد گرد کے دفاعی حصار پر درجنوں شدید فضائی حملے کیے، جس کے بعد عسکری توازن اسرائیل کے حق میں جھک گیا اور وہ قلعے کے مرکزی ڈھانچے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اسرائیل کا اگلا عسکری ہدف اور لبنان کا ردِعمل

اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ بوفورٹ قلعے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ان کی افواج کو جنوبی لبنان کے اندرونی حصوں، بالخصوص دریائے لیطانی کے شمالی کناروں کی طرف پیش قدمی کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ اسرائیل کا بنیادی مقصد اس بلندی کو استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ کے راکٹ داغنے والے مواضعات کو پیچھے دھکیلنا ہے تاکہ اپنے شمالی شہروں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

دوسری جانب، لبنانی عسکری حلقوں اور حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے اس عسکری نقصان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قلعے پر عارضی قبضہ جنگ کا خاتمہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گوریلا جنگ کے اصولوں کے تحت یہ علاقہ اب بھی اسرائیلی سپاہیوں کے لیے ایک ‘ڈیتھ ٹریپ’ (موت کا کنواں) ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ حزب اللہ کے دستے ارد گرد کی وادیوں میں اب بھی متحرک ہیں اور وہ سپلائی لائن کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

عالمی تشویش اور جنگ کا پھیلاؤ

اس تاریخی اور تزویراتی مقام پر قبضے کی خبر نے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مبصرین (UNIFIL) نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا یہ نیا رخ لبنانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے بیروت تک جنگ پھیلنے کے خدشات حقیقی ہو گئے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے لیے بیک چینل سفارت کاری کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم زمین پر بڑھتی ہوئی عسکری جارحیت کے باعث فوری امن کے امکانات تاحال معدوم نظر آتے ہیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025