پشاور میں اہم پش رفت: نیوٹراسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے خیبر پختونخوا چیپٹر کا پہلا اجلاس پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔صنعت کو درپیش چیلنجز: رجسٹریشن کے پیچیدہ طریقہ کار، ریگولیٹری رکاوٹوں اور حکومتی سرپرستی کی کمی کو صنعت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا۔برآمدی صلاحیت: مرکزی قیادت کے مطابق نیوٹراسیوٹیکل شعبے کی برآمدی صلاحیت روایتی فارماسیوٹیکل انڈسٹری سے بھی زیادہ ہے۔اتحاد اور مستقبل کا لائحہ عمل: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز (DGTO) سے ایک ماہ میں رجسٹریشن کے بعد مینوفیکچررز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھنے کا عزم۔پشاور: قومی اور صوبائی قیادت کی شرکت اور بنیادی پس منظرپاکستان کی معیشت اور طبی شعبے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی نیوٹراسیوٹیکل انڈسٹری کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیوٹراسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (NMAP) کے خیبر پختونخوا چیپٹر کا پہلا تفصیلی اجلاس پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر اور بالخصوص خیبر پختونخوا سے صنعت سے وابستہ ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس کی صدارت ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین دانش خان اور پیٹرن اِن چیف ملک طارق محمود نے کی۔ دیگر نمایاں شرکاء میں ایگزیکٹو ممبر خیبر پختونخوا فیصل کاکاخیل، ایگزیکٹو ممبر قاضی مراد، سابق پارلیمنٹیرین ناصر خان موسازئی اور کے پی پی ایم اے (KPPMA) کے صدر امتیاز خان سمیت نیوٹراسیوٹیکل صنعت کے متعدد پیداواری ماہرین اور تاجر شامل تھے۔اس اجلاس کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا میں نیوٹراسیوٹیکل صنعت کاروں کو درپیش مقامی و قومی مسائل، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی پالیسیوں، مصنوعات کی رجسٹریشن اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔رجسٹریشن کے پیچیدہ قوانین اور مقامی صنعت کی مشکلاتاجلاس کے آغاز میں ایگزیکٹو ممبر خیبر پختونخوا فیصل کاکاخیل نے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور صوبے میں قائم نیوٹراسیوٹیکل یونٹس کو درپیش عملی مشکلات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت صنعت کے لیے سب سے بڑا امتحان مصنوعات کی رجسٹریشن کا مرحلہ ہے۔صنعت کو درپیش بنیادی مسائل:پیچیدہ ریگولیٹری فریم ورک: ڈرگ ریگولیٹری قوانین کے تحت رجسٹریشن کا موجودہ نظام غیر ضروری طور پر طویل اور مشکل ہے، جس سے نئے سرمائے کی آمد متاثر ہو رہی ہے۔شفافیت کی کمی: رجسٹریشن کے التوا سے مینوفیکچررز کی پیداواری صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔عالمی مارکیٹ میں حائل رکاوٹیں: غیر ملکی منڈیوں میں پاکستان کی معیاری مصنوعات بھیجنے کے لیے بروقت اور آسان سرٹیفیکیشن کا نہ ہونا ایک بڑی رکاوٹ ہے۔فیصل کاکاخیل نے حکومت اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات کی رجسٹریشن کے عمل کو مکمل طور پر آسان، شفاف اور “بزنس فرینڈلی” بنایا جائے تاکہ مقامی انڈسٹری نہ صرف ملکی ضرورت کو پورا کرے بلکہ زرمبادلہ کمانے کا بھی اہم ذریعہ بن سکے۔فارماسیوٹیکل بمقابلہ نیوٹراسیوٹیکل: برآمدی صلاحیت کا موازنہاجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین دانش خان نے کہا کہ عالمی سطح پر خوراک اور ادویات کے درمیانی شعبے یعنی “نیوٹراسیوٹیکلز” (قدرتی اجزا پر مشتمل طبی و غذائی مصنوعات) کی مانگ میں انقلابی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کو اب اس حقیقت کا ادراک ہو رہا ہے کہ اس شعبے کی ایکسپورٹ پوٹینشل روایتی ادویات (فارماسیوٹیکل) کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ عالمی نیوٹراسیوٹیکل مارکیٹ سینکڑوں ارب ڈالرز پر محیط ہے اور اگر پاکستان اس شعبے پر توجہ دے تو یہ ملکی معیشت کا کایا پلٹ سکتا ہے۔صنعت کے لیے حاصل کردہ حالیہ پیش رفت:دی جی ٹی او (DGTO) سے منظوری: ایسوسی ایشن کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوئے محض ایک ماہ ہوا ہے۔مؤثر نمائندگی: مختصر ترین عرصے میں ایسوسی ایشن نے وفاقی اور صوبائی سطح پر صنعت کی آواز کو متعلقہ حکومتی ایوانوں تک پہنچایا ہے۔آئندہ کی متوقع اصلاحات: چیئرمین دانش خان نے انکشاف کیا کہ پالیسی سازوں کے ساتھ جاری مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور بہت جلد مینوفیکچررز کو رجسٹریشن اور برآمدی مراعات کے حوالے سے اہم پیش رفت سننے کو ملے گی۔اتحاد کی اہمیت اور مستقبل کا روڈ میپدانش خان نے اپنے خطاب کے اختتام پر تمام مینوفیکچررز اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ موجودہ معاشی حالات میں صنعتی پیش رفت کا واحد راستہ باہمی اتحاد اور یکجہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ الگ الگ آوازیں اٹھانے کے بجائے تمام نیوٹراسیوٹیکل اداروں کو NMAP کے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا پڑے گا۔ باہمی اتحاد ہی وہ قوت ہے جس کی بدولت حکومت سے جائز اور قانونی مطالبات منوائے جا سکتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر سابق پارلیمنٹیرین ناصر خان موسازئی، کے پی پی ایم اے کے صدر امتیاز خان اور دیگر شرکاء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان میں نیوٹراسیوٹیکل صنعت کے حقوق، برآمدات میں برتری اور درپیش تمام چیلنجز کے خاتمے کے لیے ایک ساتھ جدوجہد جاری رکھیں گے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپشاورمیں پولیس مقابلہ، 90 لاکھ روپے کی خونی راہزنی و قتل کا مرکزی ملزم ہلاک، ساتھی فرار