اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔حادثے کے وقت نرسری میں کل 16 بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بحفاظت بچایا جا سکا۔اس سانحے نے دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں انتظامی غفلت اور بنیادی حفاظتی تدابیر کے عدم وجود کو بے نقاب کر دیا ہے۔مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں پمز کے اس سینٹر کے لیے 1.069 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن مرمت اور آلات کی دیکھ بھال کے لیے بجٹ کا ایک انتہائی قلیل حصہ رکھا گیا ہے۔اسلام آباد: ایک ہولناک سانحہ اور معصوم جانوں کا زیاںوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے اور اہم ترین سرکاری اسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بدھ کے روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر (MCH) کے گائنی وارڈ اور نرسری میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں نرسری میں زیرِ علاج 14 معصوم اور نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے۔حکام کے مطابق، حادثے کے وقت نرسری کے خصوصی وارڈ میں کل 16 بچے موجود تھے، جنہیں طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی تھی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ عملے اور امدادی ٹیموں کو بچوں کو باہر نکالنے کا موقع نہ مل سکا۔ انتہائی جدوجہد کے بعد صرف ایک بچے کو ہی بحفاظت ریسکیو کیا جا سکا۔ اس دلخراش سانحے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ دارالحکومت کے سب سے بڑے طبی ادارے کے نظامِ انخلا اور فائر سیفٹی کے انتظامات پر بھی شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔سانحے کے مناظر اور ابتدائی تحقیقاتي صورتحالآگ لگنے کے فوراً بعد اسپتال کے عملے اور فائر برگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں، تاہم نرسری وارڈ میں موجود طبی آلات، پلاسٹک کے انکیوبیٹرز اور آکسیجن پائپ لائنز کی موجودگی کے باعث آگ کی شدت میں یکدم اضافہ ہوا۔ دھویں کے مرغولوں نے پورٹس اور راہداریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے امدادی کارروائیوں میں شدید دشواری پیش آئی۔حکام اور انتظامیہ کی جانب سے آگ لگنے کی حتمی وجہ کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی خدشات کے مطابق شارٹ سرکٹ یا طبی آلات میں سے کسی ایک کا اوور ہیٹ ہونا ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سانحے کے بعد اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ اعلیٰ حکام کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ غفلت یا انتظامی لاپرواہی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔پمز اسپتال کا بنیادی کردار اور بڑھتا ہوا دباؤپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد، راولپنڈی، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ علاقوں کی بڑی آبادی کو رعایتی اور مفت طبی سہولیات فراہم کرنے والا سب سے بڑا مرکزی مرکز ہے۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض علاج معالجے کے لیے پمز کا رخ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اسپتال کے وسائل اور انفراسٹرکچر پر ہر وقت شدید دباؤ رہتا ہے۔مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر (MCH) خاص طور پر زچگی اور نوزائیدہ بچوں کے علاج کے لیے قائم کیا گیا تھا، جہاں جدید طبی سہولیات اور انکیوبیٹرز کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم، اس قسم کے بڑے اور اہم ادارے میں فائر فائٹنگ سسٹمز، الارم، اور ہنگامی انخلا کی منصوبہ بندی کے فقدان نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔مالیاتی تفصیلا ت: 1.069 ارب روپے کا بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟اس دردناک حادثے کے بعد پمز کے MCH سینٹر کو فراہم کیے جانے والے سرکاری بجٹ اور اس کی تقسیام کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری بجٹ دستاویزات سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے اس سینٹر کو اربوں روپے کی گرانٹ دی گئی ہے، لیکن اس کی اہم حصوں میں تقسیم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔مالی سال 2026-27 کے لیے MCH سینٹر کے کل بجٹ کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:کل تخصیص کردہ بجٹ: جاری مالی سال 27-2026 کے لیے 1.069 ارب روپے (1,069 ملین روپے) مختص کیے گئے، جو پچھلے مالی سال کے 855.6 ملین روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ملازمین کی تنخواہیں: کل 356.9 ملین روپے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں کے لیے رکھے گئے۔افسران کی تنخواہیں: تنخواہوں کے بجٹ میں سے 200 ملین روپے افسران (ڈاکٹرز اور انتظامی عہدیداروں) کے لیے مختص ہیں۔دیگر عملے کی تنخواہیں: 156.5 ملین روپے دیگر سپورٹ اسٹاف اور عملے کی تنخواہوں کے لیے رکھے گئے۔ملازمین کے الاؤنسز: ملازمین کو دیے جانے والے الاؤنسز کی مد میں 332.7 ملین روپے مختص کیے گئے۔آپریٹنگ اخراجات: سینٹر کے روزمرہ کے انتظامی اور طبی آپریٹنگ اخراجات کے لیے 270 ملین روپے کا بجٹ رکھا گیا۔ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن: ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کی مد میں 6 ملین روپے مختص کیے گئے۔اسکالرشپس: سینٹر کے لیے 8.5 ملین روپے اسکالرشپس کے لیے رکھے گئے۔اسٹورز، پلانٹ اور مشینری: اسٹورز، اسٹاک اور مربوط مشینری کے لیے 6 ملین روپے رکھے گئے۔مرمت اور حفاظتی آلات کے بجٹ کا توازن: ایک بڑا سوالیہ نشاناس سانحے کے بعد جس نقطے پر سب سے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے، وہ عمارت کی مرمت، دیکھ بھال اور آلات کی حفاظت کے لیے مختص کی گئی قلیل ترین رقم ہے۔ ایک طرف جہاں 1 ارب روپے سے زائد کا کل بجٹ موجود ہے اور تنخواہوں و الاؤنسز پر 689 ملین روپے سے زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف عمارت اور طبی آلات کی حفاظت کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق:مرمت و دیکھ بھال (Repair & Maintenance): کل بجٹ میں سے صرف 11 ملین روپے مرمت اور دیکھ بھال کے لیے رکھے گئے۔مشینری اور آلات: طبی آلات اور مشینری کی دیکھ بھال کے لیے صرف 7 ملین روپے مختص کیے گئے۔عمارت اور ساخت (Building & Structure): عمارت کے ڈھانچے، سیفٹی سسٹمز اور انفراسٹرکچر کے لیے صرف 4 ملین روپے دیے گئے۔معاشی اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سو ارب سے زائد کے بجٹ والے سینٹر میں حفاظتی آلات اور مشینری کی مرمت پر اتنی قلیل رقم مختص کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حفاظتی معیارات کو کس قدر نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ اگر ایمرجنسی سسٹمز، فائر الارم اور آلات کا باقاعدگی سے سیفٹی آڈٹ کیا جاتا، تو شاید یہ ہولناک حادثہ پیش نہ آتا۔عوامی ردِعمل اور آئندہ کا لائحہ عملاس دلخراش سانحے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ محض زبانی تحقیقات کے بجائے اس حادثے میں ملوث غفلت کے مرتکب تمام افراد اور انتظامی سربراہان کا محاسبہ کیا جائے۔اس سانحے نے پاکستان کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے سیفٹی سٹرکچر پر سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف بجٹ کے حجم میں اضافہ کرنے کی بجائے اس کے منصفانہ اور درست استعمال کو یقینی بنایا جائے، تاکہ غریب اور لاچار مریضوں کو نہ صرف علاج میسر آ سکے بلکہ ان کی اور ان کے بچوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationامریکا کا ایران کے خلاف ‘سب سے بڑی’ اقتصادی کارروائی کا اعلان: تمام مالیاتی شریانیں کاٹنے اور عالمی تنبیہ کی مکمل تفصیل