Preloader
Uefa poised to lift boycott threat
  • یورپی فٹ بال ایسوسی ایشنز کی تنظیم (یوفا) نے فیفا ٹورنامنٹس کے ممکنہ بائیکاٹ کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کی تیاری کر لی ہے۔
  • عالمی فٹ بال ادارے (فیفا) سے یوفا کو ٹھوس ضمانتیں موصول ہوئی ہیں کہ ورلڈ کپ کے حقوق یا حصے بیچنے کے متنازع منصوبوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔
  • فیفا صدر جیانی انفاٹینو کا نجی سرمایہ کاروں کو شراکت دار بنانے کا منصوبہ یورپ کی شدید مخالفت کے بعد ناکام ہو گیا تھا۔
  • اس تنازع کا تصفیہ ہونے کے بعد یورپی ٹیموں کی انڈر-20 ویمنز ورلڈ کپ سمیت فیفا کے تمام اہم عالمی مقابلوں میں شرکت کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

فیفا اور یوفا کے درمیان محاذ آرائی کا اختتام

عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی (فیفا) اور یورپی فٹ بال کی سب سے بڑی تنظیم (یوفا) کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی بالآخر ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یوفا کی جانب سے فیفا کے تمام عالمی مقابلوں کے بائیکاٹ کی دی جانے والی دھمکی کو واپس لیے جانے کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس بڑی پیش رفت کا بنیادی سبب فیفا کی جانب سے ملنے والی وہ تحریری اور ٹھوس ضمانتیں ہیں جن میں یوفا کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مستقبل میں فٹ بال ورلڈ کپ کے تجارتی اور مالی حقوق کسی نجی کنسورشیم یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔

اس تصفیے کے بعد یورپی ٹیمیں فیفا انڈر-20 ویمنز ورلڈ کپ میں اپنے مکمل عزائم کے ساتھ شرکت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ عالمی فٹ بال کے مالیاتی اور انتظامی امور میں یورپی فٹ بال کا اثر و رسوخ کس قدر اہم اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

تنازع کا پس منظر: انفاٹینو کا مالیاتی منصوبہ اور یورپی تحفظات

اس تنازع کی بنیاد فیفا کے صدر جیانی انفاٹینو کا وہ متنازع اور ناکام منصوبہ تھا جس کے تحت وہ عالمی فٹ بال کے سب سے معتبر مقابلوں یعنی ورلڈ کپ اور کلب ورلڈ کپ کے کچھ حصے اور تجارتی حقوق نجی سرمایہ کاروں کے ایک گروہ کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ اس 25 ارب ڈالر مالیت کے پروجیکٹ میں نجی فنڈز کی مدد سے ایک نیا گلوبل کلب ٹورنامنٹ اور بین الاقوامی لیگ متعارف کروانے کی تجویز شامل تھی۔

یورپی فٹ بال تنظیم (یوفا) اور یورپی کلبوں کی باڈی (ای سی اے) نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی تھی۔ یوفا کا مؤقف تھا کہ:

  • ٹورنامنٹس کی ساکھ کو خطرہ: ورلڈ کپ جیسے معتبر ترین ایونٹ کے حصص نجی سرمایہ کاروں کو بیچنے سے عالمی فٹ بال کا روایتی ڈھانچہ تباہ ہو جائے گا اور کھیل کی روح متاثر ہوگی۔
  • مالیاتی نابرابری: اس قسم کا منصوبہ یورپ کے اندر جاری مقامی لیگز اور چیمپئنز لیگ کی اہمیت کو کم کر سکتا ہے اور چند منتخب کلبوں کے پاس مالیاتی طاقت مرکوز ہو جائے گی۔
  • شفافیت کی کمی: یوفا کے حکام کے مطابق اس اتنے بڑے عالمی فیصلے میں دیگر اہم علاقائی باڈیز اور اسٹیک ہولڈرز کو مناسب انداز میں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

انہی تحفظات کی بناء پر یوفا نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے فیفا کے تمام ایونٹس اور ٹورنامنٹس سے اپنی ٹیمیں واپس بلانے اور کامل بائیکاٹ کرنے کا حتمی عندیہ دیا تھا۔

ضمانتوں کا فریم ورک اور تنازع کا حل

یوفا کی جانب سے بائیکاٹ کے خطرے نے فیفا کے مستقبل کے ایونٹس کی تجارتی اور مالیاتی کامیابی پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا، کیونکہ یورپی ٹیموں اور کھلاڑیوں کے بغیر کوئی بھی عالمی ٹورنامنٹ نامکمل سمجھا جاتا ہے۔ اسی شدید دباؤ کے بعد فیفا انتظامیہ کو قدم پیچھے ہٹانے پڑے اور یوفا کو باضابطہ طور پر یقین دہانیاں کرانی پڑیں۔

حاصل کردہ معلومات اور حالیہ پیش رفت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • تجارتی حقوق کی تحفظ کی ضمانت: فیفا نے واضح کر دیا ہے کہ وہ فیفا ورلڈ کپ اور اس سے منسلک ٹورنامنٹس کے بنیادی شیئرز یا انتظامی حقوق کسی نجی سرمایہ کار کمپنی کو منتقل نہیں کرے گا۔
  • حتمی فیصلوں میں يوفا کی شمولیت: آئندہ کسی بھی بڑے مالیاتی یا ساختاتی تبدیلیاں لانے سے قبل یورپی فٹ بال کنفیڈریشن اور دیگر علاقائی باڈیز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  • بائیکاٹ کی دھمکی کی واپسی: مطلوبہ ضمانتیں ملنے کے بعد یوفا اپنے ممکنہ بائیکاٹ کا منصوبہ ترک کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
  • انڈر-20 ویمنز ورلڈ کپ: اس معاہدے کے بعد سرفہرست یورپی ممالک کی خواتین ٹیموں کی انڈر-20 ویمنز ورلڈ کپ میں شرکت یقینی ہو گئی ہے، جس سے اس ٹورنامنٹ کا معیار اور دلچسپی برقرار رہے گی۔

انفاٹینو پروجیکٹ کے ناکام ہونے کی وجوہات

فیفا صدر جیانی انفاٹینو نے اس منصوبے کو عالمی فٹ بال کی بہتری اور کمزور کنفیڈریشنز کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے پیش کیا تھا، لیکن عالمی سطح پر اس کا شدید ردِ عمل دیکھنے کو ملا۔

  • یورپی لیگز کا دباؤ: انگلش پریمیئر لیگ، لا لیگا، اور سیری اے جیسے بڑے لیگز نے شیڈول میں لچک نہ ہونے اور کھلاڑیوں کے تھکن کے خدشات کا اظہار کیا۔
  • کھلاڑیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ: عالمی سطح پر ایک اور نئے اور طویل ٹورنامنٹ کے انعقاد سے کھلاڑیوں کے لیے اضافی بوجھ اور شدید انجریز کے خطرات بڑھ رہے تھے۔
  • مالیاتی شفافیت پر عدم اطمینان: کئی بڑی یورپی فیڈریشنز نے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کرنے والے گروہ کے بیک گراؤنڈ پر بھی شدید تحفظات اٹھائے تھے۔

ان تمام عوامل کی وجہ سے انفاٹینو کا یہ منصوبہ حتمی شکل نہ اختیار کر سکا اور بالاخر فیفا کو یہ خاکہ معطل کرنا پڑا۔

عالمی فٹ بال کی سیاست اور مستقبل پر اثرات

اس پورے واقعے نے بین الاقوامی فٹ بال کی حکمرانی اور سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت کیا ہے۔ اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ فیفا گو کہ عالمی فٹ بال کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے، لیکن یورپ اور اس کی معاشی طاقت کے بغیر کوئی بھی بڑا فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

اس تصفیے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے:

  1. فیفا اور یوفا کے تعلقات میں اعتدال: تحریری ضمانتوں کے بعد دونوں بڑے اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج کم ہوگا اور مستقبل کے ایونٹس کا انعقاد ہموار انداز میں ممکن ہو سکے گا۔
  2. شائقینِ فٹ بال کے لیے خوشخبری: شائقین اب بغیر کسی سیاسی یا انتظامی رکاوٹ کے خواتین کے انڈر-20 ورلڈ کپ سمیت تمام فیفا ٹورنامنٹس میں بہترین یورپی کھلاڑیوں کو دیکھ سکیں گے۔
  3. مستقبل کے ٹورنامنٹس کے لیے نیا معیار: اب فیفا کو یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ فٹ بال کے تجارتی معاہدے یا عالمی سٹرکچر میں کوئی بھی تبدیلی تمام بڑی کنفیڈریشنز بالخصوص یوفا کے اتفاقِ رائے کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

خواتین فٹ بال کے میدان میں انڈر-20 ویمنز ورلڈ کپ اب بغیر کسی انتشار یا ابہام کے مکمل جذبے سے منعقد ہوگا، جس سے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کو اعلیٰ درجے کا کھیل دیکھنے کو ملے گا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025