Preloader
The Poverty Trap

اہم نکات

  • پاکستان اکانامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح میں غیر معمولی اور تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو قومی معیشت کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔
  • غربت محض آمدنی کی کمی کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی صلاحیتوں کو محدود کرنے، معاشی عدم مساوات کو بڑھانے اور اجتماعی پیش رفت کو روکنے کا سبب بنتی ہے۔
  • معاشی ماہرین کے مطابق غربت ایک کثیر جہتی (Multidimensional) مسئلہ ہے، جسے صرف عارضی امدادی پروگراموں یا ریلیف پیکیجز سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
  • طویل المدتی معاشی پالیسیوں، روزگار کے پائیدار مواقع اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کے بغیر اس سنگین بحران پر قابو پانا دشوار ہوگا۔

پاکستان کے لیے غربت سب سے بڑا چیلنج

پاکستان کو اس وقت جن معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے، ان میں غربت کی شرح میں مسلسل اور تیز رفتار اضافہ سب سے زیادہ سنگین اور تشویشناک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی اور پائیدار استحکام کے لیے یہ بحران ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔

غربت انسان کی بنیادی ضروریات جیسے کہ معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی اور معقول روزگار تک رسائی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی ذاتی صلاحیتوں کو فلک شگاف بلندیوں تک پہنچنے سے روکتی ہے بلکہ معاشرے میں عدم مساوات کو گہرا کر کے طبقاتی خلیج کو بھی وسیع کرتی ہے۔ جب کسی ملک کی بڑی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو تو قومی سطح پر سماجی ترقی کی رفتار خود بخود سست پڑ جاتی ہے۔

اکانامک سروے 2025-26 کے اہم انکشافات

حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ‘پاکستان اکانامک سروے 2025-26’ کے حالیہ اعداد و شمار نے ملک میں غربت کی ابتر ہوتی صورتحال کی نوید سنائی ہے۔ سروے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران معاشی سست روی، افراطِ زر (مہنگائی) اور پیداواری صلاحیت میں کمی کے باعث غربت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

اکانامک سروے کے رپورٹ کردہ مرکزی نکات درج ذیل ہیں:

  • غربت کا بڑھتا ہوا تناسب: سروے کے مطابق ملک میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے شہریوں کا تناسب انتہائی تیز رفتاری سے بڑھا ہے۔
  • کثیر جہتی غربت (Multidimensional Poverty): رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد صرف مالی وسائل ہی نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور رہائشی سہولیات سے بھی محروم ہے۔
  • دیہی و شہری تفاوت: دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں زراعت اور مقامی صنعتوں کی زبوں حالی نے معاشی بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔

غربت کے کثیر جہتی پہلو اور بنیادی عوامل

معاشی مبصرین اور پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ غربت کو صرف ایک مالیاتی عددی کے طور پر دیکھنا مسئلے کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ یہ ایک کثیر جہتی مسئلہ ہے جس کی جڑیں ملک کے ڈھانچہ جاتی معاشی نقائص میں پھیلی ہوئی ہیں۔

درج ذیل جدول میں غربت کے بنیادی عوامل اور ان سے پیدا ہونے والے سماجی و معاشی اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے:

معاشی و سماجی عاملبنیادی وجوہاتاثرات اور برآمد ہونے والے نتائج
افراطِ زر اور مہنگائیاشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہعوام کی قوتِ خرید میں کمی اور بچتوں کا خاتمہ
روزگار کے محدود مواقعصنعت کاری میں سست روی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمیبے روزگاری اور غیر رسمی شعبے پر انحصار کا بڑھنا
تعلیم و صحت کا فقدانبجٹ میں انسانی وسائل پر کم سے کم ترجیحی خرچافرادی قوت کی مہارت میں کمی اور علاج کے اخراجات سے غربت میں اضافہ
پائیدار پالیسیوں کا عدم وجودشارٹ ٹرم یا عارضی سیاسی امدادی پروگرامزمسئلے کے مستقل حل اور طویل المدتی ترقی سے محرومی

عارضی ریلیف بمقابلہ طویل المدتی معاشی اصلاحات

پاکستان میں ماضی اور حال میں قائم ہونے والی حکومتیں اکثر و بیشتر نقد رقم کی منتقلی یا عارضی راشن سکیموں کے ذریعے غربت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ ایسے اقدامات سے غریب طبقات کو فوری اور وقتی سہارا ضرور ملتا ہے، لیکن صحافتی اور معاشی تجزیے کے مطابق یہ اقدامات غربت کی جڑ کو کاٹنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ عارضی ریلیف پیکیجز کسی بھی قوم کو غربت کے دلدل سے مستقل طور پر نہیں نکال سکتے۔ اس کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں درج ذیل بنیادی امور شامل ہوں:

  1. صنعتی و زرعی ترقی: مقامی صنعتوں کی بحالی اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال تاکہ پیداوار بڑھائی جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
  2. مہارت کی فراہمی (Skill Development): نوجوان نسل کو جدید فنی اور ٹیکنیکل تعلیم سے آراستہ کرنا تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق روزگار حاصل کر سکیں۔
  3. ٹیکس کے نظام میں اصلاحات: براہ راست ٹیکسوں کے ذریعے امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور غریب عوام پر ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا۔
  4. انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری: قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم اور صحت کی معیاری اور مفت فراہمی کے لیے مختص کرنا تاکہ غریب خاندانوں کی سماجی نقل و حرکت (Social Mobility) ممکن ہو سکے۔

حکومتی اقدامات اور آئندہ کے امکانات

اکانامک سروے 2025-26 کے حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اگر فوری اور سخت معاشی فیصلے نہ کیے گئے تو غربت کا یہ لامتناہی سلسلہ انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ مجموعی ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومتِ پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نجی شعبے کو بااختیار بنائے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے اور ملک میں معاشی شفافیت کو یقینی بنائے۔ غربت کے خاتمے کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایسی مسلسل اور پائیدار معاشی پالیسیاں بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جو دہائیوں تک بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکیں، تاکہ پاکستان کے غریب طبقے کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے اور ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025