(رپورٹ: محمد نصیر ساگر) اہم نکات: مقام اور خدمات: کوٹری سائٹ ایریا، ہاری کیمپ روڈ پر گزشتہ چند سالوں سے مسلسل سستے دسترخوان کا انعقاد، جہاں صرف 5 روپے میں روٹی اور سالن فراہم کیا جاتا ہے۔ مستفیدین: روزانہ 200 سے زائد غریب، دیہاڑی دار اور سفید پوش افراد اس فلاحی دسترخوان سے پیٹ بھر کر کھانا کھاتے یا گھر کے لیے پارسل کراتے ہیں۔ بانی کا جذبہ: فلاحی اقدام کے محرک فصیح مظفر میمن ہیں، جو خدمتِ خلق کو رضاۓ الٰہی اور قلبی سکون کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سفید پوش طبقے کی دادرسی: 5 روپے کی علامتی قیمت کے باعث سفید پوش افراد بغیر کسی معذرت یا عزتِ نفس مجروح کیے وقار کے ساتھ کھانا حاصل کرتے ہیں۔ پس منظر: بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی مشكلات موجودہ معاشی صورتحال، روزافزوں بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عام آدمی خصوصاً دیہاڑی دار مزدور اور کم آمدنی والے طبقات کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایسے حالات میں جہاں ایک عام فرد کے لیے دن میں دو وقت کی روٹی کا اہتمام کرنا ایک دشوار گزار مرحلہ بن چکا ہے، وہاں معاشرے میں چند ایسے خدا ترس اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار افراد بھی موجود ہیں جو دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ ضلع جامشورو کا صنعتی شہر کوٹری، جہاں ہزاروں کی تعداد میں محنت کش اور دیہاڑی دار مزدور روزگار کی تلاش میں آتے ہیں، اس وقت فلاح و بہبود کی ایک خاموش لیکن انتہائی مؤثر تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کوٹری سائٹ ایریا، ہاری کیمپ روڈ پر جاری یہ فلاحی سلسلہ محض ایک دسترخوان نہیں بلکہ بھوک اور افلاس کے مارے لوگوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ کوٹری کا سستا دسترخوان: 5 روپے میں عزتِ نفس کے ساتھ کھانا کوٹری سائٹ ایریا کے ہاری کیمپ روڈ پر گزشتہ چند سالوں سے ایک بے مثال سستا دسترخوان کامیابی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ اس دسترخوان کی سب سے نمایاں اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کھانا بالکل مفت دینے کے بجائے صرف 5 روپے کی علامتی قیمت پر فراہم کیا جاتا ہے۔ 5 روپے کی اس قلیل رقم میں ہر مستحق اور ضرورت مند شخص کو پیٹ بھر کر گرم روٹی اور تازہ سالن دیا جاتا ہے۔ دسترخوان پر آنے والے افراد کے لیے دو طرح کی سہولیات موجود ہیں: موقع پر کھانا: بہت سے محنت کش، مزدور اور مسافر اسی جگہ بیٹھ کر باوقار طریقے سے کھانا کھاتے ہیں۔ گھر کے لیے پارسل: کئی افراد اپنے اہل خانہ اور بچوں کے لیے صرف 5 روپے فی خوراک کے حساب سے کھانا پارسل کروا کر لے جاتے ہیں۔ یہ ماڈل نہ صرف بھوک مٹانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے بلکہ اس سے کھانا حاصل کرنے والے افراد کے اندر یہ احساس بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کسی خیرات یا صدقے پر پل رہے ہیں، بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جیب سے رقم ادا کر کے کھانا خریدا ہے۔ سفید پوش طبقے کی عزتِ نفس کا تحفظ مہنگائی کے اس سخت دور میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ ‘سفید پوش’ یعنی درمیانے اور کم آمدنی والے وہ لوگ ہیں جو شدید مالی مشکلات کے باوجود اپنی غیرت اور عزتِ نفس کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ مفت راشن یا مفت کھانے کی قطاروں میں کھڑا ہونا ان کی انا اور خودداری کے خلاف ہوتا ہے۔ سستے دسترخوان کا یہ ماڈل بالخصوص اسی سفید پوش طبقے کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے۔ 5 روپے کی اداکاری ان کی عزتِ نفس پر حرف نہیں آنے دیتی۔ اس اقدام کی بدولت متعدد سفید پوش افراد اپنے اور اپنے بچوں کے لیے عزت کے ساتھ روزانہ پیٹ بھر کھانے کا بندوبست کر رہے ہیں، جس سے ان کی مالی اور نفسیاتی مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ فصیح مظفر میمن: خدمتِ خلق کا ایک روشن منار اس عظیم الشان اور بابرکت کام کے پسِ پشت ایک خدا ترس اور غریب پرور شخصیت فصیح مظفر میمن کی محنت اور خالص نیت کارفرما ہے۔ فصیح مظفر میمن کا شمار ان نادر روزگار شخصیات میں ہوتا ہے جو اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کی آسانیاں پیدا کرنے میں تلاش کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ “خدمتِ خلق کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جائے”۔ ان کا ماننا ہے کہ مخلوقِ خدا کی خدمت سے جو قلبی اور روحی سکون میسر آتا ہے، اس کا دنیا کی کسی بھی آسائش سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی جذبہ انہیں روزانہ اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ تمام تر دشواریوں کے باوجود اس دسترخوان کو بلا تعطل جاری رکھیں۔ فصیح مظفر میمن نہ صرف اس پروجیکٹ کی دیکھ بھال کرتے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بناتے ہیں کہ کھانے کی معیار اور صفائی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ کھانا کیمیائی طور پر پاکیزہ، غذائیت سے بھرپور اور تازہ معیار کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ حقائق و اعداد و شمار: دسترخوان کا ایک نظر میں جائزہ کوٹری کے اس سستے دسترخوان کی کارکردگی اور وسعت کا اندازہ درج ذیل اہم اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے: روزانہ مستفید ہونے والے افراد: 200 سے زائد غریب، مستحق اور سفید پوش افراد۔ کھانے کی قیمت: صرف 5 روپے (بشمول روٹی اور سالن)۔ مدتِ قیام: گزشتہ چند سالوں سے بلا تعطل جاری و سارِ۔ مقام: ہاری کیمپ روڈ، سائٹ ایریا، کوٹری (ضلع جامشورو)۔ خدمات کی نوعیت: آن سائٹ کھانے کی سہولت اور ہوم پارسل کی سہولت۔ معاشرتی اثرات اور معاشی اہمیت کسی بھی صنعتی علاقے میں جہاں روزانہ بنیادوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی کثیر تعداد موجود ہو، وہاں اس قسم کے فلاحی اقدامات کی معاشی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ایک دیہاڑی دار مزدور جو روزانہ 800 سے 1000 روپے کماتا ہے، اگر اسے دو وقت کے کھانے پر 300 سے 400 روپے صرف کرنے پڑیں تو وہ اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ کوٹری کے اس دسترخوان نے مزدور طبقے کے کھانے کے اخراجات کو نا ہونے کے برابر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی بچت کا بڑا حصہ ان کے گھر کے دیگر ضروری اخراجات اور بچوں کی پرورش پر خرچ ہو رہا ہے۔ اس طرح یہ عمل براہِ راست غربت کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ ایڈیٹوریل تجزیہ: مخیر حضرات کے لیے لائحہ عمل اور وقت کی ضرورت سماجی اور فلاحی نقطہ نظر سے فصیح مظفر میمن کا یہ انفرادی اقدام لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، لیکن موجودہ حالات میں جہاں ضرورت مندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، وہاں اس طرح کے الگ تھلگ اقدامات پر پورا بوجھ ڈالنا کافی نہیں ہے۔ وقت کی اہم ترین ضرورت اس بات کی ہے کہ: دیگر مخیر حضرات کی شمولیت: معاشرے کے صاحبِ ثروت اور معاشی طور پر مستحکم افراد کو آگے آنا چاہیے تاکہ اس جیسے ماڈلز کو دیگر علاقوں اور شہروں تک پھیلایا جا سکے المعاملات۔ وسعت اور پائیداری: اگر مزید مخیر شخصیات فصیح مظفر میمن کا ساتھ دیں تو روزانہ 200 افراد کی اس تعداد کو ہزاروں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ادارتی اور سرکاری تعاون: اگرچہ ایسے کام ذاتی اور فلاحی سطح پر کیے جاتے ہیں، تاہم مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ایسے دسترخوانوں کے لیے جگہ، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تعاون کرے۔ حاصلِ کلام کوٹری جامشورو کے ہاری کیمپ روڈ پر جاری یہ 5 روپے والا سستا دسترخوان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف اور جذبہ صادق ہو تو محدود وسائل میں بھی معاشرے کے لیے بڑا اور مثبت انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ فصیح مظفر میمن کی یہ کاوش نہ صرف بھوک کے خلاف ایک مؤثر جنگ ہے بلکہ یہ انسانیت، ہمدردی اور باہمی تعاون کی ایک ایسی مثال ہے جس کی روشنی سے پورا معاشرہ منور ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قسم کے تمام فلاحی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں معاشرتی سطح پر مکمل سرپرستی فراہم کی جائے۔ Post navigation سکردو کی ہونہار بیٹی کا شاندار کارنامہ: فاطمہ بتول نے ایم ڈی گیٹ میں گلگت بلتستان میں پہلی اور ملک بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی