اہم نکات (خلاصہ) انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: سیکورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ اور بلوچستان میں مختلف مقامات پر کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ علاقائی نقصان: ان آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 7 شدت پسند ہلاک کیے گئے، جن میں سے 5 کا تعلق باڑہ آپریشن سے تھا۔ تعلقات اور برآمدگی: ہلاک شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تنظیم اور اس سے جڑے گروہوں سے بتایا جاتا ہے؛ موقع سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کر کے ان کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ سیکورٹی کی صورتحال: یہ پیش رفت ملک بھر میں بالعموم اور سرحد پار سے بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے خدشات کے پیش نظر اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی الگ الگ کارروائیوں کے دوران سات شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشنز دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی جانب سے ممکنہ تخریب کاری کے خدشات کی بنیاد پر انجام دیے گئے، جن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور ناپسندیدہ مواد برآمد کر کے ان کے محفوظ ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں کی جانے والی کارروائی کے دوران پانچ شدید ملزمان ہلاک ہوئے جن کا تعلق کالعدم نیٹ ورک اور ملک دشمن عناصر سے بتایا جاتا ہے۔ اسی دوران بلوچستان کے مختلف حساس علاقوں میں پیش آنے والے جھڑپوں اور سرچ آپریشن کے نتیجے میں مزید دو شدت پسند مارے گئے۔ باڑہ آپریشن اور سیکورٹی فورسز کی حکمت عملی خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں سیکورٹی فورسز کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ کچھ مشتبہ افراد علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور وہ کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس اطلاع کی تصدیق کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فورسز کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں پانچوں شدت پسند موقع پر ہی مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق “فتنہ ہندوستان” اور اس سے ملحقہ ذیلی گروپوں سے تھا جو علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ملوث تھے۔ کارروائی کے بعد فورسز نے دہشت گردوں کی روپوش گاہوں کی مکمل تلاشی لی جہاں سے خودکار ہتھیار، دستی بم، مواصلاتی آلات اور بڑی مقدار میں کارتوس برآمد ہوئے۔ اس کے بعد ان کی پناہ گاہوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔ باڑہ آپریشن کی تفصیلات: • ہلاک شدگان کی تعداد: 5 • منسوب تنظیم: فتنہ ہندوستان / ملحقہ گروہ • برآمدگی: خودکار ہتھیار، دستی بم، مواصلاتی آلات • نتیجہ: ٹھکانے تباہ، علاقہ کلیئر بلوچستان میں کارروائی اور سرحد پار کے اثرات بلوچستان میں بھی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر فورسز مسلسل متحرک ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے الگ الگ حصوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران مزید دو شدت پسند ہلاک ہوئے۔ بلوچستان میں فعال ملک دشمن عناصر اور کالعدم تنظیمیں اکثر ناپاک مقاصد کے لیے پولیس، ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں پر حملے کرتی رہی ہیں۔ بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران فورسز نے نہ صرف دہشت گردوں کے منصوبوں کو خاک میں ملایا بلکہ ان کے لوجسٹک سپورٹ نیٹ ورک کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سیکورٹی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا بڑا سبب سرحد پار سے ملنے والی معاونت اور بیرونی پشت پناہی ہے، جسے ناکام بنانے کے لیے فورسز نے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ بلوچستان آپریشن کے اہم نکات: • ہلاک شدگان کی تعداد: 2 • مقصد: لوجسٹک نیٹ ورک کو توڑنا اور سرحد پار معاونت کا خاتمہ • حکمت عملی: مسلسل سرچ آپریشنز اور انٹیلی جنس شیئرنگ پس منظر: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی کے چیلنجز پاکستان کے زونل علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) اور بلوچستان میں پچھلے کچھ عرصے سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ باڑہ، وزیرستان، اور دیگر قبائلی اضلاع جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں، جہاں ماضی میں بھی عسکریت پسندوں کی باقیات کے خلاف متعدد بڑے آپریشنز جیسے “ضرب عضب” اور “رد الفساد” کیے جا چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال اور سرحد پار سے غیر قانونی آمد و رفت کے باعث ان علاقوں میں ایک بار پھر شدت پسند گروہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، سیکورٹی اداروں نے واضح کر رکھا ہے کہ ملک میں کسی بھی گروپ کو دوبارہ پاؤں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سابقہ فاٹا کی صورتحال: ضم شدہ اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کا تسلسل برقرار ہے۔ بلوچستان کا احوال: اقتصادی راہداری (CPEC) اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو مسلسل ناکام بنایا جا رہا ہے۔ سرحدی انتظام: پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے اور ڈرون و جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے۔ برآمد شدہ اسلحہ اور آپریشن کے تکنیکی پہلو سیکورٹی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ان آپریشنز میں برآمد ہونے والے اسلحے میں شامل ہیں: جدید خودکار رائفلیں: کلاشنکوف اور ایم-16 کی قسم کے مہلک ہتھیار۔ دستی بم اور دھماکہ خیز مواد: تخریب کاری کے لیے تیار کیے گئے آئی ای ڈیز (IEDs) اور گرنیڈز۔ مواصلاتی آلات: اعلیٰ کوالٹی کے وائرلیس سیٹس اور نائٹ ویژن چشمی سامان۔ ان سامان کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عسکریت پسند محض مقامی سطح پر فعال نہیں تھے بلکہ انہیں جدید فوجی نوعیت کے سامان تک رسائی حاصل تھی، جس سے ان کے بین الاقوامی اور بیرونی روابط پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ ملک گیر اثرات اور مستقبل کا لائحہ عمل ان کامیابیوں کے باوجود سیکورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک ہمہ گیر اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں: شعبہمجوزہ لائحہ عمل / اثراتانٹیلی جنس شیئرنگوفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے کو یقینی بنانا۔سرحدی نگرانیپاک افغان اور پاک ایران سرحدوں پر نگرانی کو مزید سخت کرنا تاکہ دراندازی روکی جا سکے۔سماجی و اقتصادی ترقیبلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں میں روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کرنا۔قانون کی بالادستیمقامی پولیس اور لیویز کی تربیت اور انہیں جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنا۔ دفاعی تجزیاکاروں کے مطابق باڑہ اور بلوچستان میں سات شدت پسندوں کی ہلاکت سیکورٹی فورسز کا ایک بڑا معرکہ ہے جو اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس (عدم برداشت) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ Post navigation یوکرائن جنگ کے بعد پہلی اہم پیش رفت: نیویارک میں روس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات بند کمروں کے فیصلوں سے قیامِ امن ممکن نہیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اہم بیان