اہم نکات (خلاصہ) بند کمروں کی پالیسی پر تنقید: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے خاتمے اور قیامِ امن کے لیے بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ قربانیوں کا اعتراف: انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام، پولیس اور مسلح افواج نے امن کی خاطر بے مثال قربانیاں دی ہیں، جن میں 80 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ شامل ہے۔ رجیم چینج اور عدم استحکام: وزیراعلیٰ کے مطابق، دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل کیا گیا امن ‘رجیم چینج’ آپریشن کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ امن و امان پر اعلیٰ سطحی اجلاس: یہ اہم پالیسی بیان پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران دیا گیا۔ پشاور — خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے اور ملک میں امن و امان کی مخدوش ہوتی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی ریاستی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پیر کے روز پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ امن و امان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے بند کمروں میں فیصلے مسلط کرنے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ وزیراعلیٰ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ قبائلی اضلاع اور جنوبی اضلاع میں ایک بار پھر عسکریت پسندی اور ٹارگٹڈ حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس اجلاس میں صوبے کی اعلیٰ سول اور پولیس قیادت موجود تھی، جہاں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ خیبرپختونخوا کی بے مثال قربانیاں: ایک تاریخی پس منظر اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گردی کی اس لہر میں تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا، کیونکہ اس صوبے نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے یاد دلایا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس فورس، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور پاک فوج کے جوانوں نے تاریخ کی سب سے بھاری قیمت چکائی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اعداد و شمار (حکومتی دعووں کے مطابق): • جانی نقصان: 80,000 سے زائد افراد (بشمول سویلینز اور سکیورٹی اہلکار) • متاثرہ خاندان: لاکھوں افراد نقل مکانی (TDPs) کا شکار ہوئے • معاشی نقصان: اربوں روپے کا انفراسٹرکچر اور کاروباری تباہی وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ قربانیاں کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کی نہیں، بلکہ اس صوبے کے ہر اس شہری کی ہیں جس نے امن کی امید میں اپنے پیاروں کو کھویا۔ ان کا استدلال تھا کہ اس قدر بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی پالیسی یا فیصلہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ ‘رجیم چینج’ اور امن و امان پر اس کے اثرات کا بیانیہ اجلاس کی سب سے اہم اور سیاسی لحاظ سے حساس بات وزیراعلیٰ کا وہ تبصرہ تھا جس میں انہوں نے صوبے میں دوبارہ سر اٹھاتی دہشت گردی کا تعلق مبینہ ‘رجیم چینج’ آپریشن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے جوڑا۔ سہیل آفریدی نے استدلال کیا کہ بیس سال کی مسلسل جدوجہد، فوجی آپریشنز (جیسے راہِ راست، ضربِ عضب اور ردالفساد) اور لاتعداد قربانیوں کے بعد صوبے میں جو قدرے امن قائم ہوا تھا، وہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور عدم استحکام کی وجہ سے دوبارہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ان کے مطابق، جب سیاسی سطح پر عدم استحکام ہوتا ہے تو ملک دشمن عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں اس خلا کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیراعلیٰ کا یہ بیان صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی پر موجود اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد اور اسٹیک ہولڈرز (بشمول صوبائی حکومت اور مقامی قیادت) کی مشاورت کے بغیر پائیدار امن کا حصول ناممکن ہے۔ بند کمروں کے فیصلوں کی مخالفت کیوں؟ وزیراعلیٰ کی جانب سے ‘بند کمروں میں فیصلہ سازی’ کی اصطلاح کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اہم امور، خاص طور پر وہ جو براہ راست خیبرپختونخوا کو متاثر کرتے ہیں، میں صوبائی حکومت اور مقامی نمائندوں کو مبینہ طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی خیبرپختونخوا کے سیاسی رہنما یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی معاملات، کالعدم تنظیموں کے ساتھ مذاکرات یا آپریشنز شروع کرنے جیسے حساس فیصلوں میں پارلیمان اور صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ وزیراعلیٰ کا حالیہ بیان اسی دیرینہ بیانیے کی کڑی معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی قسمت کے فیصلے اسلام آباد کے بند کمروں کے بجائے پارلیمان اور عوامی نمائندوں کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ موجودہ صورتحال اور صوبائی حکومت کی ذمہ داریاں خیبرپختونخوا کو اس وقت دوہرے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف صوبے کو شدید مالی بحران کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے پولیس کی جدید خطوط پر تربیت اور ان کے لیے جدید اسلحے کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ درپیش اہم چیلنجزتفصیلدہشت گردی کا دوبارہ ابھارکالعدم تنظیموں کے حملوں میں اضافہ، خاص طور پر جنوبی اضلاع میں۔پولیس فورس کی استعدادکے پی پولیس کو جدید اسلحے، نائٹ ویژن گیئرز اور بکتر بند گاڑیوں کی کمی کا سامنا ہے۔مالی مشکلاتوفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے فنڈز اور صوبے کے واجبات کی مبینہ عدم ادائیگی۔سیاسی بداعتمادیوفاق اور صوبے کے درمیان کوآرڈینیشن اور پالیسی کے معاملات پر اختلافات۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خیبرپختونخوا پولیس، جو اس جنگ میں فرنٹ لائن فورس ہے، کی استعداد کار بڑھانے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ تجزیہ اور مستقبل کے امکانات وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ پالیسی بیان واضح کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت وفاق کی انسدادِ دہشت گردی کی موجودہ حکمت عملی سے مکمل طور پر متفق نہیں ہے۔ اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبے کے درمیان پالیسی سازی کے طریقہ کار پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہوں۔ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، سول اور عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ایک مشترکہ، شفاف اور جامع حکمت عملی وضع کرنی ہوگی جس میں عوام کی آواز کو شامل کیا جائے۔ بند کمروں کی پالیسیوں نے ماضی میں بھی مطلوبہ نتائج نہیں دیے، اور موجودہ پیچیدہ علاقائی اور داخلی صورتحال میں یکطرفہ فیصلوں کے نقصانات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ عوام کی دی گئی 80 ہزار سے زائد قربانیوں کا تقاضا ہے کہ امن کو کسی بھی سیاسی کھینچا تانی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے۔ Post navigation خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں: 7 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد سیکیورٹی خدشات: پنجاب بھر میں کھلے مقامات پر ڈرون اڑانے پر 30 روز کے لیے پابندی عائد