Preloader
Seminar on rabies at LUMHS

اہم نکات (خلاصہ)

  • جامشورو میں آگاہی ورکشاپ: لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) کے شعبہ انفیکشنز کے تحت “قابلِ روک تھام بیماری: جانور کے کاٹنے سے علاج تک” کے عنوان سے ایک جامع تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔
  • بروقت طبی امداد کی اہمیت: ماہرینِ صحت نے زور دیا کہ ریبیز 100 فیصد مہلک لیکن سو فیصد قابلِ بچاؤ بیماری ہے؛ جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد صابن سے زخم دھونا اور اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا زندگی بچا سکتا ہے۔
  • عملی تربیت اور تکنیک: ورکشاپ میں طبی عملے کو اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبولین (RIG) کے درست، عالمی معیار کے مطابق استعمال کی عملی مشق کروائی گئی۔
  • عوامی صحت پر جامع اثرات: ماہرین نے کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں، صحت کے شعبے اور عوامی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔

جامشورو: شعبہ صحت کی اہم پیش رفت

سندھ کے ممتاز طبی ادارے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) جامشورو میں ریبیز (سگ گزیدگی/کتوں کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری) کے تدارک اور طبی عملے کی capacity building کے حوالے سے ایک پروقار اور اہم ترین ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ یونیورسٹی کے شعبہ انفیکشنز (Infectious Diseases Department) کے زیرِ اہتمام، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن کی خصوصی ہدایات پر یہ پروگرام لمس کے آئی ٹی ہال میں منعقد ہوا۔

ورکشاپ کا مرکزی موضوع “قابلِ روک تھام بیماری: جانور کے کاٹنے سے علاج تک” (Preventable Disease: From Animal Bite to Treatment) رکھا گیا تھا، جس میں یونیورسٹی کے اساتذہ، ینگ ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ورکشاپ کے خدد و خال اور ممتاز شخصیت کی شرکت

اس تربیتی نشست میں فیکلٹی آف میڈیسن اینڈ الائیڈ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عمران علی شیخ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ لمس ہیلتھ سروسز اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش بہن مہمانِ اعزاز کے طور پر شریک ہوئے۔ پروگرام کے آغاز میں شعبہ انفیکشنز کے سینئر رجسٹرار ڈاکٹر امتیاز حسین نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا پرخلوص استقبال کیا اور ورکشاپ کے بنیادی اہداف پر روشنی ڈالی۔

پروگرام کے دوران ماہرین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بالخصوص سندھ میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سگ گزیدگی کے واقعات میں روز بروز اضافہ طبی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کو جدید ترین طبی ہدایات سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

   [متاثرہ جانور کا کاٹنا (کتا/بلی)]
                  │
                  ▼
   [فوری ابتدائی طبی امداد (15 منٹ صابن سے دھونا)]
                  │
                  ▼
   [قریب ترین مرکزِ صحت سے رجوع]
                  │
       ┌──────────┴──────────┐
       ▼                     ▼
[Post-Exposure Vaccine]   [RIG (ضرورت کے مطابق)]
       │                     │
       └──────────┬──────────┘
                  ▼
    [100% تحفظ اور زندگی کی بقا]

ماہرین کے فرامین: بروقت تدابیر، علاج اور آوارہ کتوں کا کنٹرول

اپنے صدارتی خطبے میں مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عمران علی شیخ نے کہا:

“ریبیز ایک ایسی خوفناک بیماری ہے کہ اگر اس کی علامات ظاہر ہو جائیں تو پھر کوئی دوا یا معالجہ کارگر نہیں رہتا۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ جانور کے کاٹنے کے فوری بعد اگر سائنسی تدابیر اختیار کی جائیں تو اس سے سو فیصد بچاؤ ممکن ہے۔ ہمارے ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ایمرجنسی میں آنے والے ہر مریض کو ایس او پیز کے مطابق سنبھالنے کی کامل مہارت ہونی چاہیے۔”

مہمانِ اعزاز پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش بہن نے عوامی آگاہی اور انتظامی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے معاشرتی سطح پر آگاہی مہمات چلانا ہوں گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریبیز کے مقدمات کی کمی کے لیے نہ صرف طبی علاج بلکہ بلدیاتی سطح پر آوارہ کتوں کی آبادی کی سائنسی کنٹرول (TNR-Trap, Neuter, Release) جیسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

ریبیز کیا ہے؟ علامات، خطرات اور سائنسی حقائق

ورکشاپ کی بنیادی تکنیکی نشست سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ انفیکشنز کے سربراہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سغند میمن نے ریبیز کی معالجاتی اور سائنسی باریکیوں پر مفصل لیکچر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریبیز بنیادی طور پر ایک وائرل انفیکشن (Lyssavirus) ہے جو متاثرہ جانور (زیادہ تر پاگل یا آوارہ کتوں، بلیاں یا دیگر جنگلی جانوروں) کے لعاب (Saliva) میں موجود ہوتا ہے۔ جب یہ جانور کسی انسان کو کاٹتا ہے یا اس کے زخم کو چاٹتا ہے تو وائرس اعصاب (Nerves) کے ذریعے انسانی دماغ تک پہنچتا ہے۔

   1. وائرس کا داخلہ ───► (زخم کے ذریعے اعصاب میں داخلہ)
   2. وائرس کا سفر   ───► (ریڑھ کی ہڈی سے ہوتا ہوا دماغ تک پہنچنا)
   3. علامات کا ظہور ───► (پانی سے خوف/Hydrophobia، روشی سے چڑھ، اینٹھن)
   4. نتیجے کی نوعیت  ───► (علامات کے بعد 100% مہلک)

ابتدائی علامات اور خطرات:

  • ابتدائی مرحلہ: بخار، زخم کی جگہ پر سنسناہٹ، خارش یا شدید درد۔
  • شدید مرحلہ: اعصابی اضطراب، پانی اور ہوا سے خوف (Hydrophobia & Aerophobia)، شدید غصہ، اور آخر کار فالج اور موت۔

عملی تربیت: اینٹی ریبیز ویکسین اور RIG کا درست استعمال

ورکشاپ کا سب سے اہم اور عملی حصہ وہ تھا جہاں جونیئر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملے کو مریض کی درجہ بندی (Category I, II, III Bites) اور ان کے مطابق دوا کے استعمال کی مشق کروائی گئی۔

یہ عملی تربیت بالخصوص ڈاکٹر سغند میمن، ڈاکٹر امتیاز حسین، ڈاکٹر عبد الرحیم میمن اور ڈاکٹر محمد صالح میمن (انچارج و فوکل پرسن ریبیز پریوینشن یونٹ، لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد) نے مل کر فراہم کی۔

تربیت کے اہم نکات:

  1. زخم کی فوری صفائی (First Aid): کاٹے گئے مقام کو بغیر کسی تاخیر کے بہتے ہوئے پانی اور صابن سے کم از کم 15 منٹ تک مسلسل دھویا جائے۔ اس عمل سے وائرس کی بڑی مقدار زخم ہی پر ضائع ہو جاتی ہے۔
  2. اینٹی ریبیز ویکسین (ARV): پوسٹ ایکسپوژر پروفائلیکسس (PEP) کے تحت intradermal یا intramuscular طریقے سے مقررہ دنوں (مثلاً دن 0، 3، 7، اور 14/28) پر ویکسین کی خوراکیں مکمل کرنا۔
  3. ریبیز امیونوگلوبولین (RIG): گہرے اور سنگین زخموں (Category III) میں فوری تحفظ کے لیے RIG کا استعمال۔ ماہرین نے واضح کیا کہ RIG کو زخم کے ارد گرد صحیح مقدار میں infiltrate کرنے کی تکنیک کیا ہے تاکہ غیر فعال امیونٹی فوری طور پر حاصل ہو سکے۔

اعداد و شمار: پاکستان اور عالمی سطح پر ریبیز کا بوجھ

پاکستان میں ریبیز ایک مسلسل نظر انداز کی جانے والی بیماری (Neglected Tropical Disease) بنی ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور مقامی صحت کے سروے کے مطابق اس کے اثرات درج ذیل ہیں:

مد / موضوععالمی و قومی اعداد و شمار (تخمینہ)
عالمی امواتدنیا بھر میں سالانہ تقریباً 59,000 افراد ریبیز سے جان بحق ہوتے ہیں (زیادہ تر ایشیا و افریقہ)
پاکستان میں سالانہ امواتاندازاً 2,000 سے 5,000 افراد ہر سال معلومات کی کمی اور ویکسین کی عدم دستیابی سے فوت ہوتے ہیں
سگ گزیدگی کے واقعاتپاکستان میں سالانہ لاکھوں افراد کو کتے کاٹتے ہیں، جن میں 40 فیصد سے زائد بچے ہوتے ہیں
وقوع پذیر بچاؤبروقت زخم دھونے اور کامل PEP (ویکسین + RIG) سے ریبیز کا خطرہ 100% ختم ہو جاتا ہے

پس منظر اور موجودہ معاشی و معاشرتی صورتحال

پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سیکیورٹی اور صحت کا بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ سندھ کے بڑے اسپتالوں جیسے کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کراچی اور لیاقت یونیورسٹی اسپتال (LUMH) حیدرآباد و جامشورو میں روزانہ کی بنیاد پر سگ گزیدگی کے درجنوں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

ماضی میں اینٹی ریبیز ویکسین کی شارٹیج اور غیر معیاری ویکسینیشن کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ اس پس منظر میں، لمس یونیورسٹی کا ایمرجنسی عملے کے لیے اس نوعیت کی ورکشاپس کا انعقاد نچلی سطح پر ہیلتھ کیئر سسٹم کی طاقت میں اضافے کا باعث بنے گا۔

اختتامی تقریب اور اسناد کی تقسیم

ورکشاپ کی تمام علمی و عملی نشستوں کے اختتام پر ایک مختصر مگر پروقار تقریبِ تقسیمِ اسناد کا انعقاد کیا گیا۔ لمس ہیلتھ سروسز اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش بہن نے ورکشاپ میں فعال شرکت کرنے والے طبی عملے، ینگ ڈاکٹرز اور آرگنائزنگ فیکلٹی میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔

پروگرام کے اختتام پر منتظمین نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز آئندہ بھی اس طرح کی تربیتی اور عوامی آگاہی کی نشستیں جاری رکھے گی تاکہ خطے میں ریبیز کے خاتمے اور عوامی صحت کے معیار کی بلندی کے لیے عملی کردار ادا کیا جا سکے۔

ایڈیٹوریل نوٹ (تجزیہ و تجاویز)

ریبیز ایک ایسا عالمی اور قومی چیلنج ہے جس کا حل صرف اسپتالوں کے اندر علاج تک محدود نہیں ہے۔ جب تک حکومت اور بلدیاتی ادارے آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے نس بندی (Sterilization) اور اینٹی ریبیز کتوں کی ویکسینیشن مہمات نہیں چلاتے، تب تک سگ گزیدگی کے کیسز سامنے آتے رہیں گے۔

لمس جامشورو کی یہ کاوش یقیناً ستائش کی مستحق ہے جس نے طبی عملے کو اگلی صفوں پر لڑنے کے لیے جدید تکنیکوں سے لیس کیا۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قسم کے تربیتی پروگراموں کا دائرہ کار بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور دیہی صحت کے مراکز (RHCs) تک پھیلایا جائے تاکہ گاؤں اور گوٹھوں کے غریب عوام کو بھی مقامی سطح پر فوری اور معیار کے مطابق اینٹی ریبیز علاج میسر آ سکے۔