Preloader
Exposed bras and unitards

اہم نکات:

  • جدید فیشن کی تبدیلی: تاریخی طور پر پوشیدہ رکھا جانے والا لباس یا ‘انڈر ویئر’ اب عالمی فیشن کی دنیا میں مرکزی لباس (اؤٹر ویئر) کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
  • تاریخی پس منظر: لنگوٹ کی شروعات تقریباً 7,000 سال قبل ہوئی تھی، تاہم پچھلی چند صدیوں میں اس کے ڈیزائن اور سماجی کردار میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔
  • کیٹ واک سے عام شاہراہوں تک: کرسٹل بالکونیٹ سے لے کر پارک رن تک، فیشن ریمپ سے قطع نظر، عوام اور شوبز شخصیات اس نڈر فیشن کو اپنا رہی ہیں۔
  • ثقافتی و معاشی اثرات: اس رجحان نے ملبوسات کی صنعت، باڈی پوزیٹوٹی (جسمانی خود اعتمادی) کی تحریک اور سماجی اقدار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

فیشن کی دنیا میں نیا انقلاب: جب پوشیدہ لباس ہی فیشن بن گیا

عالمی فیشن کی صنعت ہمیشہ سے نئی تبدیلیوں اور حیران کن تجربات کا مرکز رہی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ایک ایسا رجحان تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے جس نے لباس کے بنیادی تصورات کو ہی چیلنج کر دیا ہے۔ وہ ملبوسات جنہیں روایتی طور پر دیگر کپڑوں کے نیچے چھپایا جاتا تھا، یعنی زیرِ جامہ (انڈر ویئر)، اب کھلم کھلا مرکزی لباس کے طور پر پہنے جا رہے ہیں۔

کیٹ واک پر چمکدار ‘کرسٹل بالکونیٹ’ (Crystal Balconettes) سے لے کر صبح کی پارک رن میں حصہ لینے والے ایتھلیٹس کے نڈر ملبوسات تک، زیرِ جامہ کی نمائش اب فیشن کا ایک بڑا اور جرات مندانہ بیان بن چکی ہے۔ پہلے لوگ اپنے انڈر ویئر کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے، لیکن اب یہ محض ضرورت کے بجائے ایک نمایاں فیشن کا جزو بن چکا ہے۔

7,000 سالہ تاریخ: لنگوٹ سے عالمی فیشن تک کا سفر

زیرِ جامہ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تہذیب کی تاریخ۔ انسانی ارتقا اور فیشن کے ماہرین کے مطابق، انسان نے تقریباً 7,000 سال قبل اپنے جسم کو ڈھانپنے اور تحفظ کے لیے اولین ‘لنگوٹ’ (Loincloths) کا استعمال شروع کیا تھا۔

  • ابتدائی دور (7,000 سال قبل): جانوروں کی کھالوں اور سادہ کپڑوں سے بنائے گئے لنگوٹ محض حفاظتی مقصد کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
  • قرونِ وسطیٰ اور 19ویں صدی: اس دور میں زیرِ جامہ کو مکمل طور پر اندرونی لباس کے طور پر استعمال کیا جانے لگا اور اسے ظاہر کرنا سماجی طور پر معیوب سمجھا جاتا تھا۔
  • 20ویں صدی کا درمیانی دور: جدید مواد جیسے نائلون اور الیسٹین کی آمد سے ان ملبوسات کی ساخت، فٹنگ اور آرام دہ ہونے کی کیفیت میں انقلاب آیا۔
  • 21ویں صدی: وہ سرحد ختم ہو گئی جو اندرونی اور بیرونی ملبوسات کو جدا کرتی تھی۔ اب یہ ‘اؤٹر ویئر’ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

کیٹ واک سے عوامی شاہراہوں تک: یہ رجحان کیسے پھیلا؟

زیرِ جامہ کو باہر پہننے کا یہ انداز محض فیشن شوز تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عام زندگی اور پاپ کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ ہالی ووڈ کی نامور شخصیات، بین الاقوامی ماڈلز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اس طرزِ زندگی کو مقبول بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

پیرس، میلان اور نیویارک کے فیشن ویکس میں دنیا کے بہترین ڈیزائنرز نے ایسے ڈریس تیار کیے ہیں جن میں زیرِ جامہ ہی مرکزی لباس کا روپ دھارے ہوئے ہوتا ہے۔ پاردرشی (Transparent) کپڑوں کے نیچے خوبصورت انڈر ویئر کی نمائش یا محض شارٹس اور بریفز کے ساتھ بليزر (Blazer) کا استعمال اب بین الاقوامی کیٹ واک کا عام منظر بن چکا ہے۔

حیرت انگیز طور پر یہ رجحان صرف ماڈلز تک محدود نہیں رہا، بلکہ عام زندگی میں بھی اس کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ صبح کی ورزش، جاگنگ اور دوستوں کے ساتھ غیر رسمی ملاقاتوں میں بھی ایسے ڈیزائنر ملبوسات کا انتخاب کر رہے ہیں جو بنیادی طور پر انڈر ویئر کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔

اعداد و شمار اور مارکیٹ کے رجحانات

عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے حالیہ ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ‘لوئنج ویئر’ (Loungewear) اور ‘شیئر فیشن’ (Sheer Fashion) کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

  1. مارکیٹ شیئر میں اضافہ: عالمی سطح پر انڈر ویئر اور لوئنج ویئر کی مارکیٹ کی مالیت میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ان کے بطورِ فیشن استعمال ہے۔
  2. آن لائن تلاش میں برتری: فیشن سرچ انجنز کے مطابق “Sheer Dresses” اور “Underwear as Outerwear” کی آن لائن تلاش میں گزشتہ دو برسوں میں 150 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
  3. صارفین کی ترجیح: 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ وہ فیشن میں آرام (Comfort) اور جرات مندی کے امتزاج کو ترجیح دیتے ہیں۔

سماجی اور ثقافتی اثرات: باڈی پوزیٹوٹی یا محض ایک عارضی رجحان؟

اس نئے فیشن رجحان نے دنیا بھر میں ایک بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ فیشن کے ماہرین اور سماجی تجزیہ کار اس تبدیلی کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔

ایک طبقے کا خیال ہے کہ زیرِ جامہ کی کھلی نمائش ‘باڈی پوزیٹوٹی’ (جسمانی خود اعتمادی) اور شخصی آزادی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اب اپنے جسم اور لباس کے انتخاب کے معاملے میں پرانی اور سخت سماجی پابندیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب، کچھ روایتی سوچ رکھنے والے ناقدین کا کہنا ہے کہ فیشن انڈسٹری توجہ حاصل کرنے اور تجارتی منافع بڑھانے کے لیے حد سے زیادہ آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے نزدیک ہر لباس کا ایک خاص مقصد اور مقام ہوتا ہے، اور روایتی اقدار کو یکسر نظر انداز کرنا فیشن کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: فیشن کا مستقبل کس سمت میں ہے؟

معروضی نظر سے دیکھا جائے تو فیشن کی تاریخ ہمیشہ دائروں میں گھومتی ہے۔ جو چیز ایک دور میں نامناسب سمجھی جاتی ہے، وہی اگلے دور میں شاہکار بن جاتی ہے۔

زیرِ جامہ کا بطورِ اؤٹر ویئر استعمال محض ایک عارضی ‘ٹرینڈ’ ہے یا یہ مستقل طور پر ہمارے لباس کا حصہ بن جائے گا؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ تاہم، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت عالمی فیشن انڈسٹری جرات مندانہ تجربات کے ایک نئے دور سے گزر رہی ہے جہاں روایتی حدود اور اصول تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔