Preloader
Gen Z has risen up

اہم نکات:

  • بڑے پیمانے پر مظاہرے: فرانس بھر میں طلبہ، اساتذہ اور تجارتی یونینز سے تعلق رکھنے والے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
  • بنیادی مطالبات: سکولوں میں اساتذہ کی کمی، حد سے زیادہ مصروف ٹائم ٹیبل، خستہ حال عمارتیں اور گرمی سے نمٹنے کے ناقص انتظامات کا خاتمہ۔
  • تعلیمی اداروں کی تالہ بندی: ستمبر کے آخر سے لے کر اب تک 15 سے 17 سال کی عمر کے طلبہ نے سو سے زائد ہائی سکولوں کے داخلے بلاک کر رکھے ہیں۔
  • امن و امان کی صورتحال: پرامن مظاہروں کے بعد بعض مقامات پر سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

فرانس کے تعلیمی نظام میں گہرے ہوتے ہوئے بحران اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف ملک بھر میں ایک نیا سیاسی و سماجی تحرک جنم لے چکا ہے۔ ‘جن زی’ (Gen Z) یعنی نئی نسل کے زیرِ قیادت شروع ہونے والی اس تحریک نے اب ایک وسیع عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر لی ہے، جس میں طلبہ کے ساتھ ساتھ مختلف یونینز، اساتذہ اور عام شہریوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہو چکی ہے۔ منگل کے روز فرانس کے مختلف شہروں میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے سڑکوں پر نکل کر تعلیمی شعبے میں فوری اور مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

ستمبر کے آخری ایام سے شروع ہونے والے اس احتجاج نے فرانس کے تعلیمی اداروں کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ 15 سے 17 سال کے ہائی سکول طلبہ نے نظام کی بہتری کے لیے آواز بلند کی ہے، جسے اب تمام بڑی مزدور اور تعلیمی یونینز کی مکمل حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

صورتحال کی شدت اور احتجاج کے دائرہ کار میں وسعت

فرانس کی تاریخ میں طلبہ تحریکوں کو ہمیشہ ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے، تاہم موجودہ احتجاج کو اس لحاظ سے منفرد قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں نئی نسل انتہائی منظّم اور عزم کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ پیرس، مارسیل، لیون اور بوردو سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہزاروں طلبہ نے تعلیمی اداروں کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر کے ان کے داخلی راستے بند کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب اساتذہ کی تنظیموں اور مزدور یونینز نے طلبہ کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ منگل کو نکلنے والے ریلیوں میں مختلف مکاتبِ فکر اور عمر کے افراد نے شرکت کی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تعلیمی بحران صرف طلبہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک اہم قومی موضوع بن چکا ہے۔

اگرچہ بیشتر مقامات پر مظاہرے پرامن رہے، تاہم کچھ بڑے شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان چھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ پولیس کی جانب سے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا، جبکہ کچھ مظاہرین کی طرف سے بھی جوابی اقدامات کیے گئے جس سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی۔

طلبہ اور اساتذہ کے اہم مطالبات: ایک نظر میں

مظاہرین کا کہنا ہے کہ فرانس کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار اور ماحول دن بہ دن ابتر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے اہم مطالبات اور تحفظات درج ذیل ہیں:

  • اساتذہ کی شدید کمی: ملک بھر کے متعدد سکولوں میں ریاضی، سائنس اور زبانوں جیسے اہم مضامین کے اساتذہ کی سینکڑوں نشستیں خالی ہیں، جس کے باعث طلبہ کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے۔
  • غیر متوازن ٹائم ٹیبل: سکولوں کے اوقاتِ کار اور ٹائم ٹیبل کو انتہائی غیر عملی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث طلبہ پر غیر ضروری ذہنی اور جسمانی دباؤ پڑتا ہے۔
  • خستہ حال اور قدیم عمارتیں: متعدد ہائی سکولوں کی عمارتیں دہائیوں پرانی اور غیر محفوظ ہو چکی ہیں، جہاں بنیادی مرمت کا کام بھی طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔
  • موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں ناکامی: فرانس میں موسمِ گرما کی شدت میں اضافے کے باوجود سکولوں میں وینٹیلیشن یا ٹھنڈک کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے، جس کے باعث شدید گرمی میں کلاس رومز میں بیٹھنا سائلین کے لیے اذیت ناک ہو جاتا ہے۔

تعلیمی بحران کا پس منظر: مسائل کا تاریخی تسلسل

فرانس میں تعلیمی شعبے کا موجودہ بحران یکلخت پیدا نہیں ہوا، بلکہ یہ پچھلے چند سالوں کے دوران سرکاری پالیسیوں، بجٹ میں کٹوتیوں اور انتظامی عدم توجہی کا نتیجہ ہے۔ فرانسیسی حکومت نے حالیہ سالوں میں عوامی اخراجات میں کمی کے لیے تعلیمی بجٹ پر مختلف محدودات عائد کی تھیں، جس کا براہِ راست اثر سکولوں میں بنیادی سہولیات اور نئی بھرتیوں پر پڑا۔

اس کے ساتھ ساتھ، فرانس میں حالیہ برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہروں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فرسودہ انفراسٹرکچر کی حامل سکول کی عمارتیں اس بدلتے ہوئے موسم کا مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ طلبہ کی تنقید کا ایک بڑا نقطہ یہ بھی ہے کہ جب دنیا موسمیاتی تبدیلیوں پر بات کر رہی ہے، اس وقت فرانسیسی سکولوں کے پاس گرمی سے بچاؤ کی بنیادی تدابیر بھی موجود نہیں ہیں۔

اساتذہ کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کم تنخواہوں اور بڑھتے ہوئے کام کے دباؤ کی وجہ سے نوجوان نسل تدریس کے شعبے کو اختیار کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہی، جس سے اساتذہ کی شارٹیج کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت کا ردِعمل اور سیاسی اثرات

فرانسیسی حکومت اور وزارتِ تعلیم پر اس وسیع پیمانے کے احتجاج کے بعد شدید سیاسی دباؤ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی تعلیمی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے اور تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔

دوسری جانب، حکومت کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں تشدد اور بلاکنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم اصلاحات کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور اساتذہ کی بھرتی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، لیکن ان عمل آوری میں وقت درکار ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات نہ کیے، تو یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے اور اس کے اثرات ملکی معیشت اور دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور ممکنہ نتائج

فرانس میں ‘جن زی’ کی اس نئی لہر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نوجوان اپنے حقوق اور تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے متحرک ہیں۔ سکولوں کی بلاکنگ اور ہڑتالوں کے باعث ملک کا تعلیمی سال شدید متاثر ہو رہا ہے، اور والدین کی تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

آنیوالے دنوں میں اس صورتحال کا حل اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت کس حد تک تعلیمی شعبے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرنے اور اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پیش کرتی ہے۔ تب تک، فرانس بھر کی سڑکوں اور تعلیمی اداروں میں کشیدگی اور مظاہروں کی فضا قائم رہنے کا امکاں ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔