Preloader
Come to your senses

اہم نکات:

  • اپوزیشن کو تنبیہ و پیشکش: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرے؛ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن دباؤ کے تحت کوئی بات نہیں ہوگی۔
  • معاشی نقصان پر تشویش: وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مسلسل احتجاج اور دھرنوں سے ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
  • شفافیت کی ہدایت: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تمام ترقیاتی منصوبوں کا تھرڈ پارٹی سے آزادانہ آڈٹ کروانے کے احکامات جاری۔
  • توانائی کے اہم فیصلے: سردیوں کے موسم کے لیے گیس کی بلا تعطل فراہم اور ایل این جی کی درآمدهای یقینی بنانے کے لیے خصوصی لوڈ مینجمنٹ اسٹریٹجی تیار کرنے کی ہدایت۔

اسلام آباد: ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جاری احتجاجی سیاست پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کو “ہوش کے ناخن” لینے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ حکومت سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتی ہے، تاہم اس کے لیے اپوزیشن کو احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم کرنا ہوگا۔

وفاقی کابینہ اور اہم اجلاسوں کی صدارت کے بعد میڈیا اور حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے معاشی بحالی کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ بار بار کے احتجاجی مظاہروں سے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ملکی معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

سیاسی کشیدگی اور مذاکرات کی مشروط پیشکش

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کا حق ہر سیاسی جماعت کو حاصل ہے، لیکن اسلام آباد کی طرف چڑھائی، شاہراہوں کی بندش اور دھرنوں کے ذریعے ملکی نظام کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا: “ہم مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرتے، لیکن گھیراؤ اور دباؤ کی پالیسی کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں پہلے احتجاج ختم کیا جائے، پھر بیٹھ کر تمام سیاسی و آئینی مسائل پر بات ہو سکتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں پر آ کر قانون کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور ریاستی قلمرو کو برقرار رکھنے کے لیے تمام آئینی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

معاشی استحکام پر احتجاج کے منفی اثرات

وزیراعظم نے ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی بحالی کے ایک انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کے بعد ملکی معیشت میں بہتری کے کچھ اثرات دکھائی دینے لگے ہیں، لیکن احتجاجی سیاست اس راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

کابینہ اجلاس میں پیش کی گئی معاشی رپورٹ اور ملک پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے درج ذیل اہم نکات سامنے آئے:

  • روزانہ کا معاشی نقصان: اسلام آباد اور بڑے شہروں میں راستوں کی بندش سے ملکی معیشت کو روزانہ اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
  • غیر ملکی سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ: سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار اور کاروباری برادری نئے منصوبوں سے گریزاں نظر آتی ہے۔
  • دہاری دار طبقات کی مشکلات: سڑکیں اور بازار بند ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر غریب اور دیہاڑی دار طبقہ ہوتا ہے۔
  • ترسیلات اور تجارت پر اثر: احتجاجی فضا کے باعث سامانِ تجارت کی نقل و حمل میں تاخیر اور ملکی لاجسٹکس کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں جبکہ حکومت معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، مسلسل ہنگامہ آرائی ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے۔

این ایچ اے منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ: شفافیت کا نیا معیار

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے قومی شاہراہوں کی تعمیر اور این ایچ اے (National Highway Authority) کے تمام جاری و مکمل شدہ منصوبوں کی شفافیت پر بڑا فیصلہ کیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ این ایچ اے کے تمام منصوبوں کا شفاف اور غیر جانبدارانہ “تھرڈ پارٹی آڈٹ” (آزادانہ تکنیکی و مالیاتی جائزہ) کروایا جائے۔

اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ:

  1. عوام کا پیسہ مکمل شفافیت اور ایمانداری کے ساتھ صرف ہو۔
  2. سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں معیار اور پائیداری کے عالمی اصولوں کی پاسداری کی جائے۔
  3. ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں بلاوجہ تاخیر اور اضافے کی روک تھام کی جا سکے۔

وزیراعظم نے تاکید کی کہ آئندہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے میں بدعنوانی یا ناقص کوالٹی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور آڈٹ رپورٹس کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔

سردیوں کے لیے گیس لوڈ مینجمنٹ اسٹریٹجی اور توانائی کا بحران

توانائی کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے آنے والے سردیوں کے موسم میں گیس کی متوقع قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزارتِ توانائی کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ایک جامع اور عملی “ونٹر گیس لوڈ مینجمنٹ اسٹریٹجی” مرتب کریں۔

اس سلسلے میں وزیراعظم نے درج ذیل اہم ہدایات جاری کیں:

  • ایل این جی (LNG) کی بلا تعطل درآمد: بین الاقوامی مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے جہازوں کی بر وقت آمد اور ان کی منتقلی کو یقینی بنایا جائے تا کہ گیس کا بحران نہ پیدا ہو۔
  • گھریلو صارفین کو ترجیح: سردیوں کے دوران کھانا پکانے اور شدید سردی کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
  • صنعتی شعبے کا تحفظ: برآمدی اور پیداواری صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں طویل تعطل سے بچایا جائے تاکہ ملکی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
  • گیس چوری کی روک تھام: گیس نیٹ ورک میں ہونے والے زیاں (UFG) اور چوری کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کو مزید تیز کیا جائے۔

سیاسی اور حکومتی افق: آئندہ کا منظرنامہ

پریس کانفرنسوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت ایک طرف اپوزیشن کے احتجاج سے سخت گیر انداز میں نمٹنے کی حکمتِ عملی بنا رہی ہے تو دوسری طرف عوام کو معاشی راحت اور توانائی کے بحران سے بچانے کے لیے انتظامی سطح پر فعال دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان موجود سیاسی تعطل برقرار رہا تو اس کے اثرات ملک کے آئندہ مالیاتی اہداف اور غیر ملکی تحفظات پر مزید منفی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، وزیراعظم کی جانب سے مشروط طور پر سہی مگر مذاکرات کی پیشکش کو سیاسی معتبرین نے ایک موقع قرار دیا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر افہام و تفہیم کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

حکومت نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آئین و قانون کی بالا دستی برقرار رکھی جائے گی اور معاشی بحالی کی سفر میں حائل ہونے والی کسی بھی رکاوٹ سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔