Preloader
Peshawar police foil attack by over 30 terrorists in Hassan Khel

اہم نکات (خلاصہ)

  • حملے کی ناکامی: پشاور کے سرحدی علاقے حسن خیل میں پولیس پوسٹ پر 30 سے زائد مسلح دہشت گردوں کا حملہ پولیس نے کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
  • دو طرفہ حملہ: کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کے مطابق، دہشت گردوں نے موسیٰ زئی درہ کی جانب سے سپین میلہ پولیس پوسٹ کو دو اطراف سے نشانہ بنایا۔
  • باری ہتھیاروں کا استعمال: حملہ آوروں نے جدید اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا، تاہم پولیس کی شدید جوابی فائرنگ کے بعد تمام دہشت گرد پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔
  • سرچ آپریشن کا آغاز: واقعہ کے فوراً بعد علاقے کو گھیراؤ میں لے کر مفرور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پشاور: حسن خیل میں پولیس کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواحی اور حساس علاقے حسن خیل میں پولیس نے شجاعت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ناکام بنا دیا ہے۔ جمعہ کے روز کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور کی جانب سے جاری کردہ بریفنگ کے مطابق، 30 سے زائد شدید مسلح دہشت گردوں نے حسن خیل کے علاقے میں واقع سپین میلہ پولیس پوسٹ پر اچانک ہلا بول دیا۔

پولیس حکام کے مطابق، حملہ آوروں نے پوسٹ کو مکمل طور پر یرغمال بنانے اور نقصان پہنچانے کے لیے تمام جدید تکنیکیں اپنائیں، لیکن چوکنا پولیس اہلکاروں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف حملے کو روکا بلکہ شدید جوابی فائرنگ سے حملہ آوروں کو سائے کی طرح پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

حملے کی تفصیلات اور تکنیکی حقائق

سی سی پی او پشاور نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ حملہ انتہائی منظم انداز میں پلان کیا گیا تھا۔ دہشت گردوں نے قریبی پہاڑی اور دشوار گزار علاقے “موسیٰ زئی درہ” کی طرف سے پیش قدمی کی اور سپین میلہ پولیس پوسٹ کو دو مختلف سمتوں سے گھیرنے کی کوشش کی۔

حملے کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے راکٹ لانچرز، گرینیڈز اور جدید خودکار بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ تاہم، پولیس کی نفری نے انتہائی صبر و تحمل اور حکمتِ عملی کے ساتھ مورچہ بند ہو کر مقابلہ کیا۔

حملے سے متعلق اہم اعداد و شمار اور حقائق:
• حملہ آوروں کی تعداد: 30 سے زائد مسلح دہشت گرد۔
• نشانہ بننے والی جگہ: سپین میلہ پولیس پوسٹ، حسن خیل (پشاور)۔
• حملہ آوروں کا رخ: موسیٰ زئی درہ کی جانب سے دو طرفہ پیش قدمی۔
• استعمال شدہ اسلحہ: بھاری خودکار ہتھیار، راکٹ اور ہینڈ گرینیڈ۔
• نتیجہ: پولیس کی جوابی فائرنگ سے تمام دہشت گرد فرار، پوسٹ محفوظ۔

حسن خیل اور سپین میلہ کا جغرافیائی و سیکیورٹی پس منظر

پشاور کا علاقہ حسن خیل، جو سابقہ قبائلی علاقے (ایف آر پشاور) کا حصہ رہا ہے، جغرافیائی اعتبار سے انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ دروں، پہاڑی سلسلے اور سابق فاٹا کے بارڈر سے متصل ہونے کی وجہ سے عسکریت پسندوں کے لیے ماضی میں بھی نقل و حرکت کا ایک ذریعہ رہا ہے۔

  • قبائلی اضلاع سے انضمام: فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد پولیس نے ان سرحدی علاقوں میں باقاعدہ چیک پوسٹیں اور نظام قائم کیا ہے۔
  • پولیس کے لیے چیلنجز: کھلے اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے رات کے تاریک حصوں یا صبیح کے اوقات میں عسکریت پسند اکثر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہلی دفاعی لائن کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • سابقہ واقعات: اس سے قبل بھی پشاور کے مضافاتی علاقوں جیسے مہمند، بنوں اور خیبر سے ملحقہ پولیس چوکیوں پر ایسے حملے دیکھنے میں آئے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا پولیس نے ان صفِ اول کے مورچوں پر مسلسل پائیداری کا ثبوت دیا ہے۔

واقعہ کے بعد سیکیورٹی اقدامات اور سرچ آپریشن

سپین میلہ پولیس پوسٹ پر حملہ ناکام ہونے کے فوراً بعد پشاور پولیس، فرنٹیئر کانسٹبلری (FC) اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفلری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس حکام نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور موسیٰ زئی درہ سمیت ارد گرد کی پہاڑیوں میں دہشت گردوں کا پتہ لگانے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، جوابی فائرنگ میں کئی عسکریت پسندوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی حتمی تصدیق سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر بھی تلاشی کا عمل سخت کر دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کا عزم اور تجزیا

خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیس کو مسلسل نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ماہرینِ سیکیورٹی کا ماننا ہے کہ پولیس پوسٹوں پر حملوں کا مقصد سیکیورٹی فورسز کا مورال گرانا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا ہے، لیکن پولیس اہلکاروں کا دلیری سے مقابلہ کرنا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ اور ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

سی سی پی او اور اعلیٰ حکام نے سپین میلہ پوسٹ کے اہلکاروں کی شجاعت کو سراہتے ہوئے انہیں انعام اور تقدیر نامے دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے پولیس کا جذبہ سرفروشانہ ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

کیا آپ اس آرٹیکل میں مزید کوئی مخصوص معاشی اثرات یا صوبائی سیکیورٹی پالیسی کا تبصرہ شامل کروانا چاہتے ہیں؟

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔