Preloader
Chief Justice Sindh High Court visited Jamshoro

اہم نکات (مختصر خلاصہ)

  • ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح: چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جامشورو میں خواتین کے سہولت مرکز، فیملی کورٹ میٹنگ روم اور آر او واٹر فلٹریشن پلانٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
  • چھ ماہ میں وعدوں کی تکمیل: ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جامشورو سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ دورے کے دوران سائلین اور وکلا سے کیے گئے تمام وعدے چھ ماہ کی قلیل مدت میں پورے کر دیے گئے ہیں۔
  • شمسی توانائی اور ای ٹیکنالوجی کا فروغ: ایکسیس ٹو جسٹس پروگرام کے تحت جامشورو، مانجھند، سیہون اور تھانہ بولا خان کی عدالتوں و بار ایسوسی ایشنز میں سولر سسٹمز اور ای لائبریریاں قائم کر دی گئی ہیں۔
  • سائلین کے لیے بنیادی سہولیات: عدالتوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، انتظار گاہیں اور خواتین کے لیے خصوصی مراکز کو فوقیت دی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

تعارف: عدالتی نظام میں عوامی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت

جامشورو (خصوصی رپورٹ: محمد نصیر ساگر): انصاف کی فراہمی صرف عدالتوں میں فیصلے سنانے تک محدود نہیں، بلکہ سائلین کو عدالتی احاطے میں پرامن اور سہولت بخش ماحول فراہم کرنا بھی عدالتی اصلاحات کا ایک اہم ترین جزو ہے۔ اسی سلسلے میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جامشورو کا ایک اہم اور تاریخی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر عدالتی انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور دور دراز علاقوں سے آنے والے شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات کو یقینی بنانا تھا۔

افتتاحی تقریب کے بعد چیف جسٹس نے عدالتی احاطے میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا اور نو ساختہ آر او پلانٹ کے پانی کے معیار کا خود معائنہ کرنے کے لیے پانی پی کر اس کی شفافیت کی تصدیق کی۔ اس موقع پر اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان، مقامی انتظامیہ اور قانونی برادری کے معزز اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اعلیٰ عدالتی وفد اور تقریب کے شرکاء

اس اہم دورے کے موقع پر چیف جسٹس کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان جن میں جسٹس ریاضت علی ساہڑ، جسٹس جان علی جونیجو، اور جسٹس محمد ہمایوں خان شامل تھے، موجود رہے۔

اس کے علاوہ عدالتی اور انتظامی افسران نے بھی تقریب میں شرکت کی:

  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جامشورو: شاہد احمد اعوان
  • ڈپٹی کمشنر جامشورو: غضنفر علی قادری
  • صدر جامشورو بار ایسوسی ایشن: حیدر علی انڑ
  • رکن سندھ بار کونسل: میر احمد منگریو
  • رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ: آصف مجید قریشی
  • دیگر شرکاء: سینئر وکلا، عدالتی عملہ اور مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام۔

جامشورو ڈسٹرکٹ کورٹ میں فراہم کردہ سہولیات کے اعداد و شمار

چیف جسٹس کے فرمان کے مطابق ایکسیس ٹو جسٹس پروگرام اور ترقیاتی اداروں کے تعاون سے جامشورو کی عدالتوں میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان سہولیات کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. توانائی کی خودکفالتی: ڈسٹرکٹ کورٹ جامشورو کے لیے 12 کلوواٹ کا سولر پاور سسٹم نصب کیا گیا ہے تاکہ بجلی کی عدم فراہمی کے دوران عدالتی کارروائی میں خلل نہ پڑے۔
  2. تحقیق اور ای ٹیکنالوجی: وکلا اور ججوں کے قانونی امور اور ریسرچ کی آسان فراہمی کے لیے ای لائبریری اور ای کیوسک (e-Kiosk) کی سہولت دی گئی ہے۔
  3. خواتین اور فیملی کورٹ کے لیے اقدامات: خواتین کے لیے علیحدہ سہولت مرکز، انتظار گاہ، میٹنگ روم اور فیملی کورٹ کے لیے 2 ایئرکنڈیشنرز فراہم کیے گئے ہیں۔
  4. صاف پانی کا انتظام: فلٹریشن کی سہولت سے آراستہ 8 اسٹیل واٹر کولرز اور ایک صنعتی درجے کا آر او واٹر پلانٹ نصب کیا گیا ہے۔
  5. بار ایسوسی ایشن کا حصہ: جامشورو بار ایسوسی ایشن کو 6 کلوواٹ کا سولر سسٹم، ای لائبریری، 2 ای کیوسک اور 4 واٹر ڈسپنسر مہیا کیے گئے ہیں۔

ذیلی اضلاع اور ضلعی عدالتوں تک اصلاحات کا دائرہ کار

انصاف کے انفراسٹرکچر میں بہتری کے اس منصوبے کو صرف ضلع ہیڈکوارٹر تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ سب ڈویژنل سطح پر مانجھند، سیہون اور تھانہ بولا خان کی عدالتوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے:

  • سیہون کورٹ: 6 کلوواٹ کا سولر سسٹم، ای لائبریری، اور خواتین کا سہولت مرکز۔
  • سیہون بار ایسوسی ایشن: 3 کلوواٹ کا سولر سسٹم اور ای لائبریری۔
  • مانجھند کورٹ: 3 کلوواٹ کا سولر سسٹم۔
  • تھانہ بولا خان (T.B Khan) کورٹ: 3 کلوواٹ کا سولر سسٹم اور ای لائبریری۔

انسانی ہمدردی کا پس منظر: سائلین کی محرومیوں کا احساس

بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ایک جذباتی اور انسانی ہمدردی سے بھرپور واقعہ شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً سات سال قبل جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ جیکب آباد کا دورہ کیا تو شدید گرمی کے عالم میں ایک غریب شخص کو دو چھوٹے بچوں کے ساتھ ننگے پاؤں عدالت کی تپتی ہوئی زمین پر چلتے دیکھا۔

اس منظر نے ان کے دل پر گہرا اثر چھوڑا اور انہوں نے محسوس کیا کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کس قدر شدید مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ اسی واقعہ نے انہیں ترغیب دی کہ عدالتوں میں محض قانونی کارروائی ہی نہیں بلکہ سائلین کے لیے پینے کا صاف پانی، سایہ دار انتظار گاہیں اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس ماڈل کی شروعات نگرپارکر میں سول جج کی عدالت سے کی گئی تھی، جہاں آر او پلانٹ، ای لائبریری اور دیگر سہولیات دے کر اسے ماڈل کورٹ بنایا گیا اور اب اسی طرزِ عمل کو پورے صوبے کی عدالتوں میں لاگو کیا جا رہا ہے۔

مستقبل کے منصوبے: بار کی توسیع اور جوڈیشل کمپلیکس

مقامی قانونی برادری کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس نے درج ذیل بنیادی منصوبوں پر ترجیحی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی:

  1. بار کی عمارت میں توسیع: ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جامشورو کی عمارت میں توسیع کا کام فوری شروع کیا جائے گا۔
  2. پارکنگ کی سہولت: مانجھند کورٹ میں گاڑیوں کی سیکیور پارکنگ کے لیے سروے مکمل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
  3. جوڈیشل کمپلیکس کے لیے مزید فنڈز: جوڈیشل کمپلیکس جامشورو کے لیے مزید دو سولر سسٹمز اور جدید واٹر کولرز کا منصوبہ زیر غور ہے۔

سیکیورٹی انتظامات اور انتظامی اجلاس

چیف جسٹس کے دورۂ جامشورو کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سندھ پولیس کی جانب سے کڑے سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ عدالت کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

برنامے کے اختتام پر چیف جسٹس نے عدالتی افسران کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس کیا جس میں زیر التوا مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور سائلین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہدایات دیں۔ انہوں نے جامشورو سے اپنی ماضی کی وابستگی کو بھی یاد کیا اور قانونی برادری کے ساتھ مضبوط پیشہ ورانہ تعلقات کو سراہا۔

ایڈیٹوریل نوٹ (تجزیاتی تبصرہ)

ایک معروضی اور باوقار صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا یہ قدم صوبائی عدالتی نظام میں شفافیت اور عوامی سہولت کاری کی ایک بہترین مثال ہے۔ پاکستان کی ضلعی عدالتوں میں اکثر و بیشتر شہریوں کو طویل انتظار، گرمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

گرین انرجی (سولر سسٹمز) اور ای ٹیکنالوجی کا امتزاج نہ صرف عدالتی کام کاج کو تیز تر بنائے گا بلکہ قومی خزانے پر بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی کم کرے گا۔ جب انصاف کے ایوانوں میں عام سائلین کی بنیادی انسانی ضروریات جیسے پینے کے صاف پانی اور بیٹھنے کی جگہ کا خیال رکھا جائے گا تو اس سے عدلیہ کے بارے میں عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انصاف کی فراہمی کا نظام صحیح معنوں میں لوک دوست بنے گا۔