پشاور: قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پچھلے 13 سالوں سے بدحالی، بدامنی اور معاشی تنزلی کا شکار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے صرف احتجاجی سیاست اور دھرنوں میں وقت ضائع کیا، جس کے نتیجے میں صوبے کو شدید نقصان پہنچا اور بالآخر گورنر راج جیسے ناپسندیدہ اقدام کی نوبت آئی۔ 📌 اہم نکات (خلاصہ) حکمرانی اور کارکردگی: خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سالوں سے مسلط حکمرانوں نے صوبے کو معاشی و انتظامی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ دہشت گردی اور امن و امان: صوبے کے جنوبی اضلاع، کوہاٹ، ہنگو اور دیر سمیت دیگر علاقوں میں خوف کی فضا قائم ہے، لیکن صوبائی حکومت کی ترجیحات میں امن شامل نہیں رہا۔ مذاکرات اور احتجاجی سیاست: وفاق کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت اور سوشل میڈیا گروپس نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس سے حالات بگاڑ کی طرف گئے۔ شفافیت پر سوالات: پشاور کی بیوٹیفکیشن اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز میں شدید بے ضابطگیوں اور کرپشن کا الزام۔ وفاق سے مطالبات: گورنر راج کے بعد وفاقی حکومت اور وزیر اعظم پر وزرائے کے ساتھ صوبے کا دورہ کرنے اور عوامی مشکلات کا فوری حل نکالنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی اور 13 سالہ حکمرانی کا جائزہ قومی وطن پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے صوبے کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پچھلے 13 سالوں سے جن حالات سے گزر رہا ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ “سیاست کی سمت تبدیل ہو چکی ہے اور مسلسل ناکام تجربات اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے عام لوگ سیاست اور سیاسی عمل سے مایوس ہو چکے ہیں۔ یہ کیسی سیاست ہے کہ ایک حکومت پانچ سالوں میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھائے، صوبے پر کرپشن کا دور دورہ ہو، اور اس کے باوجود وہ دوبارہ اقتدار میں آ جائے؟” انہوں نے مزید کہا کہ جب سابق وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ اور اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کیا، تو صوبہ مکمل طور پر حکمرانی سے محروم ہو چکا تھا۔ صوبائی حکومت سٹریٹ موومنٹ اور وفاق کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف تھی، جبکہ صوبے میں دل دہلا دینے والے دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے جن سے حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ امن و امان کی بپھرتی صورتحال اور جنوبی اضلاع کے خدشات خبر کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع پچھلے کچھ عرصے سے دہشت گردی کی نئی لہر کی زد میں ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ نے اپنے خطاب میں امن و امان کے مسئلے کو سب سے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع (وزیرستان، بنوں، لکی مروت، ٹانک) کے علاوہ کوہاٹ، ہنگو اور دیر میں حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ لوگ راتوں کو خوف کے باعث سو نہیں سکتے۔ عوام کی جان و مال غیر محفوظ ہے اور ہر روز ناخوشگوار واقعات جنم لے رہے ہیں۔ “پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور ان کی صوبائی حکومت نے اس صوبے میں امن کے قیام کے لیے کچھ نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کے رہنما سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ 100 دن کے اندر امن قائم کر دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک صوبہ اور مرکز ایک پیج پر نہ ہوں اور سنجیدہ حکمت عملی نہ اپنائی جائے، دہشت گردی پر قابو پانا ناممکن ہے۔” — آفتاب احمد خان شیرپاؤ مذاکرات کی ناکامی، لانگ مارچ اور گورنر راج کی نوبت آفتاب احمد شیرپاؤ نے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے انہیں بقائے باہمی اور بات چیت کی دعوت دی اور دو دن تک مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ سوشل میڈیا اور غلط اندازے: انہوں نے کہا کہ میں نے خود اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں۔ لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ 20 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لے جا کر وفاق کو یرغمال بنا لیں گے۔ احتجاج کی ناکامی: تاہم سوشل میڈیا اور زمینی حقائق سے پتہ چلا کہ عوام ان کی احتجاجی کال پر باہر نہیں نکلے۔ نتائج: مذاکرات میں ناکامی کی تمام تر ذمہ داری پی ٹی آئی کی عدم سنجیدہ قیادت اور ان کے سوشل میڈیا گروپس پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے لانگ مارچ کا شوق تو پورا کر لیا، لیکن بدلے میں صوبے کی حکمرانی اور عوام کا اعتماد کھو دیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی اور آئینی بحران کے باعث یہ مجبوری کے تحت لگانا پڑا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کس نے انہیں غلط راستے پر دھکیلا، کیونکہ مشورہ دینے والے ان کے خیر خواہ نہیں تھے۔ خیبر پختونخوا کا انتظامی و تعلیمی بحران: اہم اعداد و شمار آفتاب شیرپاؤ نے اپنے خطاب میں صوبے کے انتظامی و مالیاتی مسائل کے کچھ اہم پہلوؤں کی نشاندہی بھی کی: تعلیمی بحران: صوبے میں اس وقت تقریباً 50 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جو ایک نسل کی تباہی کے مترادف ہے۔ مقامی حکومتیں (Local Government): لوکل گورنمنٹ کے نمائندوں کو کوئی واقعی اختیارات یا فنڈز منتقل نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے بنیادی مسائل گلی محلوں کی سطح پر حل نہیں ہو پا رہے۔ مالیاتی بے ضابطگیاں: پشاور کی زیبائش و آرائش (Beautification) کے لیے مختص کردہ 200 ارب روپے کے فنڈز میں سے 100 ارب روپے لوٹ مار اور کرپشن کی نذر ہو گئے۔ حقوق کا استحصال: صوبے کے اپنے وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا اور صوبائی حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک بار بھی بین الصوبائی میٹنگ یا آل پارٹیز کانفرنس تک نہیں بلائی۔ مستقبل کا لائحہ عمل اور وفاق سے مطالبات قومی وطن پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ پی ٹی آئی سے سوال کریں کہ انہوں نے 13 سالہ مسلسل اقتدار میں صوبے کے لیے کیا کیا؟ ہر طرف افراتفری کا ماحول بنایا گیا اور حکمرانی کا جنازہ نکال دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج کے بعد اب تمام تر اختیارات گورنر اور وفاقی حکومت کے پاس چلے گئے ہیں، اور اب ان کا حقیقی امتحان شروع ہوتا ہے۔ امداد اور ریلیف: وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ لفاظی کے بجائے صوبے کے عوام کی مشکلات کا عملی حل نکالے۔ مرکزی قیادت کا دورہ: وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزراء فوری طور پر خیبر پختونخوا کا دورہ کریں اور ریلیف پیکیج کا اعلان کریں۔ امن و امان کی بحالی: امن قائم ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوگی اور غریب عوام کی غربت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ قومی وطن پارٹی صوبے کی ایک متحرک اور فعال سیاسی قوت ہے جس نے ہمیشہ ہر دور میں خیبر پختونخوا کے حقوق اور امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ہم اب بھی تمام تر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے میں امن اور عوام کی خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ 📝 ایڈیٹوریل نوٹ (Editorial Note) یہ آرٹیکل قومی وطن پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب میں کی گئی تقریر اور جاری کردہ پریس ریلیز کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ خبر میں شامل تمام دعوے اور الزامات متعلقہ سیاسی شخصیت (آفتاب احمد خان شیرپاؤ) کا موقف ہیں، جبکہ پی ٹی آئی یا وفاقی حکومت کا سرکاری نقطہ نظر متعلقہ دفاتر سے جاری کردہ بیانات کے مطابق منسلک کیا جا سکتا ہے۔ Post navigation نوشہرہ: تھانہ نظام پور پولیس کی بڑی کامیابیاں، ڈکیت گینگ کا سرغنہ رقم سمیت گرفتار، قتل کے مقدمے کا نامزد ملزم بھی پولیس کی گرفت میں